اردوئے معلیٰ

آج ممتاز ترقی پسند شاعر، افسانہ نگار اور نقاد اختر انصاری دہلوی کا یوم پیدائش ہے۔


(پیدائش: یکم اکتوبر 1909ء – وفات: 5 اکتوبر 1988ء)
——
اختر انصاری یکم اکتوبر 1909ء کوبدایوں، اتر پردیش، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام محمد ایوب انصاری تھا۔ پیدائش سے کچھ عرصہ پہلے ان کے والد نے ترکِ وطن کر کے دہلی میں سکونت اختیار کر لی تھی، اس لیے دہلوی مشہور ہوئے۔ عمر کا ابتدائی دور دہلی میں گزارا۔ قدیم اینگلو عربک ہائی اسکول دہلی کے طالبِ علم رہے۔ 1924ء میں ہائی اسکول کا امتحان پاس کر کے دہلی کے سینٹ اسٹیفنز کالج میں داخلہ لے لیا اور وہیں سے 1930ء میں بی اے (آنرز) تاریخ کی ڈگری حاصل کی۔ 1931ء میں انگلستان کے شہر لندن چلے گئے، لیکن والد کے انتقال اور بعض ذاتی مشکلات کے باعث لندن سے کوئی سند حاصل کیے بغیر دہلی واپس آگئے۔ 1932ء میں قانون پڑھنا شروع کیا۔ یہ تعلیم بھی ادھوری چھوڑ دی۔ 1933ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بی ٹی میں داخلہ لے لیا اور 1934ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ہائی اسکول میں ملازمت شروع کی۔ 1947ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے کیا اور اسی یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں لیکچرر ہو گئے۔ 1950ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ اردو سے شعبہ تعلیم میں منتقل ہو گئے اور ریٹائرمنٹ تک وہیں رہے۔ اختر انصاری نے شعر گوئی کا آغاز 1928ء میں کیا۔ چند برس بعد افسانہ، تنقید اور دوسری اصنافِ نثر کی طرف بھی متوجہ ہوئے۔ شاعری کا پہلا مجموعہ نغمہ روح 1932ء میں شائع ہوا۔
——
یہ بھی پڑھیں : اختر انصاری اکبر آبادی کا یومِ وفات
——
ان کی دیگر کتابوں میں اندھی دنیا اور دوسرے افسانے، نازو اور دوسرے افسانے، آبگینے، افادی ادب، خونی اور دوسرے افسانے، خوناب، خندہ سحر، روحِ عصر، لو ایک قصہ سنو، یہ زندگی اور دوسرے افسانے، غزل اور درسِ غزل، حالی اور نیا تنقیدی شعور، ٹیڑیھی زمین، سرورَ جاں، مطالعہ اور تنقید، شعلہ بہ جام، غزل کی تنقید اور دلی کا روڑا شامل ہیں۔ دو کتابیں ایک قدم اور سہی اور اردو افسانہ، بنیادی اور تشکیلی مسائل بعد از مرگ شائع ہوئیں۔ تعلیم سے متعلق دو کتابیں بھی انگریزی میں شائع ہوئیں۔
اختر انصاری 5 اکتوبر، 1988ء کو علی گڑھ، بھارت میں وفات پا گئے۔
——
قاضی زین العابدین سجاد میرٹھی از نغمۂ روح
——
اختر انصاری صاحب اور ان کا کلام کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔ اُن کی نظمیں اکثر ” ادبی دنیا ” کے صفحات پر زینت افروز ہوتی رہتی ہیں ۔ وہ خود موجودہ دور کے نوجوان شعرا میں ایک ممتاز مقام رکھتے ہیں اور دنیائے ادب ان کے صحیح ذوقِ شعری سے بخوبی واقف ہے ۔
اختر انصاری صاحب کے متعلق یہ بات دلچسپی سے خالی نہ ہوگی کہ انہوں نے شعر میں جتنی بھی پختگی حاصل کی ہے وہ ان کی تنہا ذاتی کوششوں کا ثمر ہے ۔ انہوں نے عام رسم کے مطابق کسی بھی استاد کے سامنے زانوئے ادب تہہ نہیں کیا ۔ اور ان کا ذوقِ شعری کسی خارجی رہبری کا شرمندۂ احسان نہیں ہوا ۔
اختر صاحب کی طبیعت بچپن سے ہی ایک لطیف اور شاعرانہ غمگینی اور سوز پسندی خود میں پنہاں رکھتی ہے ۔
وہ طفلی میں بھی اپنے جذبات کا اظہار منظوم انداز میں کر لیا کرتے تھے ۔ لیکن جب انہیں اردو اور فارسی پر عبور حاصل ہو گیا تو وہ گویا ایک چھائی ہوئی گھٹا کی طرح برس پڑے اور اب بائیس سال کی عمر میں وہ اس قدر پاکیزہ اور بلند شعر کہہ لیتے ہیں کہ ان کی شاعری کے مستقبل کے متعلق سوائے حیرت آمیز خاموشی کے اور کوئی چیز پیش نہیں کی جا سکتی ۔
——
منتخب کلام
——
خدا نے پھیر لیں آنکھیں وفا کہیں نہ رہی
فلک فلک نہ رہا زمیں زمیں نہ رہی
——
تجھے بھی علم ہے اے موسمِ بہار کہ تُو
کسی کے نام مرا نامۂ محبت ہے
——
یہ بھی پڑھیں : آزاد انصاری کا یوم وفات
——
کوئی جب نالہ کرتا ہے کلیجہ تھام لیتا ہوں
فغانِ غیر بھی اپنی فغاں معلوم ہوتی ہے
——
آرزو کو روح میں غم بن کے رہنا آ گیا
سہتے سہتے ہم کو آخر رنج سہنا آ گیا
——
اخترؔ کی آنکھ میں ہیں جوانی کی مستیاں
لوگوں کو ہے گماں کہ وہ مستِ شراب ہے
——
یادِ ماضی عذاب ہے یا رب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
——
اس میں کوئی مرا شریک نہیں
میرا دکھ آہ صرف میرا ہے
——
روئے بغیر چارہ نہ رونے کی تاب ہے
کیا چیز اف یہ کیفیتِ اضطراب ہے
——
یہ بھی پڑھیں : چودہ اکتوبر کے نام
——
ہاں کبھی خواب، عشق دیکھا تھا
اب تک آنکھوں سے خوں ٹپکتا ہے
——
اپنی اجڑی ہوئی دنیا کی کہانی ہوں میں
ایک بگڑی ہوئی تصویر جوانی ہوں میں
——
وہ ماضی جو ہے اک مجموعہ اشکوں اور آہوں کا
نہ جانے مجھ کو اس ماضی سے کیوں اتنی محبت ہے
——
آرزو کو روح میں غم بن کے رہنا آ گیا
سہتے سہتے ہم کو آخر رنج سہنا آ گیا
دل کا خوں آنکھوں میں کھنچ آیا چلو اچھا ہوا
میری آنکھوں کو مرا احوال کہنا آ گیا
سہل ہو جائے گی مشکل ضبط سوز و ساز کی
خون دل کو آنکھ سے جس روز بہنا آ گیا
میں کسی سے اپنے دل کی بات کہہ سکتا نہ تھا
اب سخن کی آڑ میں کیا کچھ نہ کہنا آ گیا
جب سے منہ کو لگ گئی اخترؔ محبت کی شراب
بے پیے آٹھوں پہر مدہوش رہنا آ گیا
——
حیات انساں کی سر تا پا زباں معلوم ہوتی ہے
یہ دنیا انقلاب آسماں معلوم ہوتی ہے
مکدر ہے خزاں کے خون سے عیش بہار گل
خزاں کی رت بہار بے خزاں معلوم ہوتی ہے
مجھے ناکامی پیہم سے مایوسی نہیں ہوتی
ابھی امید میری نوجواں معلوم ہوتی ہے
کوئی جب نالہ کرتا ہے کلیجہ تھام لیتا ہوں
فغان غیر بھی اپنی فغاں معلوم ہوتی ہے
مآل درد و غم دیکھو صدائے ساز عشرت بھی
اتر جاتی ہے جب دل میں فغاں معلوم ہوتی ہے
چمن میں عندلیب زار کی فریاد اے اخترؔ
دل ناداں کو اپنی داستاں معلوم ہوتی ہے
——
ہے نذرِ دل قبول ، نگہ کامیاب ہے
ہوں وقفِ سوز و ساز کہ قسمت خراب ہے
آئینۂ نگاہ میں عکس شباب ہے
دنیا سمجھ رہی ہے کہ آنکھوں میں خواب ہے
روئے بغیر چارہ نہ رونے کی تاب ہے
کیا چیز اف یہ کیفیت اضطراب ہے
اے سوز جاں گداز ابھی میں جوان ہوں
اے درد لا علاج یہ عمر شباب ہے
منہ میں نہ ہو زبان تو اے دل میں کیا کروں
میری نگاہ تو نگہِ کامیاب ہے
حد سے سوا ہو درد تو میں دل کو تھام لوں
اس کا ہو کیا علاج کہ جینا عذاب ہے
یوں تو خدا نے دل کو دئیے ہیں ہزار درد
دردِ محبت آپ ہی اپنا جواب ہے
اخترؔ کی آنکھ میں ہیں جوانی کی مستیاں
لوگوں کو ہے گماں کہ وہ مستِ شراب ہے
——
شعری انتخاب و اقتباس از نغمۂ روح ، مصنف : اختر انصاری
شائع شدہ : 1933 ء ، متفرق صفحات
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات