اردوئے معلیٰ

آج معروف شاعر متین عمادی کا یومِ وفات ہے ۔

متین عمادی(پیدائش: 28 فروری 1942ء – وفات: 27 جولائی 2020ء)
——
سید متین الحق ، ابن سید شاہ صبیح الحق عمادی میٹرک سرٹیفیکٹ کے مطابق ۲۸؍ فروری ۱۹۴۲ء کو خانقاہ عمادیہ منگل تالاب پٹنہ سیٹی میں پیدا ہوئے۔ ابتداء میں دینی اور عربی و فارسی تعلیم والد بزرگوار سے حاصل کی۔ پھر انگریزی تعلیم کے لئے حمید عظیم آبادی (مرتب میخانہ الہام، دیوان شاد) کے سپرد کئے گئے ۔ پٹنہ سیٹی کی مشہور درس گاہ محمڈن اینگلو عربک ہائی اسکول سے ۱۹۵۷ء میں ہائی اسکول کا امتحان پاس کیا۔ مگدھ یونیورسٹی سے ایم اے ( اردو اور فارسی ) کے امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے کے بعد ڈپ ان ایڈ کی ڈگری حاصل کی۔ ایک عرصے تک محمڈن اسکول میں درس و تدریس کے فرائض انجام دئے اور ۲۰۰۲ء میں سبکدوش ہو گئے۔ ۱۹۸۷ء میں انہوں نے خادم الحجاج کی حیثیت سے حج کی سعادت حاصل کی۔ ۲۰۰۳ء میں شاد اسٹڈی سرکل کی جانب سے انہیں شاد عظیم آبادی سمان سے نوازا گیا اور ۲۰۰۴ء میں بہار اردو اکادمی نے مجموعی ادبی خدمات کے اعتراف میں انعام دیا۔ نرم گفتار ، خوش اخلاق، ملنسار اور وضع دار شخصیت کے مالک متین عمادی فی الحال عظیم آباد کی کئی ادبی انجمنوں کی سرپرستی کے علاوہ تصنیف و تالیف کے کاموں میں مشغول ہیں۔ مشاعروں میں پابندی سے شرکت کرتے اور کلا سیکی ترنم کے ساتھ اپنا کلام سناتے ہیں۔
——
یہ بھی پڑھیں : تمنا عمادی کا یوم پیدائش
——
متین کا تعلق ایک ایسے صوفی گھرانے سے ہے جس میں تبلیغ دین، اور علوم و فنون کا سلسلہ صدیوں سے جاری ہے۔ ان کے اسلاف میں سب سے قدیم نام حضرت خواجہ عماد الدین قلندر عماد پھلواری بانی خانقاہ عمادیہ کا ہے جو بہار میں اردو زبان و ادب کے ابتدائی معمار وں میں شمار کئے جاتے ہیں۔ ان ہی کی نسبت سے متین خود کو عمادی لکھتے ہیں۔ حضرت عماد کے صاحبزادے حضرت غلام نقشبند سجاد عہد میر سے قبل کے شاعر ہیں۔ اس خانوادے میں شاہ نور الحق طباں اور ظہور الحق ظہور ہیں۔ ان بزرگوں نے اردو نثر کی بھی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔
متین کے والد خانقاہ عمادیہ کے آٹھویں سجادہ نشیں تھے۔ ان کے عقیدت مند اور غزلیہ کلام کا مجموعہ ’’ نقوش صبیح کے نام سے بہار اردو اکادمی کے جزوی مالی تعاون سے شائع ہوا تھا۔ جس کے مرتب متین عمادی تھے۔ ۲۰۰۶ء میں ان کی مرتب کردہ دوسری کتاب’’ مراثی ظہور بھی اردو اکادمی کے مالی تعاون سے شائع ہوئی جس میں ایک مبسوط مقدمہ کے ساتھ ساتھ ظہور الحق کا بھر پور تعارف اور خاندانی شجرہ موجود ہے۔ اسی سال ان کی کتاب’’ فضل حق آزاد بہار اردو اکادمی نے مشاہیر بہار سیریز کے تحت بہت سلیقے سے شائع کی ہے۔ کتاب کے مقدمہ میں آزاد کی شخصیت اور ادبی خدمات خصوصاً شاعری کا بھر پور جائزہ لیا گیا ہے۔ طرحی مشاعروں کے کچھ گلدستے بھی متین نے مرتب کئے ہیں۔
متین عمادی کی نگارشات کا سرسری مطالعہ بھی علم و ادب سے ان کی غیر مشروط وابستگی کا احساس دلاتا ہے۔ انہوں نے ایں خانہ ہمہ آفتاب است کے مصداق اپنے خانوادے کی علمی و ادبی روایت کو آگے بڑھایا ہے ۔ مگر ان کا امتیاز یہ ہے کہ وہ کسی خاص صنفِ ادب کے پابند رہے ہیں نہ کسی مخصوص طرز سخن کے انہوں نے شاعری بھی کی ہے اور نثر نگاری بھی، تحقیقی و تنقیدی مقالے بھی لکھے ہیں اور ظریفانہ مضامین بھی۔ شاعری میں ان کا خاص میدان نعت گوئی اور غزل گوئی ہے۔ لیکن سلام ، نوحہ اور منقبت کے نمونے بھی ان کے یہاں موجود ہیں۔ جن سے ان کے بالیدہ شعری ذوق کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ایک نعت پاک کے اشعار درج ذیل ہیں۔
——
جلوہ احمد مختار میں کھو جاتے ہیں
ان کے آئینہ کردار میں کھو جاتے ہیں
نعت لکھتا ہوں جو پاکیزہ تصور لے کر
لفظ سب مطلع انوار میں کھو جاتے ہیں
حسن یوسف دم عیسیٰ ید بیضا کی قسم
اے خدا ہم ترے شہکار میں کھو جاتے ہیں
جس کی محفل میں صحابہ تھے ستاروں کی طرح
ہم اسی حسن کی سرکار میں کھو جاتے ہیں
——
یہ بھی پڑھیں : خادم رزمی کا یوم وفات
——
غزلوں میں روایت کی پاسداری کے ساتھ احساس کی تازہ کاری کا اندازہ ان اشعار سے لگایا جا سکتا ہے
——
بزدلی اپنے قبیلے کی وراثت ہی نہیں
جھوٹ بولو ں، یہ میرے گھر کی روایت ہی نہیں
بے ضمیری کے مصلے پہ رہوں سجدہ گذار
آئی حصے میں مرے ایسی ذلالت ہی نہیں
ایک سوکھی ہوئی ٹہنی ہے دعا بے گریہ
سجدہ بے معنی اگر روح عبادت ہی نہیں
ہے بہت دولت سیال سے چہرے پہ دمک
جس شجاعت کی ضرورت ، وہ شجاعت ہی نہیں
——
متین اسم با مسمیٰ ہیں وہ زاہد پاکباز ضرور ہیں مگر ان کے مزاج میں زاہد انہ خشکی کی جگہ بذلہ سنجی اور شگفتگی ہے۔ یہ شگفتگی اس وقت زیادہ نمایاں ہوتی ہے۔ جب وہ عہد حاضر کی کسی نا ہمواری کو نشانہ بناتے ہیں۔ اخباروں میں شائع ہونے والے ان کے قطعات میں اسلوب کا یہ رنگ دیدنی ہوتا ہے۔ انہوں نے مختلف رسائل میں کم و بیش آدھ درجن ظریفانہ مضامین ( جنہیں وہ انشائیہ کہتے ہیں ) بھی لکھے ہیں جن میں سنڈے کی فضیلت سب سے نمایاں ہے۔ ان کا کوئی مجموعہ کلام اب تک شائع نہیں ہوا ہے۔ مگر طرحی وغیر طرحی غزلوں کی تعداد دو سو سے زیادہ ہے۔
——
(بشکریہ: بہار کی بہار عظیم آباد بیسویں صدی میں ،تحریر :اعجاز علی ارشد،ناشر: خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، پٹنہ)
——
منتخب کلام
——
حمدِ باری تعالیٰ
——
یہ خطِ حسن ہے لوحِ جہاں پہ تیرا نام
سبک ہواؤں پہ موجِ رواں پہ تیرا نام
بشکل خوشبو فضاؤں کی جاں پہ تیرا نام
بہار بن کے ملا گلستاں پہ تیرا نام
شفق کی سرخی میں تیری نشانیاں پنہاں
لکھا ہوا ہے رخِ کہکشاں پہ تیرا نام
گلوں کی خندہ لبی میں ترے وجود کا عکس
حیات چھیننے والی خزاں پہ تیرا نام
ہے امتحانِ جگر گوشۂ رسول کریم
ہے کربلا کی دکھی داستاں پہ تیرا نام
بتا گیا ہے مجھے عشقِ سرمد و منصور
مچل رہا تھا لبِ عاشقاں پہ تیرا نام
ہزاروں نعمتیں بخشی ہیں تو نے اے مولا
متینؔ کیسے نہ لائے زباں پہ تیرا نام
——
نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
——
تری رہ گذر سے آگے کوئی راستہ نہیں ہے
ترے نقشِ پا سے افضل کوئی نقشِ پا نہیں ہے
درِ مصطفیٰ سے جب تک اسے واسطہ نہیں ہے
وہ قبولِ رب نہیں ہے وہ دعا دعا نہیں ہے
مرے کعبۂ محبت میں بسا ہے کملی والا
مرے دل کی سلطنت میں کوئی دوسرا نہیں ہے
ترا شکر ہے خدایا کہ میں ان کا امتی ہوں
مجھے مصطفیٰ ملے ہیں مجھے کیا ملا نہیں ہے
وہی ہادی مکمل وہی رہنمائے یکتا
کہ جہاں میں ان کے جیسا کوئی رہنما نہیں ہے
انہیں لے چلیں حلیمہ تو یہ کہہ رہی تھی رحمت
تری جاگتی ہے قمست تجھے خود پتا نہیں ہے
ہے متینؔ ان کی مدحت میں شریک خود خدا بھی
یہ چراغِ عشق وہ ہے جو کبھی بجھا نہیں ہے
——
کتنے جلوے رہے احساس کی بینائی میں
ہم کبھی بھی نہ رہے عالمِ تنہائی میں
——
تیرگی ہی تیرگی ہے روشنی کے شہر میں
آدمی کو ڈھونڈتا ہوں آدمی کے شہر میں
——
ہر ایک درد کا ہے اندمال سے رشتہ
جو سایہ پھیلا ہوا ہے سمٹ بھی سکتا ہے
——
غزلوں میں متینؔ اپنی بڑا لطف ہے پنہاں
ہیں کتنے فسانے مرے اظہار کے پیچھے
——
ہم غلامانِ محبت اسے کیا جانیں بھلا
دِیر کہتے ہیں کسے اور ہے کعبہ کیسا
——
طُور پر موسیٰ نے سب دیکھا مگر
دیکھنا تھا جس کو وہ دیکھا نہیں
——
ہم بھی گناہ کرنے کی عادت کو چھوڑ دیں
پروردگار تجھ میں جو بخشش کی خُو نہ ہو
——
واعظِ خوش بیان تجھے آنا تو میکدے میں تھا
بیٹھ کے لطف دیکھتا پینا اگر حرام تھا
——
میں کس طرح نہ اس سے بچھڑنے کا غم کروں
ساتھی وہ میرا برسوں سے ہر راستے کا تھا
——
اٹھی نہیں کہیں سے شہادت کی انگلیاں
قاتل کا یہ کمال و ہنر دیکھتے رہے
——
میرے غرور کی وہیں بنیاد پڑ گئی
جب عرش پر فرشتوں نے سجدہ کیا مجھے
——
تھا کتنا سنگ و خشت کی بارش پہ شادماں
حیرت سے ہم فقیر کا سر دیکھتے رہے
——
اگر روشن مرے احساس کا خاور نہیں ہوتا
مرا پیکر حقیقت میں مرا پیکر نہیں ہوتا
مکمل ہاں مکمل صبر کا دفتر نہیں ہوتا
پیمبر کے شکم پر گر کوئی پتھر نہیں ہوتا
سکوں کی نیند سو رہتے ہیں جو فٹ پاتھ پر ان کو
غمِ بستر نہیں ہوتا ، غمِ چادر نہیں ہوتا
نظر دوڑاؤ اور حالات کی بے چینیاں دیکھو
جو باہر ہو رہا ہے کیا وہی اندر نہیں ہوتا
تعجب ہے کہ کیسے زندگی کی سانس چلتی ہے
مرے سینے پہ کب اندوہ کا خنجر نہیں ہوتا
جو شدت غم کی بڑھتی ہے تو آنسو سوکھ جاتے ہیں
بھری برسات میں برسات کا منظر نہیں ہوتا
متینؔ ان کو بھی دیکھو کتنی بے فکری سے جیتے ہیں
کرائے کا بھی جن کے پاس کوئی گھر نہیں ہوتا
——
مدت پہ گاؤں پہنچا تو بدلا ہوا ملا
شہروں کا رنگ اس پہ بھی چڑھتا ہوا ملا
دیکھا تو اعتماد کے رشتے اداس تھے
اپنوں سے آج اپنا بھی ڈرتا ہوا ملا
چھوٹی سی کوٹھڑی میں بھرا گھر سمٹ گیا
یوں خاندان شہر میں بستا ہوا ملا
اس کے نئے فلیٹ کا کمرہ عجیب تھا
سورج کی روشنی کو ترستا ہوا ملا
سلجھانے جس کے پاس گیا اپنی الجھنیں
خود اپنے مسئلوں میں وہ الجھا ہوا ملا
گھر آیا جب تو ساری تھکن دور ہو گئی
چہرہ غریب بیوی کا ہنستا ہوا ملا
دل کا چراغ راہِ تمنا میں دوستو
جلتا ہوا ملا ، کبھی بجھتا ہوا ملا
پہچان کر متینؔ وہ پہچانتا نہ تھا
دریا نئے مزاج کا امڈا ہوا ملا
——
میں بھی کسی کی راہِ طلب کا غبار تھا
میری نگاہ میں بھی کوئی شاہکار تھا
کمزور برگِ زرد بھی کیا پُروقار تھا
جھونکا ہوا کا اس کی طرف بار بار تھا
تقسیم تھی مکان کی دو بھائیوں کے بیچ
سینہ ضعیف ماں کا غموں سے فگار تھا
حیرت میں ہوں وہ کیسی کرامت دکھا گیا
شفاف بن گیا جو کبھی داغدار تھا
تجھ سے قریب ہونے کا اک راستہ ملا
مجھ کو اسی سبب سے گناہوں سے پیار تھا
ہجرت کی اصلیت سے تعلق نہیں کوئی
تم نے جسے قبول کیا وہ فرار تھا
شرما گیا متینؔ حقیقت کو دیکھ کر
آئینہ زندگی کا بڑا داغدار تھا
——
شعری انتخاب از لہجے کی شناسائی ، مصنف : متین عمادی
شائع شدہ : 2012 ، متفرق صفحات
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات