اردوئے معلیٰ

آج یوروپین شاعر الیگزینڈر ہیڈرلی آزاد کا یوم وفات ہے ۔

الیگزینڈر ہیڈرلی آزاد(پیدائش: 1829ء – وفات: 27 جولائی 1861ء)
——
الیگزینڈر ہیڈرلی نام، تخلص آزادؔ تھا ۔ باپ کا نام جیمس ہیڈرلی تھا ان کے خاندانی حالات کا پتہ نہیں چل سکا البتہ اتنا معلوم ہوا ہے کہ ان کے والد انیسویں صدی کے اوائل میں دہلی آۓ تھے ۔ الیگزینڈر ہیڈرلی آزاد کے باپ نے مسلمان عورت سے شادی کر لی تھی جس کی وجہ سے ہندوستانی معاشرت اختیار کی ۔ آزادؔ کی پرورش و تربیت بھی اسلامی طرز پو ہوئی اور مسلمانوں کی صحبت نے ان میں شعر و سخن کا ذوق پیدا کر دیا تھا۔
الیگزینڈر ہیڈرلی آزاد 18 سال کی عمر میں شعر کہنے لگے چونکہ فطرتاََ ان کو شاعری کو ذوق تھا اس لیے بہت جلد ان کے کلام کی شہرت ہو گئی ۔ ان کے پاس بہت سے شعراء کا مجمع رہا کرتا تھا ۔ آزادؔ نواب زین خاں عارفؔ دہلوی کے شاگرد تھے اور کبھی کبھی مرزا غالبؔ سے بھی بذریعہ خط و کتابت اصلاح لیا کرتے تھے آزادؔ نے اپنے استاد عارفؔ کی تعریف میں ایک قصیدہ اور ماتم میں ایک مرثیہ معہ تاریخ وفات لکھا تھا جو ان کے دیوان میں موجود ہے۔
الیگزینڈر ہیڈرلی آزاد کو فن طب میں بھی پوری دستگاہ تھی اور خصوصاً امراض کہنہ کے علاج میں بہت مشہور تھے۔ کہتے ہیں کہ مریضوں کو دوائیں بھی اپنے پاس سے مفت دیا کرتے تھے جس کی وجہ سے ان کی فیاضی کی شہرت بہت دور تک پہنچی تھی ۔ اس فیاضی کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کا تمام سرمایہ زندگی ختم ہو گیا مجبوراً ان کو ملازمت اختیار کرنی پڑی ریاست الور میں ان کو توپ خانہ کی کپتانی مل گئی ۔ لیکن ملازمت اختیار کرنے کے ایک سال کے اندر ہی عالم شباب میں وفات پائی۔
تاریخ وفات 27 جولائی 1861ء ہے۔ آزادؔ نے 32 برسی کی عمر میں انتقال کیا اس حساب سے ان کا سن ولادت 1829ء بنتا ہے۔
چونکہ آزادؔ فطرتاً ذوق شاعری اور ہمہ گیر طبیعت رکھتے تھے اس لۓ انھوں نے ہر صف کلام پر خوب طبع آزمائی کی ہے ۔ آپ کے کلام میں مضامین کی لطافت ، الفاظ کی تلاش اور محوارات کی ترکیب قابل داد ہے ۔ آپ نے نۓ اسلوب پر تشبہیں اور استعارے استعمال کۓ ہیں زبان بالکل صاف اور روانی بیاں پختہ کار شاعر ہونے کی دلیل ہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : محمد حسین آزاد کا یوم وفات
——
الیگزینڈر ہیڈرلی آزاد کے سوا کبھی کبھی الکؔ تخلص بھی استعال کرتے تھے معلوم ہوتا ہے کہ الکؔ الکزینڈر کا مخفف ہے۔
آزادؔ کی وفات کے بعد ان کے بڑے بھائی تھامس ہیڈرلی نے جو ریاست بھرت پور میں ڈپٹی تھے اپنے بھائی آزادؔ کے عزیز دوست میر شوکت علی فتحپوری کی مدد سے آزادؔ کا کلام جمع کر کے ترتیب دیا تھا اور 1863ء میں مطبع احمدی نگر آگرہ میں طبع کرا کر شائع کیا تھا۔ آزادؔ کے دیوان میں قصائد ، غزلیات ، منظوم خطوط ، تاریخ قطعات اور تضمین ہیں اور صفحے 175 ہیں ۔
غدر کے بعد الیگزینڈر ہیڈرلی آزاد نے مذہب اسلام قبول کر لیا تھا اور اپنا نام جان محمد رکھا تھا۔
——
منتخب کلام
——
زہے وحدت وہی دیر و حرم میں جلوہ آرا ہے
ازل سے محو ہوں جس کے جمال حیرت افزا کا
——
میری صورت سب کہے دیتی ہے میرا راز دل
میرے تیور دیکھ کر وہ مجھ سے بدظن ہو گیا
——
سوزش دل نے الٰہی کونسی کی تھی کمی
جو جلانے کو میرے داغ جگر پیدا ہوا
——
تمام عمر رہا میں سبھوں سے بیگانہ
رہا میں اس پہ بھی غربت میں گو وطن میں رہا
حریص مایۂ ہستی تھا کس قدر آزادؔ
تمام عمر تلاش مئے کہن میں رہا
——
صبح تک سب جاگتے ہیں شب کو سو سکتا ہے کون
نالہ پر شور سے ہے میرے گھر گھر رت جگا
——
بزم میں اٹھتے ہی ان کے روئے روشن سے نقاب
جام مئے سورج بنا مہتاب مینا بن گیا
——
آتا ہے نظر خانہ صیاد گلستاں
جانے کا کہاں قصد کریں ہو کے رہا ہم
ہنگامِ سحر بادہ گساری کا مزہ ہے
اوقات کریں اپنی تلف بہر دعا ہم
——
نوید اے دل کہ رفتہ رفتہ گیا ہے اس کا حجاب آدھا
ہزار مشکل سے بارے رخ پر سے اُس نے الٹا نقاب آدھا
خدا کی قدرت ہے ورنہ آزادؔ میرا اور ان بتوں کا جھگڑا
نہ ہو گا فیصل تمام دن میں مگر بروزِ حساب آدھا
——
میں نہ کہتا تھا کہ دے گا صاف یہ منہ پر جواب
دیکھنا تم دیکھنا مت انجمن میں آئینہ
——
عیاں ہے سب میں کہاں ہے مخفی کب اس کا جلوہ نقاب میں ہے
قصور اپنی نگاہ کا ہے وگرنہ کب وہ حجاب میں ہے
——
اس نے اس طرح یکایک جو بگاڑی ہم سے
کچھ نہ کچھ بات رقیبوں نے بنائی ہو گی
——
کب دیکھ کے ڈرتے ہیں تیری زلف دوتا ہم
گر ایک بلا وہ ہے تو ہیں ایک بلا ہم
تقدیر پہ شاکر رہے راضی برضا ہم
اب کس کی شکایت کریں اور کس کا گلا ہم
——
بیکسی میں سخت مشکل ہے چھپانا راز کا
رنگ شاہد ہے شکست توبہ کی آواز کا
——
جب سے پایا دشمنوں نے پاؤں کا میرے سراغ
سر کے بل جاتا ہوں تب سے کوئے جاناں کی طرف
——
کیا لطف ہے بے طف ہو گر عیش تمھارا
محفل میں اگر مجھ سے نہ شرماؤ تو آؤں
کیا گھر میں تمھارے در و دیوار کو دیکھوں
تم اپنی جو صورت مجھے دکھلاؤ تو آؤں
——
غالب ہے ناز ان کا ہمارے نیاز پر
سو گالیاں ہمیشہ سنیں اک دعا کے ساتھ
——
حوالہ جات
——
تحریر و شعری انتخاب از تذکرہ یوروپین شعرائے اردو ، مصنف : محمد سردار علی
شائع شدہ : 1944 ، صفحہ نمبر 12 تا 18
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ