جانے والا اضطراب دل نہیں

یہ تڑپ تسکین کے قابل نہیں جان دے دینا تو کچھ مشکل نہیں جان کا خواہاں مگر اے دل نہیں تجھ سے خوش چشم اور بھی دیکھے مگر یہ نگہ یہ پتلیاں یہ تل نہیں رہتے ہیں بے خود جو تیرے عشق میں وہ بہت ہشیار ہیں غافل نہیں جو نہ سسکے وہ ترا کشتہ […]

آپ سے پہلے جہانِ خشک و تر کچھ اور تھا

آپ کے آتے ہی عالم سر بسر کچھ اور تھا نور در آغوش یوں تو روز ہوتی تھی سحر آپ جب آئے تو اندازِ سحر کچھ اور تھا بدوؤں کو کر گئی جو آشنا تہذیب سے وہ نظر کچھ اور اسلوبِ نظر کچھ اور تھا ایک لمحے میں سمٹ آئے مکان و لامکاں سائرِ اسراء […]

یہ کون مجھ کو صلِّ علیٰ یاد آ گیا

یکتائیوں کے ساتھ خدا یاد آ گیا غربت میں جب وطن کا مزا یاد آ گیا لوگوں کا مجھ کو بختِ رسا یاد آ گیا دل اپنا اس کا تیرِ جفا یاد آ گیا بیٹھے بٹھائے ہائے یہ کیا یاد آ گیا اس رات مجھ کو نیند نہ آئی تمام رات جس رات خوابِ زلفِ […]

یوں شبیہِ مناجات بنتی رہے

حرف ڈھلتے رہیں نعت بنتی رہے میرے آقا کی محفل سلامت رہے رات کٹتی رہے بات بنتی رہے گر نہ جاؤں وہاں نعت کہتا رہوں یہ سبیلِ ملاقات بنتی رہے جاؤں ، لوٹُوں ، چلوں ، آؤں جاؤں وہاں یوں ہی تصویرِ حالات بنتی رہے پڑھ کے قرآن میں سوچے جاؤں انھیں اور تشریحِ آیات […]

ہوئی ظلم کی انتہا کملی والے

بچا کملی والے، بچا کملی والے غریبوں کی عزت کھلونا بنی ہے ازل سے امیروں کی گردن تنی ہے کرن کوئی چھوٹی نہیں بے کسوں کو جہاں روشنی ہے وہیں روشنی ہے نئے چاند سورج اُگا کملی والے بچا کملی والے، بچا کملی والے یہی ایک فیصد ہیں گھیرے خدائی اِنھیں کی بدولت ہے ہر […]

ہمارا کارِ سخن کتنے کام کا نکلا

غزل کے موڑ سے رستہ سلام کا نکلا ذرا جو غور کیا تو خُدا کے ہاتھ میں بھی عَلَم حُسَین علیہہ السلام کا نکلا کتابِ عشق کا جب بہترین لفظ چُنا تو وہ بھی اسمِ گرامی اِمام کا نکلا شرُوع کی تھی ذرا دیر پہلے جس سے نعت ذرا کُھلا تو وہ مصرعہ سلام کا […]

کچھ بھی نہیں تھا سیّدِ ابرار سے پہلے

اللہ کے محبوبِ طرحدار سے پہلے سرکار کی رحمت سے بنے شاہِ زمانہ ڈوبے تھے جہالت میں جو سرکار سے پہلے خوشبو نہ تھی گل میں نہ کوئی حسن چمن میں بے رنگ تھی دنیا شہِ ابرار سے پہلے آدم کو ملی ان کے تصدّق ہی معافی یعنی تھے محمد سبھی ادوار سے پہلے قرآں […]

کون آخر زینتِ آغوشِ محفل ہو گیا

ایک ہی نظارہ میں جانِ رگِ دل ہو گیا دو نگاہوں کا تصادم اپنا اپنا پھر نصیب کوئی قاتل اور کوئی مرغِ بسمل ہو گیا اے دلِ نا عاقبت اندیش جلتا ہے تو جل حسنِ عالم سوز کے تو کیوں مقابل ہو گیا ہیں کرم فرما کبھی اس پر کبھی جور آزما خوب ہے جیسے […]

کرم اُن کا مکرّر ہو گیا ہے

اشارہ نعت کہنے کا ہُوا ہے مرے وارث ہیں جبکہ خود محمد نہ ڈر کوئی نہ خوفِ ابتلا ہے ملا کرتا ہے مال و زر سبھی کو مجھے عشقِ نبی ورثہ ملا ہے ازل سے منتظِر جس کا تھا عالم قریشی ہاشمی وہ آ گیا ہے کبھی در سے نہ لوٹا کوئی خالی کرم بے […]

چہرہ ان کا صبحِ روشن، گیسو جیسے کالی رات

باتیں اُن کی سبحان اللہ، گویا قرآں کی آیات رُخ کا جلوہ پنہاں رکھا پیدا کر کے مخلوقات حُسنِ ظاہر سب نے دیکھا، کس نے دیکھا حُسنِ ذات جذبہ کی سب گرمی، سردی، بہتے اشکوں کی برسات ہم نے سارے موسم دیکھے، ہم پر گزرے سب حالات غم کی ساری چالیں گہری، بچتے بچتے آخر […]