سوال ، لمحہ وہ کون سا تھا کہ جب یہ دونوں جہان مہکے

جواب ، میرے نبی جو آئے تو سارے کون و مکان مہکے سوال، ظلمت کدے میں کیسے کرن بھلا روشنی کی آئی جواب، صحرا میں جیسے بارش خبر لئے زندگی کی آئی سوال ، کیسے بچو گے ان سے جو ایک دوجے کو مارتے ہیں جواب ، شر سے اگر ہو بچنا تو ہم محمد […]

سرکار کڑی دھوپ میں ہم لوگ کھڑے ہیں

اور اپنے ہی اعمال کی دلدل میں گڑے ہیں سرکار! اندھیروں کے بھنور میں ہیں سفینے اور ان میں معاصی کے بڑے بوجھ پڑے ہیں نیّت میں ہیں سو کھوٹ بچا لیجیے سرکار پاسِنگ ترازو میں ہیں، پلڑوں میں دھڑے ہیں دنیا ہے کہ میدانِ عقوبت ہے یہ سرکار اک دشتِ بلا خیز میں ہم […]

سرمایۂ جمال ہے طیبہ کے شہر میں

محبوب ذوالجلال ہے طیبہ کے شہر میں خوشبو ہو روشنی ہو ہوا ہو کہ زندگی ہر شے میں اعتدال ہے طیبہ کے شہر میں یارب یہاں کی خاک میں مل جائے میری خاک بس ایک ہی سوال ہے طیبہ کے شہر میں دل کتنے غم لیے ہوئے آیا تھا لیکن اب بیگانۂ ملال ہے طیبہ […]

سب سے اعلی ہے نبی کی ذات کہہ

ان کی اک اک بات رب کی بات کہہ خود مدد فرمائے گا پروردگار تھام قرطاس و قلم اور نعت کہہ اپنے ہر عاشق کی ان کو ہے خبر ان سے تو مت صورتِ حالات کہہ اذ رمیت”​ والی آیت پڑھ کے دیکھ”​ دستِ احمد کو خدا کا ہات کہہ ان کی زلفوں کی ہے […]

روضئہ شاہ پہ سوغات کے قابل کی ہے

دو جہاں ان پہ فدا، ایک مرا دل کیا ہے راہِ طیبہ کے مسافر کو نہیں اس سے غرض موجِ طوفان ہے کیا، عشرتِ ساحل کیا ہے ایک بندے کے تصرف میں دو عالم دے دے شانِ قدرت کے لیے بات یہ مشکل کیا ہے آپ کی ذات میں اے پیکرِ آئینہ صفات کس کے […]

دہر کے اجالوں کا، جوبن آپ کے عارض

نور حق کی تابش سے، روشن آپ کے عارض آپ کا حسیں پیکر، کائنات کا زیور نقرئی سراپا ہے، کندن آپ کے عارض رنگ، روشنی، خوشبو، پھول، تتلیاں، جگنو حسن کے حوالے ہیں، مخزن آپ کے عارض وہ بھی کیا زمانہ تھا، عاشقوں کے نینوں کو آٹھوں پہر دیتے تھے، درشن آپ کے عارض کاش […]

دلوں سے غم مٹاتا ہے محمد نام ایسا ہے

نگر اجڑے بساتا ہے محمد نام ایسا ہے انہی کے نام سے پائی فقیروں نے شہنشاہی خدا سے بھی ملاتا ہے محمد نام ایسا ہے انہی کے ذکر سے روشن راتیں پھر لوٹ آتی ہیں نصیبوں کو جگاتا ہے محمد نام ایسا ہے درودوں کی مہک سے محفلیں آباد رہتی ہیں میری نعتیں سجاتا ہے […]

تصور ہم نے جب تیرا کیا پیش نظر پایا

تجھے دیکھا جدھر دیکھا تجھے پایا جدھر پایا کہاں ہم نے نہ اس درد نہانی کا اثر پایا یہاں اٹھا وہاں چمکا ادھر آیا ادھر پایا پتا اس نے دیا تیرا ملا جو عشق میں خود گم خبر تیری اسی سے پائی جس کو بے خبر پایا دل بے تاب کے پہلو سے جاتے ہی […]

تجھ سے ہے بہار جانِ عالم

اے چارہء بے کسانِ عالم تو اصلِ بنائے خلق ٹھہرا تو عز و وقار و شانِ عالم سدرہ ترے خادموں کا مسکن اے خواجہ ءِ خواجگانِ عالم مہکی نہ تھی بوئے خلق جب تک ویران تھا گلستانِ عالم جب تک ترے ذکر سے تہی تھا بے رنگ تھی داستانِ عالم تارے ترے ہمرکاب آئے اے […]

اے مطلع ایثار و مساوات کے نیر

اب اٹھ کے ترے در سے کہاں جائے گی دنیا اب کس سے ہو ماحول کے ظلمت کا تدارک اب تیرے سوا کون یہ ناسور بھرے گا پھر دور جہالت کی طرف پلٹی ہے تاریخ ہے پیش نظر آج وہی رنگ فضا کا اب قوم پہ وہ سخت گھڑی آئی ہے مولا جب وقت کے […]