نظر میں ہے درِ خیرالوریٰ بحمداللہ

نظر میں ہے درِ خیرالوریٰ بحمد اللہ قبول ہو گئی میری دعا بحمد اللہ چلی ہے ان کے کرم کی ہوا بحمد اللہ ہر ایک سانس ہے محوِ ثناء بحمد اللہ درِ حضور پر جب بھی دعا کو لب کھولے ملا ہے مجھ کو طلب سے سوا بحمد اللہ یہی ہے میرا اثاثہ، یہی مری […]

نظر جمالِ رُخ نبی پر جمی ہوئی ہے جمی رہے گی

ہمارے دل میں نبی کی الفت بسی ہوئی ہے بسی رہے گی ہمیں یقین ہے کہ کام اپنے بنیں گے آخر کرم سے ان کے رسول اکرم سے لو ہماری لو لگی ہوئی ہے لگی رہے گی وہی ہے ملجا وہی ہے ماویٰ یہ بات کہتے ہیں ہم بدعویٰ یہ اک حقیقت ہے لوحِ دل […]

مہر و مہ و انجم کی، تنویر کا وہ باعث

انساں کی زمانے میں، توقیر کا وہ باعث تخلیق بشر کا بھی، کارن ہیں مرے آقا ہیں خانہ ہستی کی، تعمیر کا وہ باعث گو خالق ارض و سما، موجود ہے، دائم ہے ہیں اس کے تعارف کا، تکبیر کا وہ باعث ایجاب دعاؤں کا، ہے ان کے حوالے سے سب خوابوں کی ہیں اپنے، […]

مصروفِ ثنا میں ہے ثناخوانِ محمد

مصروفِ ثنا میں ہے ثناخوانِ محمد ہے نغمہ سرا بلبل بستانِ محمد خوش رنگ گُل وغنچہ معطّر ہیں فضائیں صد رشکِ بہاراں ہے گلستانِ محمد رضواں درِ جنت پہ ہمیں دیکھ کے بولا آنے دو انہیں یہ ہیں غلامانِ محمد محشر میں گنہگاروں کی بن جائے گی بگڑی مل جائے اگر سایۂ دامانِ محمد معراجِ […]

مرے مولا کہتا رہوں سدا , تری شان جل جلالہ

مجھے کر عطا یہی سلسلہ , تری شان جل جلالہ تری قدرتوں کا شمار کیا , تری عظمتوں کا حساب کیا تو خدا ہے میرے حبیب کا , تری شان جل جلالہ یہ کرم ہے تیرا مرے خدا ، جو میں کہہ رہا ہوں یہ برملا میں ترا ہوں اور ہے تو مرا ، تری […]

مردے کو بھی مزار میں لینے نہ دے گی چین

صد شکر بجھ گئی تری تلوار کی ہوس قاتل یہی تھی تیرے گنہ گار کی ہوس مردے کو بھی مزار میں لینے نہ دے گی چین تا حشر تیرے سایۂ دیوار کی ہوس سو بار آئے غش ارنی ہی کہوں گا میں موسیٰ نہیں کہ پھر ہو نہ دیدار کی ہوس رضواں کہاں یہ خلد […]

مدحتِ شاہِ مدینہ میں کھلی ہیں آنکھیں

ترجماں دل کی ہمیشہ سے رہی ہیں آنکھیں جب سے سرکار کی چوکھٹ پر جھکی ہیں آنکھیں جانبِ خلدِ بریں بھی نہ اٹھی ہیں آنکھیں کسی پتھر کی تراشیدہ نظر آتی ہیں اس طرح گنبدِ خضرا پہ جمی ہیں آنکھیں حرمِ پاک پہ سجدوں سے جبیں روشن ہے سرمہ خاکِ مدینہ سے سجی ہیں آنکھیں […]

صبح ہو شام جدائی کی یہ ممکن ہی نہیں

ہجر کی رات وہ ہے جس کے لیے دن ہی نہیں صبح کرنا شب غم کا کبھی ممکن ہی نہیں آ کے دن پھیر دے اپنے وہ کوئی دن ہی نہیں دل بے تاب محبت کو ہو کس طرح سکوں دونوں حرفوں میں جب اس کے کوئی ساکن ہی نہیں کیا مذمت ہے مجھے صبح […]

شہِ دوسرا کا ہم سر نہ ہوا نہ ہے نہ ہوگا

کوئی ان کے جیسے سرور نہ ہوا نہ ہے نہ ہوگا کوئی پھول باغِ کُن میں بہ کمالِ شانِ قدرت گُلِ احمدی سے بہتر نہ ہوا نہ ہے نہ ہوگا ملا جسم بھی تو ایسا کہ نہیں ہے جس کا سایہ میرے مصطفیٰ سا پیکر نہ ہوا نہ ہے نہ ہوگا کوئی ایسا در زمیں […]

شبِ وعدہ ہے تُو ہے اور میں ہوں

شب وعدہ ہے تو ہے اور میں ہوں ہجوم آرزو ہے اور میں ہوں دل بیگانہ خو ہے اور میں ہوں بغل میں اک عدو ہے اور میں ہوں مٹاتا ہی رہا جس کو مقدر وہ میری آرزو ہے اور میں ہوں پریشاں خاطری کہتی ہے اپنی کسی کی جستجو ہے اور میں ہوں شب […]