اردوئے معلیٰ

آج معروف ماہرِ قانون ، ادیب اور حکیم الامت ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے فرزند جاوید اقبال کا یومِ وفات ہے ۔

جاوید اقبال(پیدائش: 5 اکتوبر 1924ء – وفات: 3 اکتوبر 2015ء)
——
جاوید اقبال پاکستان کے شاعر مشرق،شاعر اسلام، اور شاعرِ فلسفی محمد اقبال کے فرزند تھے۔ جنہوں نے تحریک پاکستان تحریک کو متاثر کیا۔ جاوید اقبال نے پاکستان کی قوم پرستی کی تحریک اور سیاسی نظریہ سے متعلق مختلف کتابیں تصنیف کیں۔ فلسفہ کے علاوہ ، جاوید کا جوڈیشری آف پاکستان میں ایک عمدہ مستقبل رہا اور وہ سپریم کورٹ میں اعلی ہونے سے قبل لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس تھے۔
جناب جاوید اقبال 5 اکتوبر 1924ء کو سیالکوٹ میں علامہ محمد اقبال اور ان کی دوسری بیوی ، سردار بیگم سے پیدا ہوئے تھے۔ان کی والدہ کا انتقال اس وقت ہوا جب وہ 11 سال کے تھے ، اور ان کے والد کا انتقال 1938ء میں ہوا جب جناب جاوید اقبال 14 سال کے تھے۔
جاوید اقبال نے بی اے (آنرز) کی ڈگری 1944ء میں گورنمنٹ کالج ، لاہور سے حاصل کی ، انگریزی میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی ،اور 1948ء میں فلسفہ (گولڈ میڈلسٹ) میں ایم اے کی ڈگری،1954 ء میں کیمبرج یونیورسٹی ، برطانیہ سے فلسفہ کی ڈگری حاصل کی، اور اس کے بعد مزید تعلیمی سفر جاری رکھتے ہوئے بیرسٹر-ایڈ-لا ، لنکن ان ، لندن ، 1956ء سے حاصل کی۔ انہوں نے ریاستہائے متحدہ کے ولاینوفا یونیورسٹی اور اردن میں سیلجوک یونیورسٹی سے اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔
——
یہ بھی پڑھیں : فرید جاوید کا یومِ وفات
——
1971ء میں وہ لاہور ہائی کورٹ کے جج مقرر ہوئے اور 23 مارچ 1981ء سے 4 اکتوبر 1986ء تک اس اعلیٰ عدالت کے چیف جسٹس رہے۔ بعدازاں وہ سپریم کورٹ میں بھی جج کے منصب پر فائز ہوئے اور 1989ء تک اس عہدے پر خدمات انجام دیتے رہے۔
سینیٹ آف پاکستان (ایوان بالا پارلیمنٹ) میں منتخب ممبر کی حیثیت سے شامل بھی رہے ہیں۔
جناب جاوید  نے پاکستان میں اسلامی سیاسی فکر ،اور سیاسی نظریہ اور اپنے والد ، ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے فلسفے پر مقالے شائع کیے ، جو قومی اور بین الاقوامی سطح پر جرائد میں شائع ہوئے ۔ سال 1960-62 اور 1977ء میں ، وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کے مندوب رہے ہیں۔
جناب جاوید اقبال نےجنرل ضیاء الحق کے دور اقتدار سے ہی پاکستان کے قوانین میں اصلاحات کے حق میں دلیل پیش کی۔ جاوید اقبال نے پاکستان میں 1970ءسیاسی ماحول میں قدم رکھا اور آپ کو عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ کی طرف سے ٹکٹ ملا ، آپ نے ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف مقابلہ کیا ، لیکن آخر کار جناب جاوید اقبال نے اس میدان کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور اس میدان کو خیر آباد کہہ کر سیاسی ماحول کو ترک کیا۔ اس وقت کے سیاسی میدان میں ایک وقت میں آپ کو پھر سیاسی ماحول میں آنے کی دعوت دی گئی لیکن آپ نے بھٹو کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت کی پیش کش کو مسترد کردیا۔
آپ نے لاہور ہائی کورٹ کی مایہ ناز ریٹائرڈ جج ، ناصرہ اقبال سے شادی کی ۔
جناب جاوید صاحب کو جو آپ کی قابلیت اور صلاحیت کی بنیاد پہ ہلال امتیاز (کریسنٹ آف ڈسٹکشن) 2004 میں صدر پاکستان کی جانب سے دیا گیا ۔
جناب جاوید اقبال 3 اکتوبر 2015ء کو 90 سال کی عمر میں انتقال کر گئے ۔وہ لاہور کے شوکت خانم میموریل کینسر اسپتال لاہور میں ریسرچ سنٹر میں کینسر کے زیر علاج تھے۔کچھ دنوں تک اسپتال میں رہے لیکن زندگی نے وفا نہیں کی اس دار فانی سے رخصت ہوئے۔آپ کے پسماندگان میں آپ کی بیوہ ناصرہ اقبال اور دو بیٹے ولید اقبال اور منیب اقبال شامل ہیں۔
——
یہ بھی پڑھیں : جاوید اختر کا یومِ پیدائش
——
باغبان پور میں واقع احسان قبرستان میں جاوید اقبال کی آخری رسومات کی گئی ان میں بہت سے اعلی اور معزز لوگوں نے شریک کی تھی جن میں چودھری نثار علی خان ، چیف جسٹس آف پاکستان، انور ظہیر جمالی ، سابق صدر پاکستان محمد رفیق تارڑ اور سپریم کورٹ کے سابق جج خلیل الرحمن سمیت متعدد پاکستانی معززین شریک ہوئے تھے اور بہت سے لوگ نماز جنازہ میں شریک ہوئے ۔
علامہ محمد اقبال نے اپنے بیٹے کے نام پر اپنی کتاب جاوید نامہ رکھی۔ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے جاوید اقبال پر بھی بہت ساری نظمیں لکھیں ہیں، اور ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے برٹش ہند میں مسلم نوجوانوں کو بالواسطہ خطاب کیا۔ بعد میں جناب جاوید اقبال نے اپنے والد علامہ اقبال کی دو کتابوں کا ترجمہ اردو میں کیا ہے- جاوید اقبال کی تصانیف میں مئے لالہ فام، نظریہ پاکستان، میراث قائداعظم،علامہ اقبال کی سوانح عمری زندہ رود اور ان کی اپنی خود نوشت سوانح ’’اپنا گریباں چاک‘‘ کے نام سرفہرست ہیں۔
——
تصانیف
——
خطبات اقبال، تسہیل و تفہیم
رضیہ سلطانہ (ڈراما)
افکار اقبال (تشریحات جاوید)
جہاں جاوید (دو جلدیں)
اپنا گریبان چاک (خود نوشت)
زندہ رود (سوانح اقبال)
شذرات فکر اقبال (1961ء)
نظریہ پاکستان، انگریزی میں (1959ء)
پاکستان اور اسلامی لبرل تحریک، انگریزی میں (1994)۔
اسلام مین ریاست کا تصور : شخیص نو، انگریزی میں
اسلام اور پاکستان کی شناخت، انگریزی میں
——
جاوید اقبال کینسر کے مریض تھے۔ 3 اکتوبر 2015ء کی صبح وہ شوکت خانم ہسپتال میں وفات پا گئے۔
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات