اردوئے معلیٰ

Search

آج معروف شاعر علیم اختر مظفرنگری کا یومِ وفات ہے ۔

علیم اختر مظفرنگری(پیدائش: 6 جون 1914ء— وفات: 21 اپریل 1972ء)
——
علیم اختر مظفرنگری (پیدائش: 6 جون 1914ء— وفات: 21 اپریل 1972ء) اردو زبان کے شاعر تھے۔
علیم اختر 6 جون 1914ء کو مظفر نگر میں پیدا ہوئے۔ اِن کے والد محمد عمر تھے جو پیشہ مدرسی سے وابستہ تھے۔ وہ تمام عمر مختلف مقامات پر بحیثیت مدرس کام کرتے رہے۔ علیم نے 1934ء میں گورنمنٹ ہائی اسکول، مظفر نگر سے میٹرک پاس کیا۔ مزید تعلیم کے وسائل مفقود تھے، اِسی لیے اب تلاشِ معاش کی فکر سرگرداں ہوئی۔ 1936ء میں ایک مقامی زمیندار کے پاس بطور کارندے کے کام کرنے لگے۔ تین سال کے بعد ماہِ ستمبر 1939ء میں پہلی جنگ عظیم شروع ہو گئی تو فوجیوں کی ضروریات مہیا کرنے کے لیے حکومت نے کمبل بافی کے کارخانے قائم کرچکی تھی، علیم اِس محکمے میں ملازم بھرتی ہو گئے۔ یہ کام بہت وسیع پیمانے پر ہوتا تھا، منڈی سے اُون خرید کر کمبل کے بُننے تک سارا کام سرکاری ملازموں کے ذمے تھا۔ اِس کام پر علیم مختلف شہروں جیسے کہ امروہہ، جانسٹھ، کیرانہ ، مظفرنگر میں بھی کام کرتے رہے۔ رفتہ رفتہ ترقی ہوتی گئی اور افسران مجاز اِن سے اور اِن کے کام سے مطمئن تھے۔ 70 روپئے مشاہرہ ملتا تھا۔ اواخر 1941ء میں بہتر نوکری مل جانے پر اِس ادارے سے کام چھوڑ دیا۔ مظفرنگر سے کانپور چلے گئے اور وہاں سے کٹنی شہر اور پھر ناگپور پہنچے۔ ناگپور میں قیام کے دوران یرقان کے شدید حملے نے اُن کو سولہ مہینے طویل علالت میں مبتلا کیے رکھا۔ 1946ء میں تندرست ہونے کے بعد واپس دہلی آئے اور یہاں کنٹرولر جنرل کے دفتر سے دوبارہ ملازمت کا حکم نامہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے مگر اِس میں کامیابی نہ ہو سکی۔ بسراوقات کے لیے دہلی کے قیام کے زمانہ میں یہاں کے مختلف رسائل و جرائد میں روزانہ تھوڑا تھوڑا کام کرتے رہے۔ بالآخر 1948ء میں مستقل طور پر ماہنامہ شمع کے دفاتر میں ملازمت مل گئی۔ اِس ادارے کے دونوں ماہناموں شمع اور شبستان کی تقسیم و اِشاعت اور دفتر سے متعلق قانونی کام کاج اِنہی کے سپرد رہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : تِری حمد میں کیا کروں اے خُدا
——
وفات
——
1971ء میں علیم کو پہلی بار دورہ قلب کا شکار ہوئے۔ ڈاکٹروں نے متنبہ کیا مگر فشارِ دَم کا سمجھ کر لاپرواہ ہو گئے۔ اِس بے احتیاطی کا یہ اَثر ہوا کہ یہ دورہ قلب دوسری بار ہوا جو جان لیوا ثابت ہوا۔ 21 اپریل 1972ء کو جب دفتر میں کام کر رہے تھے، کہ یکایک سینے میں درد محسوس کی۔ دفتر کے قریب ایک کلینک پر لے جائے گئے۔ بیوی بچے بھی وہیں پہنچ گئے۔ معاملے کی نزاکت کا کسی کو احساس بھی نہ ہوا کہ باتیں کرتے کرتے روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی۔
——
شاعری
——
شعرگوئی میں علیم کو الم مظفرنگری (متوفی مئی 1969ء) سے تلمذ حاصل تھا مگر سیماب اکبرآبادی سے بھی اصلاح لیتے رہے۔ مجموعہ کلام ’’نکہتِ گل‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔
——
علیم اختر مظفر نگری کا عہد اور معاصرین شعرا سے تقابل از محمد مستمر
——
علیم اختر بیسویں صدی کے ایک ممتاز اور کہنہ مشق شاعر تھے ۔ جس وقت علیم اختر نے شاعری کی دنیا میں قدم رکھا اس وقت اردو ادب میں بہت سے نئے رحجانات و میلانات اور تحریکات اپنے عروج پہ تھیں ۔ نئے خیالات و افکار جنم لے رہے تھے ۔ ادب کا قافلہ تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا ۔
بیسویں صدی کا یہ دور اردو ادب کے لیے فعال اور ترقی کا دور کہلاتا ہے ۔
نئے نئے شعرا افقِ ادب پر نئی تنویر کے ساتھ جدید خیالات و افکار لے کر ظہور پذیر ہوئے تھے جن میں کیفی اعظمیؔ ، علی سردار جعفریؔ ، معین احسن جذبیؔ ، مجازؔ لکھنوی ، ساغر نظامیؔ ، جاں نثار اخترؔ ، مجروحؔ سلطانپوری ، نریش کمار شادؔ ، اختر انصاریؔ ، سکندر علی وجدؔ ، اختر الایمان وامقؔ جونپوری ، سلامؔ مچھلی شہری ، بسملؔ سعیدی ، روشؔ صدیقی ، اختر شیرانیؔ ، اعجاز احمد صدیقی ، فراقؔ ، جگن ناتھ آزادؔ ، اور جگرؔ مراد آبادی کے نام قابلِ ذکر ہیں ۔
ان میں زیادہ تر شعرا ترقی پسند تھے ۔ لیکن بعض ایسے بھی ہیں جو ترقی پسند نہ ہوتے ہوئے بھی ان کے یہاں ترقی پسندی کے تمام عناصر بدرجۂ اتم موجود ہیں ۔
اس زمرے میں احسان دانشؔ کا نام اہم ہے ۔ جگرؔ جو ایک رومانی و جمالیاتی شاعر تھے ، نے ترقی پسند تحریک سے جلد ہی کنارہ کشی اختیار کر لی ۔
اختر شیرانی بہت قلیل عمر میں اس دنیا سے رخصت ہو گئے ۔
ان کی شاعری پر بھی رومان پوری طرح غالب ہے ۔
جذبی علی سردار جعفری ، مجازؔ بھی نئے لب و لہجے کے ستاھ شاعری کر رہے تھے ، کیفیؔ بھی ایک نئے آہنگ و ساز کے ساتھ نمودار ہوئے ۔
ترقی پسند ہونے کے باوجود عورت کا تصور ان کی شاعری پہ چھایا ہوا ہے ۔
جوشؔ شاعرِ شباب اور شاعرِ انقلاب کی حیثیت سے درخشندہ ہو رہے تھے ۔ ان کی زیادہ تر نظمیں اور بیانیہ رخوں کو پیش کرتی ہیں ۔
مگر بایں ہمہ علیم اختر نہ تو ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہوئے اور نہ ہی کسی رحجان سے متاثر ہوئے ۔
انہیں شرفِ تلمذ مظفر نگری شاگرد علامہ سیماب اکبر آبادی سے حاصل تھا مگر ذہنی اور روحانی طور پہ وہ جگرؔ اور حسرتؔ موہانی سے وابستہ تھے ۔
انہوں نے اپنی شاعری میں گاہے بگاہے اس کا اعتراف بھی کیا ہے :
——
اب تو رنگینیِ اندازِ بیاں حسرتؔ
فکرِ اخترؔ میں نمودار ہوئی جاتی ہے
——
مجھے یاد آ رہا ہے جگرؔ کا یہ قول اخترؔ
جو دلوں کو فتح کر لے وہی فاتحِ زمانہ
——
یہ بھی پڑھیں : احسان ہے خدائے علیم و خبیر کا
——
علاوہ ازیں وہ قدیم شعرا سے بھی متاثر تھے ۔ یہ حقیقت بھی ہے کہ ہر شاعر ضرور اپنے اگلے شعرا سے اثر پذیر ہوتا ہے ۔ غالبؔ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ۔
انہوں نے بھی میرؔ کی زمین میں اشعار کہے ہیں ۔ حسرتؔ اور جگرؔ کے ساتھ ساتھ علیم اختر متقدمین شعرا کا رنگ و لہجہ بھی اختیار کرتے ہیں ۔
اس ضمن میں وہ معترف بھی ہیں :
——
اللہ اللہ ترا بیان اخترؔ
سارا انداز میرؔ کا سا ہے
——
تری غزل میں ہے اندازِ مصحفیؔ اخترؔ
ترے بیان میں بھی اک میرؔ سا نظر آیا
——
چنانچہ علیم اختر کا دور بیسویں صدی کا دور ہے ۔ ان کے ہم عصر شعرا کی ایک طویل فہرست ہے جن کا اپنا اپنا رنگ و آہنگ رہا ۔
ترقی پسند تحریک سے زیادہ تر شعرا منسلک رہے ۔ لیکن علیم اختر نے اپنے ہم عصر اختر شیرانی ، جگر مراد آبادی اور استاد شاعر حسرت موہانی کا رنگ اختیار کیا ۔
حسرتؔ اور جگرؔ کی طرح انہوں نے بھی غزل کے حسن و جمال سے پیکر تراش کر کلاسیکی غزل کی روایت کو آگے بڑھایا اور جمالیاتی قدروں میں اضافہ کیا ۔
علیم اختر خالص غزل گو شاعر ہیں ۔ غزل کے فن سے وہ پوری واقفیت رکھتے ہیں ۔ غزل کے ساتھ ساتھ انہوں نے نظمیں بھی کہیں ۔ نظموں میں بھی غزل کا لطف آتا ہے ۔ ان کی نظموں میں حسن پرستی کی چاشنی نہیں بلکہ کلی طور پہ جمالیاتی عناصر کی کارفرمائی موجود ہے ۔
——
منتخب کلام
——
غم سے بھی بے نیاز ، خوشی سے بھی بے نیاز
کیا کشتگانِ غم کا بنایا گیا ہے دل
——
پروانہ جاں دے کے سبکدوش ہو گیا
اب سوز غم کو شمع فروزاں سے پوچھیے
——
ہوتا ہے محبت کا تعلق بھی کہیں ترک
میں ان کو بھلاتا ہوں تو آتے ہیں سوا یاد
——
اک دریا ہے عشق اور اس میں
نہ سفینہ ہے اور نہ ساحل ہے
——
عرض نیاز شوق پہ نیچی نگاہ سے
وہ ان کا اک خموش اشارہ کہ ہائے ہائے
——
اللہ رے یہ وہمِ اسیری کہ چمن میں
آزاد ہیں اور ہمتِ پرواز نہیں ہے
——
عشق اس وادیٔ حیرت سے گزر جاتا ہے
کوئی منزل نہ جہاں ، راہ گزر ہے کوئی
——
یوں چپ ہیں کہ اس انجمنِ ناز میں اخترؔ
آزادیٔ اظہارِ خیالات نہیں ہے
——
اب حسن و عشق کی وہ نگہہ بازیاں کہاں
جلوے نہیں تو طالبِ دیدار بھی نہیں
——
اپنے نصیب اپنے مقدر کی بات ہے
تم پھول چُن رہے ہو ، ہمیں خار ہی ملے
——
منزل کو میری آبلہ پائی کی کیا خبر
یہ داستاں تو خارِ مغیلاں سے پوچھیے
——
تری رفتار اے معاذ اللہ
حشر کوئی بپا نہ ہو جائے
——
اب دردِ محبت ہے نہ درمانِ محبت
اللہ رے ہیں بے سر و سامانِ محبت
پلکوں کو نہ دو جنبشِ پیہم کی اجازت
چھیڑو نہ ابھی سازِ رگِ جانِ محبت
دامن پر ابھی تک بھی ہیں کچھ خون کی بوندیں
منجملۂ اجزائے پریشانِ محبت
او ! زودِ فراموش تجھے یاد دلاؤں
وہ عہدِ وفا وہ ترا پیمانِ محبت
پھر درد سا محسوس قریبِ رگِ جاں ہے
پھر کوئی ہوا سلسلہ جُنبانِ محبت
ناکامِ محبت نے تو منہ پھیر لیا تھا
خود حسن ہوا بڑھ کے نگہبانِ محبت
وہ نیچی نگاہوں سے برستی ہوئی شبنم
اللہ رے وہ زودِ پشیمانِ محبت
میں رات گئے نیند سے گھبرا کے اٹھا ہوں
دیکھا ہے کوئی خوابِ پریشانِ محبت
جنبش میں ہے نظروں کی چھلکتی ہوئی صہبا
لٹنے کو ہے سرمایۂ ایمانِ محبت
بیمار کی ہچکی نَفَسِ بازِ پسیں ہے
پھر کس لئے چارہ و درمانِ محبت
اللہ رے احساسِ غمِ عشق کی دولت
اخترؔ سا غریب آج ہے سلطانِ محبت
——
دل کو شائستۂ احساس تمنا نہ کریں
آپ اس انداز نظر سے مجھے دیکھا نہ کریں
یک بہ یک لطف و عنایت کا ارادا نہ کریں
آپ یوں اپنی جفاؤں کو تماشا نہ کریں
ان کو یہ فکر ہے اب ترک تعلق کر کے
کہ ہم اب پرسش احوال کریں یا نہ کریں
ہاں مرے حال پہ ہنستے ہیں زمانے والے
آپ تو واقف حالات ہیں ایسا نہ کریں
ان کی دزدیدہ نگاہی کا تقاضا ہے کہ اب
ہم کسی اور کو کیا خود کو بھی دیکھا نہ کریں
وہ تعلق ہے ترے غم سے کہ اللہ اللہ
ہم کو حاصل ہو خوشی بھی تو گوارا نہ کریں
اس میں پوشیدہ ہے پندار محبت کی شکست
آپ مجھ سے بھی مرے حال کو پوچھا نہ کریں
نہ رہا تیری محبت سے تعلق نہ سہی
نسبت غم سے بھی کیا خود کو پکارا نہ کریں
میں کہ خود اپنی وفاؤں پہ خجل ہوں اخترؔ
وہ تو لیکن ستم و جور سے توبا نہ کریں
——
کیا بتائیں نظر پہ کیا گزری
چشمِ جلوۂ نِگر پہ کیا گزری
میرے شام و سحر کا حال نہ پوچھ
تیرے شام و سحر پہ کیا گزری
جانے کیا حالِ عرضِ شوق ہوا
کیا خبر نامہ بر پہ کیا گزری
دل کو دیوانگی کا ہوش تو ہے
چشمِ دیوانہ گر پہ کیا گزری
اہلِ درمانِ درد کیا جانیں
دردِ بے چارہ گر پہ کیا گزری
نگہِ دمبدم کا ذکر تو کیا
جلوۂ سر بسر پہ کیا گزری
آشیانہ تو جل کے خاک ہوا
سوزِ برق و شرر پہ کیا گزری
نقشِ سجدہ مٹا کے دیکھ لیا
آپ کے سنگِ در پہ کیا گزری
اُن کے جلووں کو دیکھنے والو
قلب و روح و نظر پہ کیا گزری
ہم تو منزل پہ آ گئے لیکن
رہزن و راہبر پہ کیا گزری
نئی تہذیب کے تقاضوں میں
علم و فضل و ہنر پہ کیا گزری
بعد میرے وفا پہ کیا بیتی
عشقِ شوریدہ سر پہ کیا گزری
جلوۂ دل ستاں کا حال تو دیکھ
میری تابِ نظر پہ کیا گزری
کیا ہوا اضطرابِ شوق اخترؔ
جرأتِ چشمِ تر پہ کیا گزری
——
حوالہ جات
——
تحریر : محمد مستمر از علیم اختر مظفر نگری کی شاعری : ایک مطالعہ
شائع شدہ : فروری 2010 ، صفحہ نمبر 57 تا 59
شعری انتخاب از کلیاتِ علیم اختر ( مظفر نگری ) ، متفرق صفحات
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ