اعتبار ساجد کا یوم پیدائش

آج معروف شاعر اعتبار ساجد کا یوم پیدائش ہے ۔

اعتبار ساجد(پیدائش: یکم جولائی 1948ء)
——
نام سید اعتبار حسین اور تخلص ساجد ہے۔
یکم جولائی۱۹۴۸ء کو ملتان میں پیدا ہوئے۔
ایم اے تک تعلیم حاصل کرکے آپ تدریس کے پیشے سے وابستہ ہوگئے۔ پہلے گورنمنٹ کالج نوشکی(بلوچستان) میں لکچرر رہے ۔ بعد ازاں اسلام آباد میں تدریس سے وابستہ رہے۔
شاعری کے علاوہ نثر میں بھی آپ کی کتابیں ہیں۔
آپ کی تصانیف کے نام یہ ہیں:
’دستک بند کواڑوں پر‘، ’آمد‘، ’وہی ایک زخم گلاب سا‘، ’مجھے کوئی شام ادھاردو‘(شعری مجموعے)،
’راجو کی سرگزشت‘، ’آدم پور کا راجہ‘، ’پھول سی اک شہزادی‘، ’مٹی کی اشرفیاں‘(بچوں کے لیے کتابیں)۔
——
اعتبار ساجد ، انسان و رومان پرست شاعر از نعیم بیگ
——
یہ شاید سنہ 1979ء کے اوائل موسم گرما کی بات ہے، جب میری ٹرانسفر بلوچستان کے دور دراز علاقے چاغی میں بحیثیت بینک مینجر ہوئی تو چاغی کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز نوشکی میں اپنے بینک کی برانچ کے پچھواڑے میں “فرنشڈ بینک ہاؤس” میں قیام کیا (فرنشڈ بینک ہاؤس کی داستان پھر کبھی سہی، جو فرنیچر سے کم اور بچھوؤں سے زیادہ فرنشڈ تھا)۔ اس زمانے میں افغان وار زوروں پر تھی اور ایران میں اسلامی انقلاب آ چکنے کے بعد رضا شاہ پہلوی کی حکومت کا تختہ الٹ چکا تھا۔
بظاہر نوشکی ضلعی صدر مقام تھا، لیکن بلوچستان میں بسنے والے لوگ جانتے ہیں کہ ان ضلعی ہیڈ کوارٹروں میں اب بھی دھول ہی اڑتی ہے، اس وقت سمجھیے کہ ہم سولہویں صدی میں بس رہے تھے۔ ایک معمولی سا ہسپتال، جس میں ایک میڈیکل آفسیر، دو ایک بچوں، بچیوں کے اسکول، ایک انٹر کالج، دو بینک، ایک پولیس سٹیشن اور چند سرکاری افسران اس ضلع کا کل سرمایہ تھے۔
——
یہ بھی پڑھیں : فخر الدین بلے کا یوم وفات
——
چند دنوں کے اندر اندر ہی بینک کے نزدیک واقع سول افسران کے لیے قائم کلب کی محفلوں میں شرکت کا اعزاز حاصل ہو گیا۔ شام فرصت میں ہوتی، تو میں اکثر سول کلب نکل جاتا، جہاں پی اے (ڈپٹی کمشنر) اے پی اے، تحصیل دار، خزانہ افسر اور چند ایک دیگر افسران موجود ہوتے۔ یوں پہلے لان ٹینس کی گیمز ہوتیں، پھر نوجوان سٹوڈنٹس کے ساتھ ملحقہ گراؤنڈ میں فٹ بال اور مغرب کی اذان پر ہم سب کلب کے بڑے ہال کمرے میں جمع ہوجاتے، جہاں ایک طرف ٹیبل ٹینس اور دوسری طرف چند ایک میزوں پر کیرم بورڈ، شطرنج اور تاش کی گیمز چلتیں۔۔۔ ہر شخص اپنے مخصوص گروپ میں بیٹھ جاتا اور پھر رات گئے تک چائے کے دور چلتے اور قہقہے ہوتے۔
لیکن چند ہی دنوں میں مجھے محسوس ہوا کہ ہمارے کالج کے دوست پروفیسرز، لیکچررز اس کلب میں کم ہی تشریف لاتے ہیں۔ پھر ایک دن سر راہے چلتے ہوئے کالج کے پرنسپل چوہدری شریف (خدا انہیں غریق رحمت کرے) سے ملاقات ہو گئی۔ انھوں نے گلہ کیا کہ ہم انھیں ملنے کیوں نہیں آئے۔ میں نے عرض کیا کہ میں تو ہر روز سول کلب میں موجود ہوتا ہوں آپ لوگ عنقا ہیں۔ تو کہنے لگے جناب میں تو کالج کی احاطے میں پرنسپل کے گھر میں رہتا ہوں، البتہ میرے کولیگز اور لیکچررز حضرات سب مل کر ایک کرایے کے مکان میں رہتے ہیں اور وہیں موجود ہوتے ہیں، جہاں چوہدری صاحب بھی کبھی کبھار نکل آیا کرتے تھے۔ اگلے ہی روز میں چوہدری صاحب کے بتائے پتے پر لیکچررز کے مبینہ ہوسٹل میں پہنچ گیا۔
چند کمروں میں مشتمل مٹی سے بنی اس عمارت کا ایک بڑا سا صحن تھا، جس میں شام کے وقت چارپائیاں سجی ہوئی تھیں۔ میرے آنے کی اطلاع پر کچھ دوست کمروں سے نکل کر باہر صحن میں آ گئے اور ہم وہیں بیٹھے بیٹھے گپ شپ کرنے لگے۔
کیمسٹری کے رضوی صاحب میرے احباب میں پہلے ہی سے تھے، انھوں نے بڑھ کر دیگر سب دوستوں سے میرا تعارف کروایا۔ اسی اثنا میں چھریرے بدن کا ایک خوبرو نوجوان سیاہ بالوں کی لٹ ماتھے سے ہٹاتے ہوئے اندر سے برآمد ہوا، تو چند دوستوں نے ایک ساتھ مل کر ہانک لگائی، آئیے آئیے اعتبار ساجد صاحب۔
میں نے اعتبار ساجد کی شاعری اور ذکر خیر سن رکھا تھا۔ آج ان سے میری پہلی بالمشافہ ملاقات تھی۔ ان کے آنے سے محفل ایک دم جوان ہو کر شعر و سخن میں بدل گئی۔ رات گئے تک جب اٹھنے لگے تو معلوم ہوا کہ چھڑوں کی اس محفل نے رات کا کھانا خود تیار کر لیا ہے، اور کسی کو بھجوا رکھا ہے کہ تندور سے گرم گرم روٹیاں آئیں تو ماحضر تناول فرمایا جاوے۔
اعتبار ساجد سے میری پہلی ملاقات کے بعد اکثر و بیشتر کبھی طیب صاحب کے دولت کدے اور کبھی اسی مبینہ ہوسٹل اور کبھی کالج میں ملاقات ہو جاتی۔ (اب یہ طیب صاحب کون ہیں؟ یہ بھی ایک الگ کہانی ہے۔ تقسیم ہند کے وقت لکھنؤ سے نکلے تو راستے بھر کہیں چین نہ پایا۔ کوئی پاکستانی شہر انھیں نہ بھایا، سیدھا نوشکی میں آکر قیام فرمایا) خود کہتے تھے کہ میاں کیا کہو ہو۔۔۔ اس پاجامے میں جو سکون یہاں ملا ہے وہ تمارے میدانی علاقوں میں کہاں؟ لباس و شخصیت کے معاملے میں بہت حساس اور نستعلیق واقع ہوئے تھے، سفید براق کرتہ پاجامہ ہمہ وقت پہنتے۔ شعر و سخن کی محفلیں اکثر ان کے ہاں ہی سجتیں، جس کے آخر میں طعام کی سہولت بھی ہوتی لہذا ہم جیسے بیشتر بیچلرز ان کی محفلوں سے فیض یاب ہوتے۔
——
یہ بھی پڑھیں : ترے دَر پہ ساجد ہیں شاہانِ عالم
——
اعتبار بھائی نے اپنی رہائش کالج کے اندر لیکچررز کے لیے مختص رہائش گاہ میں رکھی ہوئی تھی۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ مرنجان مرنج طبعیت کے شخص ہیں، اکثر و بیشتر کسی نہ کسی بات پر دوستوں سے ناراض رہتے ہیں، لیکن اب تک کی ملاقاتوں میں مجھے یہ سب “دشنموں” کی طرف سے کچھ یک طرفہ پروپیگنڈا ہی لگا۔ میں نے اب تک اعتبار ساجد میں شاعر ہونے کے علاوہ کوئی کمی نہیں دیکھی تھی۔
میں ایک بینکر ہونے کے ناتے ہر حلقے میں جانا پہچانا جاتا تھا، اس کی وجہ شاید میرا پروفیشنل رویہ اور طبعیت میں ترنت جملہ بازی کا رحجان اور بات بے بات پر قہقہے لگانا تھا۔ انھی دنوں نوشکی کی انتظامیہ نے کالج کے تعاون سے سول کلب میں ایک مشاعرے کا اہتمام کیا۔
محفل عروج پر تھی۔ ہال کچھا کھچ بھرا ہوا تھا۔ پہلے نوجوان شاعروں کو بلایا گیا، پھر سینئرز کی باری آئی۔ تب تک محفل کچھ سست و خاموش ہو چکی تھی۔ تاہم جب اعتبار ساجد کا نام پکارا گیا تو محفل جاگ اٹھی، اس کی وجہ صرف یہ رہی ہو کہ اعتبار بھائی اکثر اپنی غزلیں، نظمیں ترنم سے پڑھتے۔
اب جو انھوں نے شمع سنبھالی تو بنا کوئی شعر سنائے ہی ان کے کالج کے کچھ لڑکوں نے ہاؤ ہو مچانا شروع کر دیا۔ میرا خیال ہے کہ اپنے کالج کے استاد کی خدمت میں انھوں نے وقت سے پہلے ہی احتیاطًا داد و تحسین کے نعرے بلند کر دیے تھے۔ بہرحال بڑی مشکلوں سے ان لڑکوں کو چپ کرایا گیا اور اعتبار بھائی نے اپنی غزل شروع کی۔
مصرع اولا پڑھنے سے پہلے جب انھوں نے یہ اعلان کیا کہ وہ غزل ترنم میں پڑھیں گے تو ایک بار پھر شور مچا۔ جسے بہرحال جلد خاموش کرا دیا گیا۔ اب جو غزل شروع کی تو شاید اس کی بحر طویل تھی جسے ترنم سے پڑھنے کے لیے گلے سے زور لگا کر آواز نکالنی پڑتی تھی، یوں آواز شعر کے بیچ ہی میں کہیں پھٹ جاتی اور اس کے بدلے کچھ منحنی سے آوازیں ایک ساتھ ناک سے بھی نکل پڑتیں۔
پہلا شعر جب مکمل ہوا تو داد و تحسین کے نعرے بلند ہوئے، اور ساتھ ہی کچھ لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ مشاعرہ ڈپٹی کمشنر کی صدارت میں تھا وہ بھی مسکرانے لگے۔ جسے اعتبار ساجد سامعین کی طرف منھ ہونے کی وجہ سے نہ دیکھ سکے تھے۔ اسی اثنا میں دوسرا شعر سنایا جانے لگا۔ تیسرے شعر پر صورت کچھ یوں ہو گئی کہ ادھر شعر شروع ہوا، ادھر لڑکوں کا ہاؤ ہو شروع ہوا جو ان لڑکوں کے تئیں داد کے مترادف تھا۔
میں سامعین کی پہلی رو میں سٹیج کی طرف منھ کیے بیٹھا تھا۔ میں نے دیکھا کہ اعتبار بھائی کے چہرے پر اس ہاؤ ہو سے کچھ نا خوش گوار سا تاثر ابھرا ہے۔
یقیناً ان کے ذہن میں پہلے سے ان لڑکوں کے بارے میں کوئی بدگمانی رہی ہوگی، جبھی انھوں نے لڑکوں کی داد پر منھ بنایا۔ بہرحال ناظم مجلس نے لڑکوں کو اس بار سنجیدگی سے کہا کہ وہ خاموشی سے شعر سنیں اور اس کے بعد داد دیں، بدقسمتی سے اگلے شعر میں آواز کچھ زیادہ پھٹ گئی اور بدلے میں منحنی اور مہین سی دیگر آوازیں گلے اور ناک سے ایک ساتھ نکلنے لگیں۔ لوگ مسکرا رہے تھے لیکن خاموش تھے۔ میری رگِ ظرافت پھڑکی تو میں نے ہاتھ بلند کر کے واہ واہ کا نعرہ مستانہ لگایا۔ اور کہا۔۔۔ “واہ۔۔۔ اعتبار بھائی! کیا گلہ پایا ہے۔۔۔ مکرر ارشاد “۔
بس جناب میرا یہ کہنا تھا کہ محفل کشتِ زعفران بن گئی۔ اب تک جو لوگ آواز کے بار بار پھٹنے پر چپکے چپکے مسکرا رہے تھے، کھل کر ہنسنے لگے۔ اس پر پلانٹڈ لڑکوں نے مزید ہاؤ ہو مچا دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اعتبار بھائی غصہ میں کھڑے ہو گئے اور شمع محفل محفل چھوڑ کر اسٹیج سے نیچے اتر گئے۔
——
یہ بھی پڑھیں : محمد مصطفیٰ محبوبِ داور، سرورِ عالم​
——
محفل میں ایک دم ہڑبونگ مچ گئی، اتنا شور مچا کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دی۔ فوراً ہی صدرِ محفل ڈی سی صاحب سمجھا بجھا کر اعتبار بھائی کو واپس سٹیج پر لائے تو انھوں نے مطالبہ کر دیا کہ پہلے نعیم بیگ اس “بے ہودہ اور نامعقول ہوٹنگ” پر معذرت کریں۔ ڈی سی صاحب نے مسکراتے ہوئے مجھ سے یہ مطالبہ کر دیا کہ میں آئندہ اعتبار ساجد کی غزل پر صرف داد دوں گا، ان کی آواز پر قطعاً کچھ نہیں کہوں گا، اور ہلکے سے اپنی آنکھ دبا کر مجھے اشارہ کیا۔ میں نے ڈی سی صاحب اور اعتبار بھائی کے کہنے پر فوراً معذرت کی اور صرف یہی کہا کہ میں سچ مچ ان کی آواز پر فدا ہوں۔ اگلی بار الگ محفل میں ان سے ترنم کے ساتھ سنوں گا۔
اس مشاعرے کا یہ نتیجہ ہوا کہ اعتبار بھائی مجھ سے ایک عرصہ تک ناراض رہے۔ وہ ملتے تو تھے لیکن محبت کے اظہار میں کمی آ گئی۔ پھر خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ وہ اسلام آباد میں لیکچرر لگ گئے۔
میں ایک بڑے عرصہ تک بلوچستان میں ہی رہا، تا وقت کہ جب میں 1998ء میں دوبارہ لاہور پوسٹ ہوا تو پھر اعتبار بھائی سے رابطے شروع ہوئے۔
ایک عرصہ بعد جب اعتبار سے دوبارہ انیس یعقوب کے آفس میں ملاقات ہوئی تو میں نے انھیں اپنا انگریزی کا نیا ناول “ٹرپنگ سول” پیش کیا۔ میں نے کتاب پر انگریزی میں لکھا:
“میرے دوست، میرے بھائی، میرے مخلص اعتبار ساجد کے لیے۔ آپ کی زندگی ایک بھرپور کہانی ہے۔”
مجھے اندازہ نہیں تھا کہ وہ جلد ہی مجھے اپنی ایک کتاب دینے والے ہیں۔ “یادیں باقی رہ جاتی ہیں۔” جس دن وہ کتاب میرے ہاتھ آئی میں نے اسی روز اس پڑھ ڈالا۔ اعتبار بھائی نے کس قدر محبت سے اپنی یادوں کو قلم زد کیا تھا۔ میں نے سوچا واقعی اس دن میں نے ان کے لیے جو الفاظ اپنی کتاب پر لکھ کر دیے ہیں وہ کس سچائی پر مبنی تھے۔
جب زندگی کی جنگ لڑی جا رہی ہو تو انسان کے لیے کس قدر دشوار ہوتا ہو گا کہ وہ اپنی تنہائیوں، یادوں اور بربادیوں کو ذہن کے کسی گوشے میں بلا کسی تعصب محفوظ کر لے اور رگوں میں دوڑتے خون کی طرح زندگی کی ان تمام خوشیوں اور قہقہوں کو بھی اس طرح ذہن کی بساط پر جگہ دے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
اعتبار کے بیسیوں شعری مجموعے اور ان کی یاد داشتوں پر مبنی کتاب اس بات کی شاہد ہے کہ اعتبار نے اپنے دوستوں کو ہمیشہ دل میں پناہ دی اور حقائق و مشاہدات کو شعری اسلوب میں ڈھال دیا۔
اعتبار کا شعری سفر سچائی کی طرف جستجو کا سفر ہے۔ وہ انسانی فکر و ادراک کو کائنات کے تناظر میں دیکھتا ہے۔ نئے موسموں کی نمو اس کے اشعار میں ڈھل کر پورے معاشرتی شعور کا جائزہ لیتی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ آج کی جگمگاتی زندگی کی حقیقت کیا ہے۔ وہ شعری علامات، شاعرانہ فضا کو پر اثر اور متنوع رکھتا ہے۔ لیکن اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ وہ ایک خوب صورت رومانوی شاعر ہے۔
اعتار ساجد کی انمٹ یادوں اور شخصی خصوصیات سے بھری زندگی کے وہ تمام ماضی کے دن آج بھی میرے ذہن کے پردے پر فلم کی طرح روشن ہیں۔ اعتبار صرف شاعر ہی نہیں، شان دار انسان بھی ہے۔ اپنی محبتوں اور ناراضگیوں میں بھی مخلص۔ وہ صنم آشنا ہی نہیں، وہ طوفان آشنا بھی ہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : سلونی سلونی کا یہ تاجور
——
اس کی شاعری میں دکھوں اور خوشیوں کے وہ وہ رنگ ملتے ہیں، جنھیں سمجھنے کے لیے اعتبار ساجد کو دیکھنا ضروری نہیں۔ اس کے قلم سے نکلے الفاظ اس کی زندگی کو بھی کھلی کتاب کی طرح کھول دیتے ہیں۔ جہاں لطافت و حسیات، جمالیات و جذبات کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر ٹھہراؤ میں ایک ساتھ سمٹ جاتے ہیں۔ وہ زندگی کو ایک کمٹمنٹ سمجھتا ہے۔ اور اس کا اظہار اپنی رومانوی شاعری میں جم کر کرتا ہے۔ رومان اور انسان پرستی اس کی روح کے اندر سمائے ہوئے جوہر ہیں۔ جنھیں اس کی شاعری میں دیکھا جا سکتا ہے۔
——
منتخب کلام
——
حمدِ باری تعالیٰ
——
شکر ہے خداوندا ، انکسار قائم ہے
ہم نیاز مندوں کا اعتبار قائم ہے
ایسے خشک موسم میں ، تیری ہی عنایت سے
گلشنِ تمنا کا کاروبار قائم ہے
شکر ہے میرے مالک ، بھیڑ میں کتابوں کی
اپنے چند لفظوں کا اعتبار قائم ہے
آج بھی مہکتی ہیں اپنے حرف کی کلیاں
آتے جاتے موسم میں یہ بہار قائم ہے
اہلِ دل کی محفل میں ، اہلِ فن کی مجلس میں
اعتبارؔ ساجد کا اعتبار قائم ہے
——
نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ عیلہ و آلہ و سلم
——
جو کام کرتا ، شریعت کے ماتحت کرتا
اگر میں شہرِ نبی میں ملازمت کرتا
میں اس دیار میں جاروب کش ہی بن جاتا
سو ، کیا مجال کہ قاروں مسابقت کرتا
خزاں بہار کا موسم ، سماں بدلتے ہوئے
یقیں ہے کہ مجھی سے مشاورت کرتا
بس اُس نگر کے کسی طاقچے میں جلتا میں
مزاجِ موجِ ہوا بھی مصالحت کرتا
کچھ اور ہی مرے اشعار کی مہک ہوتی
کچھ اور طرز میں سب سے مخاطبت کرتا
یہاں بکھیرتا پھرتا میں کاہے خاکِ وجود
جو ملتا اذنِ حضوری ، مراجعت کرتا
یہاں شکستہ ستارہ ہوں ، وہ بھی ناکارہ
وہاں میں کاوشِ تسخیرِ شش جہات کرتا
——
رہا برہنہ وہ خود مگر ، نیا بوٹ مجھ کو دلا دیا
مرے باپ کے اسی روپ نے مجھے باپ جیسا بنا دیا
——
نامور ہیں نہ کوئی شہرتِ فن رکھتے ہیں
ہم فقط حُرمتِ دستارِ سُخن رکھتے ہیں
——
دھوپ کے دشت میں شیشے کی ردائیں دی ہیں
زندگی ! تو نے ہمیں کیسی سزائیں دی ہیں
——
مُردوں کے درمیان رہائش کے جرم پر
مجھ زندہ آدمی کو تو مر جانا چاہیے
——
کسی کو سال نو کی کیا مبارک باد دی جائے
کلینڈر کے بدلنے سے مقدر کب بدلتا ہے
——
میں تکیے پر ستارے بو رہا ہوں
جنم دن ہے اکیلا رو رہا ہوں
——
تمہیں جب کبھی ملیں فرصتیں مرے دل سے بوجھ اتار دو
میں بہت دنوں سے اداس ہوں مجھے کوئی شام ادھار دو
——
ان دوریوں نے اور بڑھا دی ہیں قربتیں
سب فاصلے وبا کی طوالت سے مٹ گئے
——
مال و زر کے کسی انبار سے کیا لینا ہے
عشق کو گرمی بازار سے کیا لینا ہے
تیرے کنبے کی وراثت سے ہمیں کیا مطلب؟
تجھ سے مطلب ہے پریوار سے کیا لینا ہے
عمر بھر ساتھ نا ہے تو پھر بات کرو
ہم کو مہمان اداکار سے کیا لینا ہے
کونسے ہم بھی فرشتے ہیں کہ تجھ کو جانچیں
تیری سیرت، ترے کردار سے کیا لینا ہے
جھونپڑی اپنی بنا لیں گے کسی گوشے میں
قصر شاہی !ترے معمار سے کیا لینا ہے
اپنے اشکوں کے لیے جیب میں رومال رکھو
کام اپنا کسی غمخوار سے کیا لینا ہے
برف باری کا وہ شیدائی ہے ساجدؔ اس کو
تیرے جلتے ہوئے اشعار سے کیا لینا ہے
——
کوئی رُقعہ نہ لفافے میں کلی چھوڑ گیا
بس اچانک وہ خموشی سے گلی چھوڑ گیا
جب دیا ہی نہ رہا،خوف ہو کیا معنی؟
خالی کمرے کی وہ کھڑکی بھی کھلی چھوڑ گیا
گونجتے رہتے ہیں سناٹے اکیلے گھر میں
در و دیوار کو وہ ایسا دُکھی چھوڑ گیا
بس اُسی حال کی تصویر بنا بیٹھا ہوں
مجھ کو جس میں وہ میرا سخی چھوڑ گیا
پہلے ہی درہم دینار محبت کم تھے
اک تہی دست کو وہ اور تہی چھوڑ گیا
کہیں تنہائی کے صحرا میں نہ پیاسا مر جاؤں
جانے والا مری آنکھوں میں نمی چھوڑ گیا
——
رویے اور فقرے ان کے پہلو دار ہوتے ہیں
مگر میں کیا کروں یہ میرے رشتہ دار ہوتے ہیں
مرے غم پر انہیں کاموں سے فرصت ہی نہیں ملتی
مری خوشیوں میں یہ دیگوں کے چوکیدار ہوتے ہیں
دلوں میں فرق پڑ جائے تو اس نے درد ساعت میں
دلیلیں، منطقیں اور فلسفے بیکا ر ہوتے ہیں
جنہیں صبر و رضا کی ہر گھڑی تلقین ہوتی ہے
وہی مظلوم ہر تکلیف سے دو چارہ ہوتے ہیں
بہت قابو ہے اپنے دل پہ لیکن کیا کیا جائے
جب آنکھیں خوبصورت ہوں تو ہم لا چار ہوتے ہیں
غزل کے شعر خاصا وقت لیتے ہیں سنورنے میں
یہ نخرے باز بچے دیر سے تیار ہوتے ہیں
ادھر کا رخ نہیں کرتا کوئی آسودہ دل ساجد
جہاں بیٹھے ہوئے ہم نوحہ گر دو چار ہوتے ہیں
——
تو کیا تم اتنی ظالم ہو ؟
——
تو کیا تم اتنی ظالم ہو ؟
مرے تیمار داروں سے
مسیحا جب یہ کہہ دیں گے
دوا تاثیر کھو بیٹھی
دُعا کا وقت آ پہنچا
یہ بیماری بہانہ تھی
قضا کا وقت آ پہنچا
تو کیا تم اتنی بے حس ہو
یقیں اس پر نہ لاؤ گی
تو کیا تم اتنی ظالم ہو
مجھے ملنے نہ آؤ گی ؟
——
شعری انتخاب از چہار سو شمارہ ، اعتبار ساجد نمبر
شائع شدہ : 2016 ء ، متفرق صفحات
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ