اردوئے معلیٰ

آج معروف عالم دین، محدث، محقق، ادیب، مورخ، مدرس اور منصف مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی کا یومِ وفات ہے ۔

عطاء اللہ حنیف بھوجیانی(ولادت:1910ء – وفات: 3 اکتوبر 1987ء)
——
مولانا محمد عطاء اللہ حنیف بھوجیانی ممتاز علمائے اہل حدیث تھے۔ مولانا عطاء اللہ ایک عالم دین، محدث، محقق، ادیب، مورخ، مدرس اور منصف تھے۔
مولانا عطاء اللہ حنیف شیخ الاسلام ابن تیمیہ، حافظ ابن قیم، حافظ ابن حجر اور شاہ والی اللہ دہلوی کی تصانیف کے شیدئی اور دلدادہ تھے اور ایمہ کرام کی تصانیف کا مطالعہ کیا کرتے تھے۔
مولانا عطاء اللہ 1910ء ضلع امرتسر کی تحصیل ترنتارن کے قصبے بھوجیان میں پیدا ہوئے۔ تعلیم کا آغاز قرآن مجید سے ہوا جو آپ نے مولوی عبد الکریم بھوجیانی سے پڑھا۔ تکمیل تعلیم کے بعد آپ گوجرانوالہ چلے گئے اور وہاں پر آپ نے درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔ کچھ وقت بعد آپ گوجرانوالہ سے ریاست فریدکوٹ کے قصبے کپورتھلہ گئے اور وہاں پر آپ نے تین سال تک تدریسی خدمات انجام دیا۔
——
تصانیف
——
مولانا عطاء اللہ حنیف نے درس کے ساتھ ساتھ تصنیف و تالیف کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ آپ کی تصانیف عربی اور اردو میں ہیں۔
حواشی، تخریج و تنقیح و تعلیق تفسیر احسن التفسیر
حواشی الفوز الکبیر (عربی)
حواشی اصول تفسیر ابن تیمیہ
التعلیقات السلفیہ
رہنماے حجاج
پیارے رسول کی پیاری دعائیں
——
یہ بھی پڑھیں : محمد حنیف ندوی کا یومِ وفات
——
مشہور تصانیف کا مختصر تعارف
مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی کی مشہور تصانیف کا مختصر تعارف درج ذیل ہے۔
التعلیقات السلفیہ
یہ کتاب صحاح ستہ کے رکن امام ابو عبد الرحمان احمد بن شعيب النسائی کی سنن نسائی کی شرح بزبان عربی ہے۔ یہ کتاب پہلی مرتبہ 1956ء میں شائع ہوئی۔
رہنماے حجاج
اس کتاب میں حج کے تمام مسائل اور اس کی اقسام، مناسک حج اور دوران حج پڑھی جانے والی دعائیں اور حرمین شریفین کے تاریخی مقامات پر مختصر روشنی ڈالی ہے۔ یہ کتاب پہلی مرتبہ 1955ء میں شائع ہوئی۔
پیارے رسول کی پیاری دعائیں
یہ کتاب دعائے ماثوره کی مجموعہ پر مشتمل ہے۔ اس کی مقبولیت کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ 2000ء تک تقریباً 1.5 لاکھ تعداد شائع ہو چکی ہے۔
——
وفات
——
مولانا عطاء اللہ پر 1983ء میں فالج کا حملہ ہوا۔ تاہم مطالعہ آخر تک جاری رہا۔ آپ کا انتقال 3 اکتوبر 1987ء مطابق 1408ھ کو پاکستان کے شہر لاہور میں ہوا ۔
——
تبصرہ از سفیر اختر ، کتاب : مولانا محمد عطاء اللہ حنیف بھوجیانی اور انکا ماہنامہ ’’ رحیق ‘‘
——
مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی ضلع امرتسر کے ایک گاؤں’’بھوجیاں‘‘ میں 1909 کوپیداہوئے ۔ابتدائی تعلیم اپنے والد گرامی میاں صدرالدین حسین اور مقامی علماء کرام سے حاصل کی ۔اس کےبعد پندرہ سولہ برس کی عمر میں مدرسہ حمیدیہ ،دہلی میں داخل ہوئے او روہاں مولانا عبدالجبار کھنڈیلوی اور ابوسعید شرف الدین دہلوی سے بعض متداول درسی کتب اور حدیث کا درس لیا ۔بعد ازاں لکھو کے اور گوندالانوالہ کے اہل حدیث مدارس میں علوم دینیہ کی تکمیل کی جہاں مولانا عطاء اللہ لکھوی اور حافظ محمد گوندلوی ان کے اساتذہ میں شامل تھے ۔مولانا نے عملی زندگی کاآغاز اپنے گاؤں کے اسی مدرسہ فیض الاسلام میں بطور مدرس کیا جس میں انہوں نے خود ابتدائی تعلیم حاصل کی تھی ۔لیکن چند ماہ قیام کے بعد گوجرانوالہ تشریف گئے او رمختلف مدارس میں تدریسی فرائض سرانجام دیتے رہے ۔سالانہ تعطیلات گزارنے گاؤں گئے ہوئے تھے کہ ہندوستان تقسیم ہوگیا ۔مولانا ہجر ت کر کے پاکستان آگئے اور اپنے پرانے تعارف وتعلق کےتحت گوندلانوالہ میں سکونت اختیار کی ۔ اسی زمانے میں گوجرانوالہ سے ہفت روزہ ’’الاعتصام‘‘ کا ڈیکلریشن حاصل کیا اور مولانا محمد حنیف ندوی کی ادارت میں 9اگست 1949ء کو ’’الاعتصام‘‘ کی اشاعت کا آغاز کیا۔اس کے بعد آپ گوجرانوالہ سے لاہور منتقل ہوگئے اور مکتبہ السلفیہ کی بنا ڈالی اور اس کے تحت اپنے ذوق تحریر واشاعت کی تکمیل کی اور اکتوبر 1956ء میں ایک علمی وتحقیقی مجلہ ’’رحیق‘‘ کااجراء کیا ۔جس کا مقصد اسلام کی عموماً ا ور مسلک اہل حدیث کی خصوصاً تبلیغ واشاعت تھا،اسلام اور سلف امت کے مسلک پر حملوں کی علمی اور سنجیدہ طریقوں سے مدافعت بھی اس کے اہم مقاصد میں شامل تھا ۔
——
یہ بھی پڑھیں : حنیف فوق کا یوم وفات
——
دینی صحافی حلقوں میں ماہنامہ ’’رحیق ‘‘ کا بڑا خیرمقدم کیا گیا ۔لیکن یہ مجلہ صرف تین سال جاری رہا ہے اور مالی مشکلات کی وجہ سے جولائی 1959 کے بعد اس کی اشاعت کی بند ہوگئی۔ مولانا کے تحریر سرمائے میں سرفہرست عربی زبان میں سنن نسائی کا حاشیہ ’’ التعلیقات السلفیہ‘‘ ہے اس کےعلاوہ بھی بہت سی کتب پر علمی وتحقیقی کام اور بعض کتب کےتراجم کرواکر مکتبہ سلفیہ سے شائع کیں۔زیر نظر کتابچہ مجلہ’’ نقظۂ نظر ‘‘اسلام آباد بابت اکتوبر2003ء تامارچ2004ء میں شائع شدہ ماہنامہ ’’ رحیق‘‘ کے اشاریے کی کتابی صورت ہے کتابچہ کے شروع میں اس کے فاضل مرتب معروف قلمکار محترم سفیر اختر صاحب (جو اپنے قلمی نام اخترر اہی کے نام سے زیا د ہ معروف ہیں) نے اشاریۂ رحیق کے ساتھ صاحب رحیق مولانا محمد عطاء اللہ حنیف بھوجیانی کے حوالے سے اپنی چند یادیں اور تاثرات بھی شامل کردیے ہیں۔اللہ تعالی مولانا عطاء اللہ حنیف کی دینی ،علمی ،دعوتی اور صحافی خدمات کو قبول فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلی ٰ مقام عطا فرمائے (آمین)
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات