پھر عطا ہو جائے آقا روشنی کا پیرہن

تیرہ تیرہ ہوگیا ہے زندگی کا پیرہن جھکنے لگتی ہیں جبیں پھر آپ کی دہلیز پر جب پہن لیتا ہے انساں آگہی کا پیرہن روزِ محشر سامنا کیسے کریں گے آپ کا فخر کرتے ہیں پہن کر جو بدی کا پیرہن آپ کے آتے ہی سب گردِ کدورت دھل گئی ہو گیا شفاف روحِ آدمی […]

وفا کے جرم میں اکثر پکارے جاتے ہیں

ہم اہل ِ عشق ، محبت میں مارے جاتے ہیں ہماری لاش تو گرتی ہے جنگ لڑتے ہوئے مگر جو پیٹھ پہ برچھے اُتارے جاتے ہیں عمامہ سجتا ہے آخر امیرِ شہر کے سر ہمارے جیسے عقیدت میں وارے جاتے ہیں میں روک سکتا نہیں خاک کو بکھرنے سے سمندروں کی طرف چل کے دھارے […]

نہ کوئی دھول نہ منزل نہ راستہ دل کا

نظر سے پار کہیں دور سلسلہ دل کا مرے دماغ نے مجھ کو جگا دیا لیکن اُس ایک خواب میں چہرہ ہی رہ گیا دل کا ایام تلخ ہیں مجھ کو سمجھ نہیں آتا کہ درد کوئی بتائے گا ذائقہ دل کا یہ رات کون مرے ساتھ جاگتا رہا ہے یہ رات کس سے ہوا […]

نہ دل پہ بوجھ رہے گا نہ امتحان میں جان

درود پڑھتے رہو،جب تلک ہے جان میں جان یہ کس کانام لیا، روشنی اترنے لگی یہ کس کاذکر چلا ، پڑگئی زبان میں جان اٹھانا بوجھ کوئی کم نہیں تھا قرآں کا نہ تھی زمین میں طاقت نہ آسمان میں جان حضور ، حرف تلطف کہ بات بن جائے ! حضور ، بوئے تبسم کہ […]

نبی کا نقشِ کفِ پا تلاش کرتا ہوں

زمیں پہ خلد کا رستہ تلاش کرتا ہوں کبھی جبیں پہ کبھی ہاتھ کی لکیروں میں میں اور کچھ نہیں طیبہ تلاش کرتا ہوں مجھے مدینے کے رستے پہ ڈال دے کوئی ازل کا پیاسا ہوں دریا تلاش کرتا ہوں کلامِ رب سے میں چُنتا ہوں نعت کے گوہر دیے کی لو میں اُجالا تلاش […]

نامِ شاہِ امم دل سے لف ہو گیا

نعت لکھنا ہی میرا شغف ہو گیا نعت میں جڑ کے ہونے لگا ضو فشاں میرا ہر حرف درِ نجف ہو گیا جلوہ گر ہو گیا چاند میلاد کا ذکرِ صلِ علےٰ ہر طرف ہو گیا جب نظر پڑ گئی تیری درگاہ پر ایسے دھڑکا مرا دل کہ دف ہو گیا جب ارادہ کیا نعتِ […]

میں عشق عشق کی گردان میں پڑا ہوا تھا

پرانا جسم کہ سامان میں پڑا ہوا تھا تمھارے ساتھ کئی دن گزارنے کے بعد خیال رات کو دالان میں پڑا ہوا تھا ہمارے مسئلے سارے نمٹ چکے تھے مگر معاملہ کوئی تاوان میں پڑا ہوا تھا میں ساری رات اسی کشمکش میں سو نہ سکا نظارا دن کا بیابان میں پڑا ہوا تھا قلم […]

میں دیکھتا ہوں وہ جتنا دکھائی دیتا ہے

پھر اس کے بعد برابر سنائی دیتا ہے وہ سب سے پہلے بلاتا ہے بزم میں مجھ کو کسی بھی درد کو جب رونمائی دیتا ہے وہ دیکھتا نہیں لیکن وہ دیکھ لیتا ہے وہ بولتا نہیں لیکن سنائی دیتا ہے اُس خبر ہے شدت میں کون تڑپے گا وہ باوفا ہے مگر بے وفائی […]