اردوئے معلیٰ

Search

آج پاکستان کے طرح دار ادیب عطاء الحق قاسمی کا یوم پیدائش ہے۔

عطاء الحق قاسمی(ولادت: 1 فروری 1943ء )
——
عطاء الحق قاسمی پاکستان میں ایک طرح دار ادیب، سفرنامہ نگار اور مزاحیہ کالم نگار ہیں۔ وہ ایک طویل عرصے سے روزنامہ جنگ میں لکھ رہے ہیں۔ وہ 1 فروری1943ء کو متحدہ ہندوستان کے شہر امرتسر میں پیدا ہوئے۔نامور عالم دین اور تحریک پاکستان کے رہنما مولانا بہاء الحق قاسمی کے فرزندہیں۔ تدریس کے شعبے سے کیریئر کا آغاز کیا، ساتھ ہی ساتھ صحافت سے بھی وابستہ رہے اور ’’روزن دیوار سے‘‘ کے عنوان سے کالم نگاری کا آغاز کیاجس کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔
پاکستان ٹیلی وژن کے لیے کئی معروف ڈراما سیریل تحریر کیے جن میں خواجہ اینڈ سن، شب دیگ، حویلی اور شیدا ٹلی کے نام قابل ذکر ہیں۔ ناروے اور تھائی لینڈ میں پاکستان کے سفیر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ صدر پاکستان نے 14 اگست 1991ء کو تمغائے حسن کارکردگی اور بعد ازاں ستارۂ امتیاز اور ہلال امتیاز عطا کیا۔ آدم جی ادبی انعام اور اے پی این ایس ایوارڈ بھی حاصل کرچکے ہیں۔ آج کل الحمرا آرٹس کونسل لاہور کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین ہیں۔
انہیں ناروے اور تھائی لینڈ میں پاکستانی سفارت خانوں میں بطور سفیر فرائض سر انجام دینے کا اعزاز حاصل ہے۔ اب ان کا ایک بیٹا یاسر پیر زادہ بھی اردو کا لکھاری ہے۔
—–
تصانیف
—–
روزنِ دیوار سے،
عطایئے،
خند مکرر،
شوقِ آوارگی،
گوروں کے دیس میں،
سرگوشیاں،
حبس معمول،
جرمِ ظریفی،
دھول دھپا،
آپ بھی شرمسار ہو،
دلّی دور است،
کالم تمام،
بازیچۂ اعمال،
بارہ سنگھے،
ملاقاتیں ادھوری ہیں،
دنیا خوب صورت ہے،
مزید گنجے فرشتے،
سرگوشیاں،
—–
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر مختار صدیقی کا یوم وفات
—–
ہنسنا رونا منع ہے،
اپنے پرائے،
علی بابا چالیس چور
ایک غیر ملکی کا سفرنامۂ لاہور
—–
عطاء الحق قاسمی ایک سدا بہار کالم نگار تحریر: ڈاکٹر محمد شہزاد
—–
عطاء الحق قاسمی ادبی دنیا کے لئے عطائی نہیں بلکہ عطا ہیں۔ ان کے ساتھ حق کی آواز شامل ہو جاتی ہے تو قحط الرجال میں وہ عطاء الحق بن کر سامنے آتے ہیں۔ حق گوئی ہو یا حق کی تلاش ہر عہد میں مشکل رہی ہے اسی طرح دوسرے عطاء الحق قاسمی کی تلاش بھی مشکل ہے۔
جیسے مریضوں کی کثرت ہو اور ڈاکٹر کم۔ وبائی امراض پھیل رہے ہوں تو عطائی حکیم عطائی ڈاکٹر کھمبیوں کی طرح نکل آتے ہیں اور خم ٹھونک کر انسانی جانوں کو تختہ مشق بناتے ہیں۔ آج کل معاشرہ بڑے گھمبیر مسائل اور اخلاقی امراض کا شکار ہے۔ اس لیے ڈاکٹر کی طرح کالم نگار بھی کم اور عطائی کالم نگار تصویروں کے ساتھ چھپتے اور اپنے نیم کارڈ (Name Card) پر کالم نگار کا سابقہ لاحقہ لگائے گھومتے پھرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس وقت آپ یقیناًمجھ سے اتفاق کریں گے کہ عطاء الحق حقے سچے کالم نگار ہیں اور ان کی کالم نگار ی حقیقت نگاری سے مزین ہے۔
عطاء الحق قاسمی کی کالم نگاری میں سب سے زیادہ کشش وسیلۂ اظہار کی ہے کہ اہل زبان کی طرف سے کسی سند کی ضرورت سے بے نیاز نظر آتے ہیں کہ زبان ضرور کوثر وتسلیم میں دُھلی ہو گنگا یا جمنا میں غسل یا تیمم کرایا جائے۔ یہ جذبے کی صداقت سے بے ساختہ کالم کو اپنے قلم کے گرد محوِ طواف کر لیتے ہیں اور دیس پنجاب کے کھیتوں کھلیانوں اور دیہات کی خوشبو میں ڈوبے ہوئے آنچل کی طرح لہراتے ہیں۔
؂ شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے
یہ بات تو شاعری اور شعروسخن کے حوالے سے کہی جاتی ہے کہ جذبات کے ساتھ ساتھ انسان کی شخصیت کا بھی اظہار ہو جاتا ہے۔ عطاء الحق قاسمی کا ہر کالم ان کی شخصیت کو بھی سامنے لاتا ہے لیکن قاسمی صاحب رسوائی کا الزام نہیں اٹھاتے۔ چونکہ کالم بھی کسی نہ کسی نئے موضوع پر ہوتا ہے اس لیے ان کی شخصیت کا بھی کوئی نیا پہلو سامنے آتا ہے جو بڑا محترم ہوتا ہے۔ مثلاً یہ پاکستان سے والہانہ محبت کرتے ہیں لہٰذا میں انہیں قومی کالم نگار کہہ سکتا ہوں۔ پاکستان کے مسائل جیسے گاؤں گاؤں، شہر شہر، گھرگھر بکھرے ہوئے ہیں وہ اس کالم نگار کی رگوں میں بھی دوڑتے پھرتے نظر آتے ہیں اور یہی سوچ انہیں پھر ایک سچے کالم نگار اور کالم نگار سے آگے غم گسار کی طرح سامنے لاتی ہے۔
—–
یہ بھی پڑھیں : میرے آقا مدینہ بلا لو میرے دل کی یہی التجا ہے
—–
عطاء الحق قاسمی کے ہر کالم میں شاخِ گُل کی مہکارتو ہے تلوار کی کاٹ نہیں اور مزاح کا رنگ بھی گلابی گلابی ہے جو کالم نگاری میں سیرابی کے عمل کو زندہ رکھتا ہے۔ یہ کالم نگاری میں ابہام نگاری نہیں کرتے کہ یہ باتیں ضرور کرنا ہیں بلکہ قلم کی روانی اور احساس کی جولانی انہیں خود بیدار رہنے اور بیدار رکھنے کے راستے پہ ڈال دیتی ہے۔ جس کردار کو موضوع بناتے ہیں اس کے خدوخال پوری سچائی کے ساتھ ہمارے سامنے لاتے ہیں لیکن اس میں انسانی تحقیر یا تذلیل کی صورت پیدا نہیں ہونے دیتے۔ یہاں وہ کالم نگار کے منصب اور دائرہ فکر کی جغرافیائی حدود (Line of Demarcation) بھی متعین کرتے ہوئے آگے آتے ہیں۔
عطاء الحق قاسمی اپنے ہر کالم میں امید اور سدھار کی کھڑکی کھلی رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کے کالموں میں فتوے بازی اور حرب و ضرب نظر نہیں آتی۔ عطاء الحق قاسمی نے اپنے ماہ وسال ہوائی سفر میں نہیں گزارے بلکہ زمینی مقاماتِ آہ وفغاں سے بھی گزرے ہیں۔ محنت کی شدت اور محنت کے ثمرات واثرات سے بھی ہمکنار ہیں۔ اس لیے وہ لکھتے وقت امام مسجد، ماجھے ساجھے، سیاست دان، شاعر، ادیب، فرشتے یا شیطان پر لکھ رہے ہوتے ہیں تو وہ چشم دید گواہ کی طرح شہادت بن کر لکھتے چلے جاتے ہیں اور اس سیاحت میں ہم بغیر ٹکٹ کے اپنے ملک میں ہنستے، روتے کرداروں سے ہاتھ ملا لیتے ہیں۔ چونکہ عطاء الحق قاسمی کی کالم نگاری بھی ربع صدی کا حصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں۔ اس لیے آپ مجھ سے اتفاق کریں گے کہ وہ الفاظ کو بیساکھی بنا کر نہیں لکھتے بلکہ الفاظ کو نئے نئے پیرہن پہنا کر عروسِ اظہار میں جلوہ افروز کرتے ہیں۔ میں یہاں اس مقام پر ایک مثال دینا چاہوں گا۔
"اپوزیشن کا ‘الف’ گرادیا جائے تو باقی ‘پوزیشن’ رہ جاتی ہے اور پوزیشن تین طرح کی ہوتی ہے۔ پوزیشن جو اچھی بھی ہوتی ہے، بری بھی ہوتی ہے اور پوزیشن جو لی بھی جاتی ہے۔ سو اپوزیشن میں اس وقت تینوں قسم کی پوزیشن کے لوگ موجود ہیں”۔
اب یہاں دیکھیے عطاء الحق قاسمی نے ایک لفظ کی تبدیلی سے اپنے کالم کو مکمل کر لیا اور ایوان میں بیٹھے کتنے چہروں کو آئینہ رو کر دیا۔
ہمارے معاشرے میں پھیلی ہوئی روایات جنہیں ہم نے اپنے سینوں سے لگا رکھا ہے اور آنکھ اشکبار نہ ہوتے ہوئے بھی زندگی کو سوگوار دیکھتی ہے لیکن عطاء الحق قاسمی کی کالم نگاری دیکھیے کہ وہ روایات کے اس کرب زار میں بھی عطاء الحق بن کر سامنے آتے ہیں۔
عطاء صاحب کے بقول !
"کسی محفل میں میری ملاقات ایک سوگوار شخص سے ہوئی جس کے والد کو فوت ہوئے کچھ عرصہ گزرا تھا۔ وہ اپنے والد کی وفات سے متعلق گفتگو کر تے ہوئے کہہ رہا تھا ‘پورے نو من گھی خرچ ہوا ہے’اس سے میں نے اندازہ لگایا کہ شایدُ مردوں کو تَل کے دفن کیا جاتا ہے کیونکہ متذکرہ شخص کا نومن گھی چہلم کی رسومات کی ادائیگی کے سلسلے میں خرچ ہوا تھا”۔
عطاء الحق قاسمی کی کالم نگاری کو معاشرے میں تعمیری کردار ادا کرنے والوں کی محبت بھی رنگ وروغن فراہم کرتی ہے۔ مثال کے طور پر تحریک پاکستان میں جنہوں نے کردار ادا کیا اور ان کا خون وطن عزیز کی بنیادوں میں صرف ہوا یا وہ کردار جو صلاحیتوں کے ساتھ ہی زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے یا وہ استحصال کی ٹھوکریں کھاتے رہے یہ عطاء صاحب کی کالم نگاری کا اثاثہ ہیں وہ کالم نگاری کے فورم پر کس خوبصورت انداز میں آنکھوں میں شبنم کی ٹھنڈک اتار تے ہیں۔ اگرچہ کچھ حاتم طائی ناراض ہیں کہ وہ کالم نگاری سچائی کی دہلیز پر بیٹھ کر کرتے ہیں اور ان کے قلم کی روشنائی کسی کشکول میں جمع نہیں رہتی۔ کچھ روزقبل آپ کا کالم حفیظ جالندھری کے حوالے سے تھا۔
اگرچہ حفیظ جالندھری قومی ترانے کے خالق ہیں شاہنامہ اسلام ان کا شاہکار ہے۔ لیکن وہ ماضی کا افسانہ بنتے جارہے ہیں اس لیے ان کے دل کی ہُوک اور قلم کی کُوک ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ذرائع ابلاغ میں جہاں ریاست ہو سیاست ہو ادب ہو وہیں ان مشاہیر کے نام کی خوشبو کو محسوس کیا جائے یعنی انہیں صرف ماضی کے چراغ نہ سمجھا جائے بلکہ اپنی سوچ میں ان کی سوچ کی روشنی کو بھی شامل کیا جائے۔
—–
یہ بھی پڑھیں : مشہور مزاح نگار ضیاء الحق قاسمی کا یوم وفات
—–
جیسے چاند کے گرد روشنی کا ایک ہالہ ہوتا ہے اور اردگرد ستارے بکھرے ہوتے ہیں یہ ستارے ان کے موضوعات ہیں اور یہ چاند کا ہالاعطاء صاحب کی شگفتگی اور مزاح نگاری ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ عطاء الحق اگر عطاء الحق ہیں تو وہ کالم نگار ہیں۔ اگر وہ کالم نگار ہیں تو عطاء الحق قاسمی ہیں۔ اس لیے جب بھی کالم کو چھوا جائے گا اور جب کسی کالم نگار کے نام پر دستک دی جائے گی تو ہر موڑپر عطاء الحق قاسمی اپنے کالم کے ساتھ ہم کلام ہو ں گے۔ کالم لکھتے ہوئے اور کالم پڑھتے ہوئے دکھائی دیں گے اور یہ کالم نگاری کی وسعتیں ہیں کہ شاعری میں بھی ان کے ہر شعر میں کالم کی دھنک مسکراتی اور جی کو لبھاتی ہے
—–
منتخب کلام
—–
آئے ہیں لوگ رات کی دہلیز پھاند کر
ان کے لیے نوید سحر ہونی چاہیئے
—–
دلوں سے خوف نکلتا نہیں عذابوں کا
زمیں نے اوڑھ لیے سر پر آسماں پھر سے
—–
گم ہوا جاتا ہے کوئی منزلوں کی گرد میں
زندگی بھر کی مسافت رائیگاں ہونے کو ہے
—–
جس کی خاطر میں بھلا بیٹھا تھا اپنے آپ کو
اب اسی کے بھول جانے کا ہنر بھی دیکھنا
—–
لگتا نہیں کہ اس سے مراسم بحال ہوں
میں کیا کروں کہ تھوڑا سا پاگل تو میں بھی ہوں
—–
یہ کس عذاب میں اس نے پھنسا دیا مجھ کو
کہ اس کا دھیان کوئی کام کرنے دیتا نہیں
—–
اسے اب بھول جانے کا ارادہ کر لیا ہے
بھروسہ غالباً خود پر زیادہ کر لیا ہے
—–
وہ ایک شخص کہ منزل بھی راستا بھی ہے
وہی دعا بھی وہی حاصل دعا بھی ہے
—–
منزلیں بھی یہ شکستہ بال و پر بھی دیکھنا
تم سفر بھی دیکھنا رخت سفر بھی دیکھنا
حال دل تو کھل چکا اس شہر میں ہر شخص پر
ہاں مگر اس شہر میں اک بے خبر بھی دیکھنا
راستہ دیں یہ سلگتی بستیاں تو ایک دن
قریۂ جاں میں اترنا یہ نگر بھی دیکھنا
چند لمحوں کی شناسائی مگر اب عمر بھر
تم شرر بھی دیکھنا رقص شرر بھی دیکھنا
جس کی خاطر میں بھلا بیٹھا تھا اپنے آپ کو
اب اسی کے بھول جانے کا ہنر بھی دیکھنا
یہ تو آداب محبت کے منافی ہے عطاؔ
روزن دیوار سے بیرون در بھی دیکھنا
—–
یہ بھی پڑھیں : معروف ادیب مختار مسعود کا یوم وفات
—–
وہ گرد ہے کہ وقت سے اوجھل تو میں بھی ہوں
پھر بھی غبار جیسا کوئی پل تو میں بھی ہوں
خواہش کی وحشتوں کا یہ جنگل ہے پر خطر
مجھ سے بھی احتیاط کہ جنگل تو میں بھی ہوں
لگتا نہیں کہ اس سے مراسم بحال ہوں
میں کیا کروں کہ تھوڑا سا پاگل تو میں بھی ہوں
وہ میرے دل کے گوشے میں موجود ہے کہیں
اور اس کے دل میں تھوڑی سی ہلچل تو میں بھی ہوں
نکلے ہو قطرہ قطرہ محبت تلاشنے
دیکھو ادھر کہ پیار کی چھاگل تو میں بھی ہوں
کیسے اسے نکالوں میں زندان ذات سے
زندان ذات ہی میں مقفل تو میں بھی ہوں
ماضی کے آئنے میں عطاؔ کوئی خوش ادا
شکوہ کناں تھا کہتا تھا سانول تو میں بھی ہوں
—–
تھوڑی سی اس طرف بھی نظر ہونی چاہیے
یہ زندگی تو مجھ سے بسر ہونی چاہیے
آئے ہیں لوگ رات کی دہلیز پھاند کر
ان کے لیے نوید سحر ہونی چاہیے
اس درجہ پارسائی سے گھٹنے لگا ہے دم
میں ہوں بشر خطائے بشر ہونی چاہیے
وہ جانتا نہیں تو بتانا فضول ہے
اس کو مرے غموں کی خبر ہونی چاہیے
—–
وہ ایک شام جو پردیس میں اترتی ہے
تمہیں خبر ہی نہیں دل پہ کیا گزرتی ہے
تمہیں خبر ہی نہیں میرے دن گزرنے کی
تمہیں خبر ہی نہیں رات کیسے کٹتی ہے
عجب زمین پہ اترا ہوں اس کے رنگ عجیب
پرے دھکیلتی ہے پاؤں بھی پکڑتی ہے
یہ کیا ہوا کہ کسی اور گھر کے آنگن میں
ترے جمال کی بارش برستی رہتی ہے
ہوا کے دوش پہ اڑتا میں جا رہا ہوں عطاؔ
زمین پاؤں سے میرے سرکتی جاتی ہے
—–
نظم : ٹریفک سگنل
میں عہد رفتہ کو ڈھونڈھتا ہوں
نئی کتابوں کے معبدوں میں
پرانے لفظوں کو پوجتا ہوں
میں منظر ہوں بشارتوں کا
مری زبان پر میں صبح نو کے افق کے نئے جہاں کے
نئے ترانے
پرانی قبریں چٹخ رہی ہیں
دیے بجھاؤ کہ سرخ سورج ابھر رہا ہے
دلوں میں کوئی اتر رہا ہے
نئے پرانے ہیں لفظ میری زباں پہ لیکن
میں ان کی لذت سے بے خبر ہوں
میں بے ہنر ہوں
میں سرخ بھی ہوں میں سبز بھی ہوں
میں کچھ نہیں ہوں
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ