آسمانوں کو سنبھالوں تو زمیں گرتی ہے

میں زمیں تھام کے رکھوں تو فلک جاتا ہے پھر ترے بخت میں جو ہو سو وہی صورت ہے راستہ دشت کے آغاز تلک جاتا ہے ساقیِ عشق ، ہر اک بار ہی دریا دل تھا عمر کا جام ہی چھوٹا ہے چھلک جاتا ہے دید کچھ یوں بھی تہی دست ہوئی جاتی ہے ہر […]

آخر دبوچ لی گئی تتلی جنون کی

اس خانماں خراب کو منطق نے جا لیا محوِ خرامِ خوابِ ختن ، ڈھیر ہو گئے مایوسیوں کے غول نے ان کو گرا لیا ناممکنات ، ٹھونک کے خم، اٹھ کھڑی ہوئیں امکان کے گمان نے اک نام کیا لیا ہے تیز دھوپ ، موم کے کم بخت پیکرو اس مہرباں نے زلف کا سایہ […]

آباد رہیں تیرے تبسم کے جزیرے

ہم بحر حوادث سے نہ ابھرے بھی تو کیا ہے معمور و منور ہوں ترے روپ کے ساحل ہم لوگ اگر پار نہ اترے بھی تو کیا ہے نکھرا ہی رہے اوس کی بوندوں سا یہ چہرہ حالاتِ گلستان نہ سدھرے بھی تو کیا ہے ہم لوگ تھے شہکار ترے دستِ قضا کا مانے بھی […]

یہی درد ہے میری زندگی کہ عطائے عشقِ رسول ہے

جسے تم سمجھتے ہو خار ہے یہ سدا بہار کا پھول ہے سفرِ حبیب کی رفعتیں یہ لطافتیں یہ نظافتیں ہوئی مس نہ پائے رسول سے کہ یہ کہکشاں بھی تو دھول ہے نہ ہے رنگ عشقِ رسول کا نہ مہک ہے یادِ حبیب کی بھلا ایسے دل کو میں دل کہوں کہ یہ ایک […]

یہ کیفیت جو مری بے خودی کی ہے

اک انبساط ثنائے محمدی کی ہے مرے رسول کا احساں ہے ساری دنیا پر مرے رسول نے دنیا کی رہبری کی ہے کسی کے دل میں مقامِ رسول کتنا ہے یہ بات تو ادراک وآگہی کی ہے وفا بھی آپ کی معراج پر ہے پیارے رسول کہ راہِ حق میں ہر اک طرح کی سعی […]

ہوئی ہے رُوح مری جب سے آشنائے درود

لہو میں گونجتے رہتے ہیں نغمہ ہائے درود دروُد ازل ہی سے موجود ہے پہ دنیا میں حضور آئے تو رکّھی گئی بنائے درود کھلا یہ منزلِ ہستی کا مجھ پہ رازِ نہاں نجات کا کوئی رستہ نہیں سوائے دروُد برہنہ لفظ لبوں سے کبھی ادانہ ہوئے زباں نے پہنی ہے جب سے مری قبائے […]

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے ڈرے کیوں میرا قاتل کیا رہے گا اس کی گردن پر وہ خوں جو چشم تر سے عمر بھر یوں دم بدم نکلے نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن بہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے بھرم کھل جائے ظالم […]

ہر علم کی تخلیق کے معیار سے پہلے

سرکار ہی موجود تھے سرکار سے پہلے تعمیر ہوئی بعد میں یہ ساری عمارت دروازہ بنایا گیا دیوار سے پہلے اک عرش بچھایا گیا اس فرشِ زمیں پر رستوں کو اُبھارا گیا رفتار سے پہلے ترتیب دیا صاحبِ اسرارِ جہاں نے اک حُسنِ تکلم تری گُفتار سے پہلے موجود رہا خلوتِ ہر شے میں وہ […]

کوئی امید بر نہیں آتی

کوئی صورت نظر نہیں آتی موت کا ایک دن معین ہے نیند کیوں رات بھر نہیں آتی آگے آتی تھی حال دل پہ ہنسی اب کسی بات پر نہیں آتی جانتا ہوں ثواب طاعت و زہد پر طبیعت ادھر نہیں آتی ہے کچھ ایسی ہی بات جو چپ ہوں ورنہ کیا بات کر نہیں آتی […]

کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی

اس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اس نے بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی وہ کہیں بھی گیا لوٹا تو مرے پاس آیا بس یہی بات ہے اچھی مرے ہرجائی کی تیرا پہلو ترے دل کی طرح آباد رہے تجھ پہ گزرے […]