اردوئے معلیٰ

آج نامور نقاد،ڈرامہ نگار ،اردو اور فارسی کے شاعر سید عابد علی عابد کا یومِ وفات ہے

 

عابد علی عابد
(پیدائش: 17 ستمبر 1906ء – وفات: 20 جنوری 1971ء)
——
سید عابد علی عابد (ایم اے، ایل ایل بی) اردو اور فارسی کے شاعر، نقّاد اور ڈراما نگار اور ديال سنگھ کالج، لاہور کے پرنسپل تھے۔
عابد علی عابد 17 ستمبر، 1906ء کو ڈیرہ اسماعیل خان، پاکستان میں پیدا ہوئے۔ عابد علی عابد تنقید نگاری کے لیے بہت مشہور تھے۔ ان کے سینکڑوں شاگرد ہیں۔ وہ ریڈیو پاکستان لاہور کے ابتدائی ڈرامے اور فیچر لکھنے والوں میں سے تھے۔ انہوں نے 1940ء اور 1950ء کی دہائیوں میں ریڈیو کے لیے بے شمار ڈرامے لکھے۔ پنجاب کی سب سے پہلی بولتی فلم ہیر رانجھا (1931ء) کی کہانی اور مکالمے انہوں نے لکھے تھے۔ دیال سنگھ کالج کے پرنسپل کی حیثیت سے انہوں نے اردو زبان کے لیے بہت کام کیے۔
عابد علی عابد 20 جنوری، 1971ء کو لاہور، پاکستان میں وفات پاگئے۔
——
سید عابد علی عابد ، ایک ٹریجڈی ہیرو از خواجہ محمد زکریا
——
سید عابد علی عابد میرے استادوں کے استاد تھے۔ قدرت نے انھیں متنوع صلاحیتیں عطا کی تھیں۔ وہ بیک وقت شاعر، نقاد، ڈراما نگار، ناول نویس، مدون و مرتبِ کتب، مترجم اور خدا جانے کیا کیا کچھ تھے۔ بہت اچھے استاد تھے اور قوی حافظے کی وجہ سے بہت کچھ ازبر تھا چنانچہ تدریس میں پرچیوں سے مدد لینے کے محتاج نہیں تھے۔ اللہ نے حسن صورت بھی خوب دیا تھا۔ رنگ گورا، قد لمبا اور اعضا متناسب۔ عینک لگاتے جو ان کے چہرے پر جچتی تھی۔ انھوں نے بے شمار کتابیں لکھیں اور اس سے زیادہ تعداد میں کتابیں مرتب کیں۔ کسی زمانے میں بطورِ شاعر انھیں بڑی اہمیت حاصل تھی۔ تحت اللفظ خوب پڑھتے تھے اگرچہ آواز قد و قامت کے مقابلے میں قدرے باریک تھی۔ تحقیقی وتنقیدی مضامین اور کتابیں تواتر سے شائع ہوتی رہتی تھیں۔ انا بہت توانا تھی۔ انکسار سے بات شروع کرتے تھے لیکن استکبار جلد ہی غالب آ جاتا تھا۔ جوانی میں ایل ایل بی کرکے گجرات میں چند سال وکالت کا پیشہ اپنایا لیکن چھوڑ دیا یا چھوڑنا پڑا۔ ایک بار پھر لاہور آ گئے جہاں سے کئی سال پہلے انھوں نے سکول کی تعلیم مکمل کی تھی۔
——
یہ بھی پڑھیں : سید عابد حسین کا یومِ پیدائش
——
1930ء میں ایم اے فارسی کیا اور دیال سنگھ کالج لاہور میں فارسی اور اردو پڑھانے لگے۔ یہ کالج ایک ٹرسٹ کے زیرِ انتظام چلتا تھا جسے سردار دیال سنگھ نے قائم کیا تھا اور بہت معیاری ادارہ سمجھا جاتا تھا۔ اس میں ان دنوں صرف دو مسلمان اساتذہ تھے۔ عابد علی عابد اور ان کے سینئر رفیق کار تاجور نجیب آبادی۔ مشاعرے بکثرت منعقد ہوتے تھے۔ مقامی مشاعروں کا رواج حد و شمار سے باہر تھا۔ لیکن کل ہند مشاعرے بھی بڑی دھوم دھام سے ہوتے تھے۔ مختلف اوقات میں اصغر گونڈوی، جگر مراد آبادی، یاس یگانہ چنگیزی وغیرہ نے بھی یہاں سکونت اختیار کی اور ملازمت کے ساتھ ساتھ ادبی محفلوں کی رونق خوب بڑھائی۔ شعرا میں گروہ بندی بھی بہت شدید تھی اور انا سے انا خوب ٹکراتی تھی اور بہت گرما گرمی رہتی تھی۔ عابد علی عابد کے بھی بہت سے شاگرد تھے اور اس زمانے میں ہر استاد شاعر شاگردوں کی کثرت پر فخر کرتا تھا۔ عابد کے بہت سے شاگرد محض شاعری میں ان کے شاگرد نہیں تھے بلکہ انھوں نے کلاسوں میں بھی باقاعدہ ان سے استفادہ کیا تھا جیسے قیوم نظر، وحید قریشی، شہرت بخاری، سجاد رضوی، جابر علی سید اور مرزا منور وغیرہ۔ وہ چونکہ بہت اچھے استاد تھے اور ان کے لیکچر بہت دلچسپ ہوتے تھے۔ اس لیے شاگردوں کا ان کے ساتھ ایک طرح سے پیری مریدی کا سلسلہ استوار ہو جاتا تھا۔
قیامِ پاکستان کے فوراً بعد دیال سنگھ کالج کے تمام ٹرسٹی فسادات کے باعث ہندوستان چلے گئے۔ چونکہ کوئی ٹرسٹی مسلمان نہیں تھا اس لیے ٹرسٹیوں سے رابطہ کرکے نئے سرے سے ٹرسٹ کے ممبر بنائے گئے۔ عابد علی عابد ٹرسٹ کے ممبر بن گئے اور ساتھ ہی دیال سنگھ کالج کے پرنسپل کا عہدہ بھی انھیں مل گیا۔ ابتدا میں تو یہ نیا انتظام کچھ ٹھیک ہی چلا۔ عابد اپنی وجیہہ شخصیت، لبرل انتظامی رویے اور ادبی شہرت کی وجہ سے طلبہ میں پسند کیے جاتے تھے مگر جلد ہی ٹرسٹ سے ان کی ٹھن گئی اور مقدمے بازی تک نوبت پہنچ گئی۔ کچھ عرصہ پہلے انھوں نے دوسری شادی کر لی تھی اور ان کی پہلی بیگم ناراض ہو کر اپنے آبائی شہر گجرات چلی گئی تھی۔ اس زمانے میں یہ مشہور تھا کہ عابد علی عابد ایران میں پاکستان کے سفیر مقرر ہونے والے ہیں۔ لوگ نئی شادی کو اس پس منظر میں بھی دیکھنے لگے۔ لیکن دوسری بیوی سے تعلقات جلد ہی خراب ہو گئے اور اس نے بھی ان پر مقدمہ کر دیا۔ ملازمت سے فارغ ہو گئے اور ہر لمحہ انھیں یہ دھڑکا لگا رہتا تھا کہ عدالت انھیں قید کی سزا نہ سنا دے۔
——
یہ بھی پڑھیں : عابد علی عابد کا یومِ وفات
——
شدید ابتلا کے ان دنوں میں انھوں نے روحانیت کی طرف بھی رجوع کیا۔ کہا کرتے تھے کہ وہ کسی دوست کے کہنے پر ایک روحانی شخصیت کے پاس گئے جو باقاعدہ کفش دوزی کا کام کرتا تھا۔ اس نے انھیں دیکھتے ہی بلا تمہید کہا کہ ’بری ہو جاؤ گے‘ (میں نے یہ بات خود عابدسے سنی ہے)۔ وہ خلافِ توقع مقدمات سے بری ہو گئے لیکن اس دوران سکونِ قلب کے لیے انھوں نے مارفیا کا استعمال شروع کر دیا۔ وہ جوانی میں اختر شیرانی کے بہت قریب رہے تھے اس لیے شراب کے رسیا بھی تھے لیکن اس نئے نشے نے ان کی صحت پر بہت ناگوار اثر ڈالا۔ بے روزگاری کے وقفے بھی آتے رہے جس سے گزر اوقات مشکل ہو گئی۔ سید امتیاز علی تاج انھیں مجلس ترقی ادب میں لے گئے جہاں وہ رسالہ ’صحیفہ‘ کئی سال نکالتے رہے جو یقینا ایک معیاری ادبی رسالہ تھا۔ اب ان کی صحت جواب دے گئی تھی۔ لکھنے پڑھنے کا کام کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جاتا تھا۔ آخر انھیں اجازت دے دی گئی کہ وہ گھر بیٹھ کر معاوضے پر مجلس ترقی اد ب کے لیے تصنیف و تالیف کا کام کریں۔ اس دوران غالباً بیماری اور بے روزگاری سے تنگ آ کر انھوں نے ایک خاتون محبوب صدیقی سے تیسری شادی کر لی جو کالج میں فارسی کی لیکچرار تھی۔ اس خاتون نے برے حالات میں ان کا بہت ساتھ دیا۔ عابد بہت علیل رہتے تھے مگر بدقسمتی سے بیگم کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہو گئیں۔ ان دنوں عابد کی صحت بالکل جواب دے چکی تھی۔ جنوری 1971ء میں ہسپتال میں بہ عمر 65 سال ان کا انتقال ہو گیا اور ان کی وفات کے ایک سال کے اندر اندر محبوب صدیقی بھی دنیا سے کوچ کر گئیں۔
جیسا کہ اوپر لکھا جا چکا ہے عابد علی عابد کا علمی اور ادبی ورثہ مقدار میںبہت زیادہ ہے تاہم ان کی دو حیثیتیں ممتاز سمجھی گئی ہیں یعنی شاعر اور نقاد۔ میرے نزدیک یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ ان میں سے کس کو اہم تر قرار دیا جائے۔ اپنے زمانے میں وہ مشاعروں کے لیے ناگزیر سمجھتے جاتے تھے۔ اب جب کہ ان کی وفات کو پچاس سال سے کچھ زیادہ عرصہ گزر چکا ہے تو بہت سے دیگر معاصرین کی طرح ان کی شاعری کو بھی فراموش کیا جا چکا ہے۔ اب زیادہ تر وہ اپنی ایک غزل بلکہ ایک شعر کی وجہ سے یاد رہ گئے ہیں:
——
دمِ رخصت وہ چپ رہے عابد
آنکھ میں پھیلتا گیا کاجل
——
اگرچہ ان کا عمومی اسلوب اتنا سادہ نہیں ہے۔ وہ شعر میں رعایت لفظی اور بدیع و بیان کا بہت التزام کرتے تھے لیکن ان باریکیوں کو سمجھنے کی اب کسی کو فرصت نہیں۔ علاوہ ازیں، شاعری میں استادی زیادہ ہے مگر جذبہ کم۔ میرے خیال میں ان کی بعض تنقیدی کتابیں اہم تر ہیں۔ ان کی کتاب ’اصولِ انتقادِ ادبیات‘ اعلیٰ کلاسوں کے طلبہ کے لیے بہت مفید ہے۔ ’شعرِ اقبال‘ بعض لحاظ سے جدت کے کئی پہلو لیے ہوئے ہے۔ تاہم بہت اعلیٰ تنقیدی کتاب لکھنے کے لیے جس توجہ، محنت اور انہماک کی ضرورت ہے وہ انھیں میسر نہ آ سکی۔ زمانہ بڑا بے مہر ہے۔ وقت کی چھلنی بہت کم چیزوں کو اس میں سے گزرنے دیتی ہے۔ جوں جوں وقت گزرتا ہے بہت کچھ رد ہو کر ہمیشہ کے لیے ماضی کی گرد میں چھپ جاتا ہے، لگتا ہے یہی کچھ عابد علی عابد کی بیشتر تحریروں کا مقدر ٹھہرے گا۔
——
یہ بھی پڑھیں : سید عابد حسین کا یومِ وفات
——
سید عابد علی عابد کی چند تخلیقات
——
مدیر صحیفہ لاھور
فلسفہ کی کہانی۔ ول ڈوارنٹ کی مشہور کتاب کا اردو ترجمہ
میں کبھی غزل نہ کہتا ۔ شاعری۔ سنگِ میل پبلیکیشنز
اصولِ انتقادِ ادبیات ۔ اردو تنقید کی مشہور ترین کتاب جو ایم اے کے نصاب میں بھی شامل ہے۔
البدیع محسنات۔ شاعری کا انتقادی جائزہ۔ شائع کردہ مجلسِ ترقیِ ادب
البیان۔ شائع کردہ مجلسِ ترقیِ ادب
اسلوب۔ شائع کردہ مجلسِ ترقیِ ادب
شعرِ اقبال۔ سنگِ میل پبلیکیشنز
نظریہ سیاسیِ شیعہ۔ فارسی
طلسمات۔ اردو ناول۔ ھاشمی بک ڈپو
شہباز خان۔اردو ناول۔ سنگِ میل پبلیکیشنز
——
منتخب کلام
——
عابدؔ وہ میرے شعر میں روشن ہے آج کل
جس حرفِ آتشیں کی خریدار ہے بہار
——
شوق سے خود جو مرے راہ نما ہوتے ہیں
مری قسمت کہ وہی آبلہ پا ہوتے ہیں
——
بُت کے راندے ہوئے ، اللہ کے ٹھکرائے ہوئے
آخرِ کار درِ پیرِ مغاں تک پہنچے
——
دمِ رخصت وہ چُپ رہے عابدؔ
آنکھ میں پھیلتا گیا کاجل
——
ابھی سنتا ہوں میں کچھ اور دنیائیں بھی ہیں عابدؔ
معاذ اللہ اسی دنیا میں انسانوں پہ کیا گزری ؟
——
عابدؔ زمانہ ہم کو مٹاتا چلا گیا
ہم نقشِ زندگی کو اُبھارے چلے گئے
——
ہائے وہ شانِ تغافل کہ ہے مجھ سے مخصوص
ہائے وہ عرضِ تمنا کہ تمہیں تک پہنچے
——
چین پڑتا ہے دل کو آج نہ کل
وہی الجھن گھڑی گھڑی پل پل
میرا جینا ہے سیج کانٹوں کی
ان کے مرنے کا نام تاج محل
یا کبھی عاشقی کا کھیل نہ کھیل
یا اگر مات ہو تو ہاتھ نہ مَل
آ رہی ہے صدا پپیہے کی
جس نے سر پر اٹھا لیا جنگل
کیا سہانی گھٹا ہے ساون کی
سانوری نار مدھ بھری چنچل
نہ ہوا رفع میرے دل کا غبار
کیسے کیسے برس گئے بادل
پیار کی راگنی انوکھی ہے
اس میں لگتی ہیں سب سریں کومل
بات نرمی سے یوں وہ کرتے ہیں
جیسے لہرائے ریشمی آنچل
بن پئے انکھڑیاں نشیلی ہیں
نین کالے ہیں تیرے بن کاجل
مجھے دھوکا ہوا کہ جادو ہے
پاؤں بجتے ہیں تیرے بن چھاگل
کبھی بدلا نہ کام دیو کا روپ
وہی سج دھج رہی وہی چھل بل
لاکھ آندھی چلے خیاباں میں
مسکراتے ہیں طاقچوں میں کنول
لاکھ بجلی گرے گلستاں میں
لہلہاتی ہے شاخ میں کونپل
کھل رہا ہے گلاب ڈالی پر
جل رہی ہے بہار کی مشعل
کوہ کن سے مفر نہیں کوئی
بے ستوں ہو کہیں کہ بندھیاچل
ایک دن پتھروں کے بوجھ تلے
خود بخود گر پڑیں گے راج محل
میں نے ہائے جو کی وہ بات ہے اور
تیری چاہت میں جی نہ تھا بے کل
دم رخصت وہ چپ رہے عابدؔ
آنکھ میں پھیلتا گیا کاجل
——
واعظ شہر خدا ہے مجھے معلوم نہ تھا
یہی بندے کی خطا ہے مجھے معلوم نہ تھا
غم دوراں کا مداوا نہ ہوا پر نہ ہوا
ہاتھ میں کس کے شفا ہے مجھے معلوم نہ تھا
نغمہء نے بھی نہ ہو بانگ بط مے بھی نہ ہو
یہ بھی جینے کی ادا ہے مجھے معلوم نہ تھا
میں سمجھتا تھا جسے ہیکل و محراب و کنشت
میرا نقش کف پا ہے مجھے معلوم نہ تھا
اپنے ہی ساز کی آواز پر حیراں تھا میں
زخمہء ساز نیا ہے مجھے معلوم نہ تھا
جس کی ایما پہ کیا شیخ نے بندوں کو ہلاک
وہی بندوں کا خدا ہے مجھے معلوم نہ تھا
خطبہ ترغیب کا ردا ہے اے دوست
شعر کہنے کی سزا ہے مجھے معلوم نہ تھا
شب ہجراں کی درازی سے پریشان نہ تھا
یہ تیری زلف رسا ہے مجھے معلوم نہ تھا
وہ مجھے مشورہء ترک وفا دیتے تھے
یہ محبت کی ادا ہے مجھے معلوم نہ تھا
چہرہ کھولے نظر آتی تھی عروس گل نار
منہ پہ شبنم کی ردا ہے مجھے معلوم نہ تھا
کفر و ایماں کی حدیں کس نے تعین کی تھیں
اس پہ ہنگامہ بپا ہے مجھے معلوم نہ تھا
یہی مار دو زباں میرا لہو چاٹ گیا
رہنما ایک بلا ہے مجھے معلوم نہ تھا
عجب انداز سے تھا کوئی غزل خواں کل رات
عابدؔ شعلہ نوا ہے مجھے معلوم نہ تھا
——
مے ہو ساغر میں کہ خوں رات گزر جاۓ گی
دل کو غم ہو کہ سکوں رات گزر جاۓ گی
دیکھنا یہ کہ انداز سحر کیا ہوں گے
یوں تو ارباب جنوں رات گزر جاۓ گی
نہ رکا ہے نہ رکے قافلہء لیل و نہار
رات کم ہو کہ فزوں رات گزر جاۓ گی
میں ترا محرم اسرار ہوں ات صبح بہار
جا کے پھولوں سے کہوں رات گزر جاۓ گی
مژدہء صبح مبارک تمھیں اے دیدہ ورو
میں جیوں یا نہ جیوں رات گزر جاۓ گی
رات بھر میں نے سجاۓ سر مثگاں تارے
مجھ کو تھا وہم کہ یوں رات گزر جاۓ گی
صبح اٹھ کر تجھے رہ رو سے لپٹنا ہو گا
رہبر تیرہ دروں رات گزر جاۓ گی
——
گردش جام نہیں رک سکتی
جو بھی اے گردش دوراں گزرے
صبح محشر ہے بلاۓ ظاہر
کسی صورت شب ہجراں گزرے
کوئی برسا نہ سر کشت وفا
کتنے بادل گہر افشاں گزرے
ابن آدم کو نہ آیا کوئی راس
کئی آذر کئی یزداں گزرے
اے غم تری راہواں سے
عمر بھر سوختہ ساماں گزرے
وہ جو پروانے جلے رات کی رات
منزل عشق سے آساں گزرے
غم ہستی کے بیابانوں سے
کچھ ہمیں تھے ججو غزلخواں گزرے
غم کے تاریک افق پر عابدؔ
کچھ ستارے سر مژگاں گزرے
——
شعری انتخاب از میں کبھی غزل نہ کہتا ، مصنف سید عابد علی عابد
شائع شدہ : 1993 ء ، متفرق صفحات
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات