آلودۂ عصیاں خود کہ ہے دل، وہ مانعِ عصیاں کیا ہو گا

جو اپنی حفاظت کر نہ سکا، وہ میرا نگہباں کیا ہو گا ذوقِ دلِ شاہاں پیدا کر، تاجِ سرِ شاہاں کیا ہو گا جو لُٹ نہ سکے وہ ساماں کر، لُٹ جائے جو ساماں کیا ہو گا غم خانہ، صنم خانہ، ایواں یا خانۂ ویراں کیا ہو گا قصہ ہے دلِ دیوانہ کا، حیراں ہوں […]

آدمیت کا حق ادا نہ ہوا

خوب ہے آدمی خدا نہ ہوا جان دی، سر دیا ہے، کیا نہ ہوا وہ مگر قائلِ وفا نہ ہوا لاج رکھ لی ہے ضبطِ گریہ نے مشتہر غم کا ماجرا نہ ہوا شکوۂ غیر کس زباں سے کریں دل مرا ہو کے جب مرا نہ ہوا ظلم کو پھر اٹھا ہے دستِ یزید اف […]

یہ دنیا اک سمندر ہے مگر ساحل مدینہ ہے

ہر اک موج بلا کی راہ میں حائل مدینہ ہے مدینے کے مسافر تجھ پہ میرے جان و دل قربان تیری آنکھیں بتاتی ہیں تیری منزل مدینہ ہے زمانہ دھوپ ہے اور چھاؤں ہے بس اک بستی میں یہ دنیا جل کے بجھ جاتی مگر شامل مدینہ ہے جہاں عشاق بستے ہوں وہ بستی ان […]

یا رب ترے محبوب کا جلوا نظر آئے

اس نورِ مجسم کا سراپا نظر آئے اے کاش کبھی ایسا بھی ہو خواب میں میرے ہوں جس کی غلامی میں وہ آقا نظر آئے روشن رہیں آنکھیں یہ مری بعدِ فنا بھی گر وقتِ نزع وہ شہِ والا نظر آئے تا حشر مری قبر میں ہو جائے اجالا مرقد میں جو ان کا رُخ […]

ہے سرورِ عالم کا ہی بس نام و نسب خاص

اور ان کی ہی نسبت سے ہوئی ارض عرب خاص ذکر ان کا جو کرتی ہو، زباں خاص وہی ہے مدح ان کی بیاں کرنے سے ہو جاتے ہیں لب خاص ہر شے کو بنا دیتا ہے خاص ان سے تعلق راتوں میں اسی واسطے اسرا کی ہے شب خاص توقیر ہے اس لفظ نے […]

ہر چیز تیرا نقشِ کفِ پا ہی لگے ہے

کعبے کو جو دیکھوں ہوں مدینہ ہی لگے ہے کیا جانیے کیا کیا ہیں کراماتِ مدینہ دنیا بھی تیرے شہر کا ذرہ ہی لگے ہے سنسار پہ جو چھاوؔں کیے رہتا ہے ہر دم آکاش ترا گنبدِ خضرا ہی لگے ہے مالا وہ جپی خواجہ کونین کی میں نے اب جو بھی لگے ہے مجھے […]

ہر آنکھ میں پیدا ہے چمک اور طرح کی

ہے گنبد خضراء کی جھلک اور طرح کی ہر آن خیالوں میں ہے اس شہر کی ٹھنڈک چلتی ہے جہاں بادِ خنک ، اور طرح کی جھونکا کوئی گزرا ہے مدینے کی ہوا کا اطراف میں ہے آج مہک، اور طرح کی جب لوٹ کے آتے ہیں مدینے کے مسافر ہوتی ہے جبینوں پہ چمک، […]

کیوں وصل میں بھی آنکھ ملائی نہیں جاتی

وہ فرق دلوں کا وہ جدائی نہیں جاتی کیا دھوم بھی نالوں سے مچائی نہیں جاتی سوتی ہوئی تقدیر جگائی نہیں جاتی کچھ شکوہ نہ کرتے نہ بگڑتا وہ شب وصل اب ہم سے کوئی بات بنائی نہیں جاتی دیکھو تو ذرا خاک میں ہم ملتے ہیں کیونکر یہ نیچی نگہ اب بھی اٹھائی نہیں […]

واللّیل ضیائے زلفِ دوتا رخسار کا عالم کیا ہوگا

اے ذاتِ رسالت رُخ کے ترے انوار کا عالم کیا ہوگا جب عام کرم سرکار کا ہے بے دینوں پر گستاخوں پر اللہ غنی شیداوؔں پر پھر پیار کا عالم کیا ہوگا اے غیرتِ یوسف بن دیکھے جب تجھ کو نگائیں ڈھونڈتی ہیں اکثر یہ خیال آجاتا ہے دیدار کا عالم کیا ہوگا جب اُن […]