عشقِ سرکار مری ہستی کا عرفاں ٹھہرا
شکر صد شکر اُسی ذات پہ ایقاں ٹھہرا اس لیے زیست کی دشواری ہوئی ہے آساں آسرا میرا حضور آپ کا داماں ٹھہرا چاند بن کر وہ چمکتا ہے مری راتوں میں یادِ آقا میں جو آنسو سرِ مژگاں ٹھہرا پھول ہر گام مرے دل میں کھلے جاتے ہیں جب سے ہے میرا سفر سوئے […]