اردوئے معلیٰ

آج پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے مشہور و معروف ناول نگار، افسانہ نگار اور شاعر ایم اسلم کا یومِ وفات ہے ۔

ایم اسلم (پیدائش: 6 اگست، 1885ء- وفات: 23 نومبر، 1983ء)
——
ایم اسلم پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے مشہور و معروف ناول نگار، افسانہ نگار اور شاعر تھے جو اپنی تاریخی ناول نگاری کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں۔
ایم اسلم 6 اگست، 1885ء کو لاہور کے ایک معزز خاندان میں پیدا ہوئے ۔ ان کا اصل نام میاں محمد اسلم تھا۔ ان کے والد میاں نظام الدین ایک بزرگ اور نیک خصلت انسان تھے جنھوں نے قوم کی اصلاح و بہبود کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی تھی۔ ایم اسلم نے گورنمنٹ کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی۔ علامہ اقبال اس وقت فلسفہ کے پروفیسر تھے، وہ ایم اسلم کو عزیز رکھتے تھے۔ ان کے ادبی ذوق کی تربیت میں اقبال کا اہم کردار تھا۔ اقبال نے ہی ایم اسلم کو نثرنگاری کی جانب کی طرف توجہ دلائی۔ ایم اسلم نے ادب کی تمام اصناف میں طبع آزمائی کی۔ ان کی ادبی زندگی کا آغاز شعر و شاعری سے ہوا لیکن انہوں نے تنقیدی مضامین اور افسانے لکھے، ناول میں تو ان کی ایک خاص شناخت بن گئی۔ ان کے افسانوں اور ناولوں میں رومان، تصور، تخیل، حقیقت، حزن و طرب نمایاں ہے۔ ان کے افسانوں میں ہندوستان کے دیہات اور شہروں کی زندگی کے علاوہ یورپ، مصر، روس، ترکستان، عرب، چین اور جاپان کے رسم و رواج اور باشندوں کے طور طریقے خاص طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے 200 سے زائد ناول تحریر کیے۔ ان کے مشہور ناولوں فاطمہ کی آپ بیتی، عروس غربت، معرکۂ بدر، فتح مکہ، صبح احد، معاصرۂ یثرب، ابو جہل، جوئے خون، پاسبان حرم، شمشیر ستم، بنتِ حرم، غزالہ صحرا، فتنۂ تاتار، خون شہیداں، رقص ابلیس، مرزا جی، گناہ کی راتیں، رقص زندگی اور افسانوی مجموعوں میں صدا بصحرا، نغمہ حیات اور گنہگار سرِ فہرست ہیں ۔ اس کے علاوہ انہوں نے انگریزی سے ترجمے بھی کیے۔ پھر انہوں نے وارث شاہ کی شاہکار تخلیق ہیر رانجھا کا پنجابی زبان سے نہایت بہترین اردو ترجمہ بھی کیا۔
——
یہ بھی پڑھیں : مولوی اسلم کا یومِ وفات
——
ایم اسلم 23 نومبر 1983ء کو لاہور، پاکستان میں وفات پاگئے۔ وہ لاہور میں میانی صاحب کے قبرستان میں سپردِ خاک ہوئے۔
——
200 سے زیادہ ناولوں کے مصنف ایم اسلم از اسلم ملک
——
میاں محمد اسلم 6 اگست 1885 کو لاہور میں پیدا ہوئے اور ساری عمر لاہور میں ہی رہے۔ 23 نومبر 1983 کو وفات پائی اور میانی صاحب میں آسودۂ خاک ہوئے۔
ایم اسلم نے اپنی مرضی کی زندگی گزاری۔ شہری جائیداد کی وجہ سے فکرِ معاش تھی نہیں۔ بس گراموفون سنتے تھے اور ناول لکھتے تھے۔ شلوار قمیص پہنتے تھے ،اوپر شوخ رنگ کی ٹائی باندھتے تھے۔ کہتے تھے یہ میرا شوق ہے۔
دوستوں کی خاطر تواضع بہت کرتے تھے لیکن دوست کھانے کے بعد ان سے ناول کا باب سننے سے خائف رہتے تھے۔ ایک بار شائد قتیل شفائی نے کہا ، میاں صاحب ، لوگ آپ کے بارے میں غلط بات کرتے ہیں،
پوچھا ، کیا ؟
قتیل نے کہا، کہ آپ زبردستی ناول سناتے ہیں، حالانکہ ایسی تو کوئی بات نہیں،
میاں صاحب نے کہا ، ہاں ، ہاں
اور یوں احباب اس روز ناول سننے سے محفوظ رہے !
ایک بار کسی کے سوال پر بتایا کہ زیادہ غوروفکر کی ضرورت نہیں پڑتی ، بس کوئی گراموفون ریکارڈ لگا کر سنتا ہوں اور ناول کا پلاٹ ذہن میں آجا تا ہے۔
ان کے والد میاں نظام دین علامہ اقبال کے دوست تھے۔ ایم اسلم پہلے شاعری کرتے تھے، علامہ اقبال کو دکھائی تو انہوں نے مشورہ دیا کہ نثر لکھا کریں ۔ انہوں نے یہ مشورہ قبول کرکے ناول افسانے لکھنا شروع کئے اور اردو فکشن کے ایک لاکھہ سے زیادہ صفحات لکھہ کر ایک ریکارڈ قائم کرڈالا !
ناظمہ کی آپ بیتی،عروسِ غربت، معرکۂ بدر،جوئے خون، پاسبانِ حرم، شمشیرِستم، بنتِ حرم، فتحِ مکہ، صبحِ احد، ابو جہل، غزالۂ صحرا ،فتنۂ تاتار ،خونِ شہیداں ، رقصِ ابلیس ، مرزا جی، گناہ کی راتیں ،جہنم ،حسنِ سوگوار ، خار و گل ،رقصِ زندگی ، راوی کے رومان ،درِ توبہ اور شامِ غریباں ایم اسلم کے مشہور ناول ہیں۔
میاں یوسف صلاح الدین کی جس حویلی کا آج کل بہت چرچا ہے، وہ میاں ایم اسلم کی ہی تھی۔ ان کی اولاد نہیں تھی، اس لئے ان کی حویلی پہلے ان کے کزن میاں امیر الدین کو ملی. ان سے ان کے بیٹے اور علامہ اقبال کے داماد میاں صلاح الدین ( میاں صلی، جو ایم این اے بھی بنے ) کے حصے میں آئی اور پھر ورثے میں میاں یوسف صلاح الدین کے۔
——
یہ بھی پڑھیں : اسلم انصاری کا یوم پیدائش
——
علامہ اقبال کی صاحبزادی منیرہ کا نکاح میاں صلاح الدین سے ہوا تو خاندان کے بزرگ کی حیثیت کی سے میاں اسلم نے نکاح نامے پر گواہ کے طور پر دستخط کئے۔ اس کا عکس محترم منیب اقبال نے فراہم کیا ہے۔
ڈاکٹر انور سدید مرحوم کے صاحبزادے مسعود انور بتاتے ہیں ۔۔۔ 1976 میں ڈینٹل کالج کے قریب انکی رہائش گاہ کے سامنے سے ابا جی کے ساتھہ گزر رہا تھا۔ ایم اسلم باہر کھڑے تھے۔ اباجی بولے جلدی سے نکل چلو ۔ مگر اسلم صاحب کی نظر پڑ گئی اور آواز دے کر بلا لیا۔ چائے بسکٹ کے ساتھہ دو باب ناول کے سنے۔ ابا جی نے بتایا کہ انہوں نے فائلیں بنائی ہوئی ہیں۔ بارش کا منظر 20 صفحات۔ پہلی ملاقات 15 صفحات وغیرہ۔ ناول میں جیسا مقام آتا ھے فائل کھول کر صفحات فٹ کر دیتے ھیں۔
——
منتخب کلام
——
ہائے کتنی اداس ہے دنیا
ایک تصویرِ یاس ہے دنیا
——
نوائے درد
ہائے کیا چیز محبت کی نظر ہوتی ہے
درد اٹھتا ہے کہاں ، چوٹ کدھر ہوتی ہے
عازمِ ملکِ عدم قافلے ہوتے ہیں سدا
کون ، کب جائیگا ؟ کس کو خبر ہوتی ہے
راحتیں لاکھ فدا ، اُس پہ میں کر دوں اسلمؔ
بے کلی سی جو مجھے شام و سحر ہوتی ہے
——
تمنائے دلِ مضطر ہو ، میں ہوں اور بس تو ہو
یہ وہ حسرت ہے جس حسرت کی خود حسرت کو حسرت ہے
——
ہوئی عُنقا وفا زمانے سے
نام بدنام ہے محبت کا
جس طرح سے بنے گذارہ کر
اب زمانہ نہیں شکایت کا
——
میکدہ تیرا ہمیشہ رہے پر اے ساقی
طپش اندوزیٔ دل کے تو وہ ساماں نہ رہے
قیس اڑائے نہ جنوں سے جو کبھی گرد و غبار
سُرمہ پھر زیب دہِ چشمِ غزالاں نہ رہے
——
فرقتِ محبوب میں لازم ہے دل سوزاں رہے
آنکھ کا مقصد یہی ہے یاد میں پُرنم رہے
——
حوالہ جات
——
شعری انتخاب از پیغامِ سروش ، مصنف : ایم اسلم
شائع شدہ : 1927 ۔ متفرق صفحات
تحریر : اسلم ملک بحوالہ فیس بک صفحہ ، اسلم ملک
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات