اردوئے معلیٰ

Search

آج نامور شاعر اسد ملتانی کا یوم وفات ہے

اسد ملتانی——
(پیدائش: 13 دسمبر 1902ء – وفات: 17 نومبر 1959ء)
——
جہاں تک کام چلتا ہو غذا سے
وہاں تک چاہیے بچنا دوا سے
اگرمعدے میں ہو تیرے گرانی
تو جھٹ پی سونف یا ادرک کا پانی
گر خوں کم بنے بلغم زیادہ
تو کھا گاجر، چنے، شلغم زیادہ
——
’’ آسان نسخے‘‘ کے عنوان سے یہ نظم سینکڑوں بار چھپ چکی ہے ، لیکن اکثر شاعر نامعلوم درج ہوتا ہے یا کوئی غلط نام ۔ بے شمار حکیموں نے اسے خوش خط لکھوا کر اپنے مطب، کلینک پرآویزاں کیا اور یہ نظم ان کی ہی مشہور ہوگئی۔۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ نظم کسی حکیم کی نہیں، ایک بیوروکریٹ کی ہے۔ لیکن وہ محض بیورو کریٹ نہیں تھے ، اردو اور فارسی کے ممتاز شاعر اورماہرِ اقبالیات تھے۔ اس نظم کی وجہ سے لوگ ان کے نام کے ساتھہ حکیم بھی لکھنے لگے۔ حالانکہ یہ سب کچھہ محض مطالعے اور سیانوں کی صحبت سے اخذ کیا۔ یہ نظم پہلی بار مجید لاہوری کے رسالے ’’نمکدان‘‘ میں شائع ہوئی۔ اصل نظم کے سولہ اشعار ہیں لیکن لوگ اضافے کرتے رہے ہیں۔
یہ شاعر محمد اسد خان، اسد ملتانی 13 دسمبر 1902 کو ملتان کے ایک علمی ادبی شیرانی پٹھان خاندان کے ہاں کڑی افغاناں میں اپنے آبائی گھر طاقِ اسحاق میں پیدا ہوئے ۔آپ کے والد غلام قادر خان ضلع ملتان کے دفتر میں کلرک تھے علمِ نجوم میں ملکہ حاصل تھا ۔ اسد ملتانی نے ابتدائی تعلیم چرچ مشن ہائی اسکول سے حاصل کی ۔جو بعد ازاں ایمرسن کالج کے نام سے مشہور ہوا۔1921 میں گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لیا۔
——
یہ بھی پڑھیں : نامور افسانہ نگار اور شاعر اسد محمد خان کا یوم پیدائش
——
اُن دنوں علامہ اقبال وہاں فلسفے کے پروفیسر تھے۔اسی دور سے جناب ِ اسد کا علامہ اقبال سے فکری اور روحانی تعلق پیدا ہوا ۔
کہتے تھے
——
شعر میں حضرتِ اقبال کا پیرو ہونا
ہے اگر جُرم تو بیشک اسد اقبالی ہے
——
علامہ اقبال نے انہیں ” افسر الشعراء” کا خطاب بھی دیا۔
1922 میں اپنے بھائی محمد اکرم خان کے ساتھ مل کر ملتان سے روزنامہ’’ شمس ‘‘ کا اجراء کیا اور مطبع الشمس قائم کیا( یہ دونوں بھائی شیرانی برادران کے نام سے مشہور تھے) ۔بعد میں انہوں نے”ندائے افغان” بھی جاری کیا۔محمد اسد خان نے 1924 میں پنجاب یونیورسٹی سے بی اے کیا اور ملتان میں اسلامیہ ہائی اسکول میں بطور انگلش ٹیچر مامور ہوئے۔
1926 میں انڈین پبلک سروس کمیشن سے منتخب ہوکر وائسرائے ہند کے پولیٹیکل آفس میں سپرنٹنڈنٹ مقرر ہوئے ۔قیام دہلی اور شملہ میں رہا۔ قیامِ پاکستان کے بعد دارالحکومت کراچی میں اسسٹنٹ سیکرٹری بنے اور ڈپٹی سیکرٹری خارجہ کے عہدے تک پہنچے ۔
1955 میں انہوں نے ریٹائرمنٹ لے کر اپنے وطن ملتان واپس آکر علمی ادبی کام کرنے کا ارادہ کرلیا تھا۔ اسی دوران دارالحکومت کراچی سے اسلام آباد منتقل ہونے کا فیصلہ ہوا ۔عبوری دارالحکومت راولپنڈی تھا۔
آپ 17 نومبر 1959 کو حرکت ِ قلب بند ہونےسے انتقال کر گئے ۔انہیں ملتان میں ان کے آبائی قبرستان حسن پروانہ میں سپردِ خاک کیا گیا ۔انکے قریبی دوست مولانا احتشام الحق تھانوی کراچی سے خصوصی طور پر نمازِ جنازہ پڑھانے ملتان تشریف لائے۔
جناب اسد ملتانی کی وفات کے وقت تین بیٹیاں اور دو بیٹے حیات تھے ۔اب سب کی وفات ہوچکی ہے ۔انکی منجھلی صاحبزادی محترمہ فرزانہ شیرانی اردو اور سرایئکی شاعرہ اور افسانہ نگار تھیں ۔محض اڑتالیس برس کی عمر میں وفات پا گیئں۔ بہاولپور میں مدفن ہے ۔انکی بڑی صاحبزادی محترمہ شائستہ خانم شیرانی معروف ناول نگار مظہر کلیم کی اہلیہ تھیں۔
جنابِ اسد ملتانی کا کلام انکی حیات میں یکجا نہیں ہو پایا البتہ دو کتابچے شایع ہوئے ۔ایک مرثیہ اقبال جو علامہ اقبال کی وفات پر شایع ہوا دوسرا تحفۂ حرم جو 1954 میں سفرِ حج پر لکھی جانے والی اردو اور سرایئکی نعتوں اور حمدیہ کلام پر مشتمل ہے ۔ ان کا کلام روزنامہ زمیندار ، معارف اعظم گڑھ ، طلوعِ اسلام ، فاران ، ماہِ نو اور نمکدان میں شائع ہوتا رہا
——
یہ بھی پڑھیں : معروف نغمہ نگار اسد بھوپالی کا یوم پیدائش
——
شعری مجموعے مشارق اور تحفہ حرم ان کی وفات کے بعد مرتب کئے گئے۔کلیات ِ اسد ملتانی شوکت حسین بخاری اور اقبالیاتِ اسد ملتانی پروفیسر جعفر بلوچ نے مرتب کی۔ اسد ملتانی کے بارے میں اسد ملتانی۔۔ فکرو فن (پروفیسرعبدالباقی) اورمحمد اسد خان ملتانی ۔۔فکرِ اقبال کا نمایندہ شاعر ( پروفیسر مختار ظفر ) اہم کتابیں ہیں۔
اسد ملتانی کے کچھ شعر
——
رہیں نہ رند یہ زاہد کے بس کی بات نہیں
تمام شہر ہے دو چار دس کی بات نہیں
——
تو دیکھ ترے دل میں ہے سوز طلب کتنا
مت پوچھ دعاؤں میں یہ بے اثری کیوں ہے
——
اے گل جو بہار آئی ہے وقت خود آرائی
یہ رنگ جنوں کیسا یہ جامہ دری کیوں ہے
——
واعظ کوجو عادت ہے پیچیدہ بیانی کی
حیراں ہے کہ رندوں کی ہر بات کھری کیوں ہے
——
اسدؔ ساقی کی ہے دوہری عنایت
شراب کہنہ ڈالی جام نو میں
——
بہت تھے ہم زباں لیکن جو دیکھا
نہ نکلا ایک بھی ہمدرد سو میں
——
اسرار اگر سمجھے دنیا کی ہر اک شے کے
خود اپنی حقیقت سے یہ بے خبری کیوں ہے
——
یہ بھی پڑھیں : یقیں کو اک گماں سا کھا رہا ہے
——
الفت کو اسدؔ کتنا آسان سمجھتا تھا
اب نالۂ شب کیوں ہے آہ سحری کیوں ہے
——
اب وہ مشہور نظم
آسان نسخے
——
جہاں تک کام چلتا ہو غذا سے
وہاں تک چاہیے بچنا دوا سے
اگر تجھہ کو لگے جاڑے میں سردی
تو استعمال کر انڈے کی زردی
اگرمعدے میں ہو تیرے گرانی
تو جھٹ پی سونف یا ادرک کا پانی
اگر خوں کم بنے بلغم زیادہ
تو کھا گاجر، چنے ،شلغم زیادہ
جو بد ہضمی میں تو چاہے افاقہ
تو دو اِک وقت کا کر لے تو فاقہ
جو ہو پیچش تو پیچ اس طرح کس لے
ملا کر دودھ میں لیموں کا رس لے
جگرکے بل پہ ہے انسان جیتا
اگر ضعفِ جگر ہو کھا پپیتا
جگر میں ہو اگر گرمی، دہی کھا
اگر آنتو ں میں خشکی ہے تو گھی کھا
تھکن سے ہوں اگرعضلات ڈھیلے
تو فورا دودھ گرما گرم پی لے
جو طاقت میں کمی ہوتی ہو محسوس
تومصری کی ڈلی ملتان کی چوس
زیادہ گر دماغی ہے تیرا کام
تو کھا تو شہد کے ہمراہ بادام
اگر ہو دل کی کمزوری کا احساس
تومربہ آملہ کھا اور انناس
جو دکھتا ہو گلا نزلے کے مارے
تو کر نمکین پانی کے غرارے
اگر ہے درد سے دانتوں کے بےکل
تو انگلی سے مسوڑوں پر نمک مل
اگر گرمی کی شدت ہو زیادہ
تو شربت ہی بجائے آبِ سادہ
جو ہے افکارِ دنیا سے پریشاں
نمکدان پڑھہ نمکداں پڑھہ نمکداں
[ ماہنامہ ’’ نمکدان‘‘ کراچی ، فروری مارچ 1955 ]
——
نیچے درج اشعار ، اسد ملتانی کے نہیں۔ دوسرے لوگوں نے اضافہ کئے ہیں۔ مزید بھی ہو سکتے ہیں
——
ذیابیطس اگر تجھہ کو ہے مارے
تو جامن تازہ کھا اور لے نظارے
شفا گر چاہیے کھانسی سے جلدی
تو پی لے دودھ میں تھوڑی سی ہلدی
اگر کانوں میں کبھی تکلیف ہووے
تو سرسوں تیل پھائے سے نچوڑے
اگر آنکھوں میں پڑ جاتے ہوں جالے
تو دکھنی مرچ گھی کے ساتھہ کھا لے
تپ دق سے اگر چاہیے رہائی
بدل پانی کے گّنا چوس بھائی
دمہ میں یہ غذا بے شک ہے اچھی
کھٹائی چھوڑ کھا دریا کی مچھی
گر ہندی تو ہے دنیا سے پریشاں
خدا کی یاد سے کر دل کو شاداں
——
منتخب کلام
——
رہیں نہ رند، یہ واعظ کے بس کی بات نہیں
تمام شہر ہے دوچار دس کی بات نہیں
ہیں کچھ طیور فضائے چمن کے زندانی
فقط اسیری ء دام و قفس کی بات نہیں
نگاہِ دوست سے ہوتی ہے دل کی نشوونما
یہاں مقابلہ ء خار و خس کی بات نہیں
پسندِ خاطرِ اہلِ صفا ہے میری غزل
کہ اس میں کوئی ہوا و ہوسّ کی بات نہیں
نگاہ بھی نہیں اُٹھتی بلندیوں کی طرف
طلب کا ذکر نہیں ،دسترس کی بات نہیں
اسد یہ کام ہے صد گونہ سینہ کاوی کا
حیات صرف شمارو نفس کی بات نہیں
——
اسرارِ کائنات کا محرم بنا دیا
ساقی نے جام دے کے مجھے جم بنا دیا
میں اس کی جستجو میں ہوں جس کے خیال نے
دل کو مرے محیطِ دوعالم بنا دیا
افسانہء حیات سُنایا جو شمع نے
بزمِ طرب کو حلقہء ماتم بنا دیا
اگلے جہاں میں شیخ تجھے مل چکا بہشت
جب اس جہاں کو تونے جہنم بنا دیا
تنگ آگیا ہوں میں دلِ حساس سے اسد
اس نے تو مجھ کو دردِ مجسم بنا دیا
——
تماشا ہے کہ سب آزاد قومیں
بہی جاتی ہیں آزادی کی رو میں
وہ گرد کارواں بن کے چلے ہیں
ستارے تھے رواں جن کے جلو میں
سفر کیسا فقط آوارگی ہے
نہیں منزل نگاہ راہرو میں
ہے سوز دل ہی راز زندگانی
حیات شمع ہے صرف اس کی لو میں
بہت تھے ہم زباں لیکن جو دیکھا
نہ نکلا ایک بھی ہمدرد سو میں
اسدؔ ساقی کی ہے دوہری عنایت
شراب کہنہ ڈالی جام نو میں
——
یہ بھی پڑھیں : سنور کر پھر گئی قسمت اِسی مردِ تن آساں کی
——
ان عقل کے بندوں میں آشفتہ سری کیوں ہے
یہ تنگ دلی کیوں ہے یہ کم نظری کیوں ہے
اسرار اگر سمجھے دنیا کی ہر اک شے کے
خود اپنی حقیقت سے یہ بے خبری کیوں ہے
سو جلوے ہیں نظروں سے مانند نظر پنہاں
دعویٔ جہاں بینی اے دیدہ وری کیوں ہے
حل جن کا عمل سے ہے پیکار و جدل سے ہے
ان زندہ مسائل پر بحث نظری کیوں ہے
تو دیکھ ترے دل میں ہے سوز طلب کتنا
مت پوچھ دعاؤں میں یہ بے اثری کیوں ہے
اے گل جو بہار آئی ہے وقت خود آرائی
یہ رنگ جنوں کیسا یہ جامہ دری کیوں ہے
واعظ کو جو عادت ہے پیچیدہ بیانی کی
حیراں ہے کہ رندوں کی ہر بات کھری کیوں ہے
ملتا ہے اسے پانی اشکوں کی روانی ہے
معلوم ہوا کھیتی زخموں کی ہری کیوں ہے
الفت کو اسدؔ کتنا آسان سمجھتا تھا
اب نالۂ شب کیوں ہے آہ سحری کیوں ہے
——
حوادث
——
تاخیر نہیں ہوتی تعجیل نہیں ہوتی
تقدیر دعاؤں سے تبدیل نہیں ہوتی
مٹتی ہے ابھرتی ہے، بنتی ہے بگڑتی ہے
تخیّل کی دنیا کی تشکیل نہیں ہوتی
وہ بات ہی کیا جس کا حاصل ہی نہ ہو کوئی
وہ حکم ہی کیا جس کی تعمیل نہیں ہوتی
دستورِ ہوس جب تک آساں نظر آتا ہے
آئینِ محبت کی تشکیل نہیں ہوتی
ملتی ہیں حوادث میں کچھ مصلحتیں، لیکن
ایسے بھی تو ہیں جن کی تاویل نہیں ہوتی
عریاں نظر آتی ہے انسان کی مجبوری
جب پختہ ارادوں کی تکمیل نہیں ہوتی
تھمتے ہی نہیں آنسو، رکتی ہی نہیں آہیں
اے غم! تِرے مکتب میں تعطیل نہیں ہوتی
جب تک نہ گزر جائے آتشکدۂ غم سے
انسان کی سیرت کی تکمیل نہیں ہوتی
——
شعری انتخاب بحوالہ رنگ اردو بلاگ
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ