میں نے سپردِ خاک کیے آخری کنول

پھر دفن ہو گیا ہوں دفینے کے ساتھ ہی شرمندگی میں شکل عیاں ہو گئی مری سب رنگ بہہ گئے ہیں پسینے کے ساتھ ہی ساحل پہ کون ہے کہ سنے گا بھلا مجھے ڈوبے گی یہ صدا بھی سفینے کے ساتھ ہی دگنا ہے میرا کرب غمِ آگہی کہ میں مر کر بھی دیکھتا […]

خیال و خواب سے آگے گماں سے بالاتر

یہ خآمشی ہے مری جاں بیاں سے بالاتر تمہاری کھوج میں پرواز کر کے آ پہنچا میں لامکان سے آگے، مکاں سے بالاتر عجیب ضد ہے کہ اک بار جا کے دیکھ سکوں جہاں نظر نہیں جاتی وہاں سے بالاتر میں دھول چاٹ رہا ہوں تمہاری خواہش پر مری تو خاک بھی تھی آسماں سے […]

اک ثانئے کو چونک اٹھے تم کو دیکھ کر

مصروفِ رقصِ مرگ مگر پھر سے ہو گئے ہئیت وہ ہو چکی تھی کہ جب لوٹنا ہوا رستے جھجھک کے دور مسافر سے ہو گئے شاعر ہے نصف مجھ میں تو ہے نصف بھیڑیا اور تم خفا ہوئے بھی تو شاعر سے ہو گئے

غربت کا بھی احساس کہاں شہر بدر کو

پھرتا ہے جنوں دوش پہ لادے ہوئے گھر کو دھڑکن ہے کہ حلقوم میں پھر گونج رہی ہے اب کون سی حسرت ہے دلِ سوختہ سر کو اس شہرِ فراموش میں کیا فرق رہا ہے کس طور جدا جانئے دیوار سے در کو دل کھول کے رونے کے تعیش کی ہوس میں اب اور نچوڑوں […]

شکست

غبارِ خاطرِ برہم کبھی کا بیٹھ چکا کہولتوں نے بالاخر نقوش کو ڈھانپا خموشیوں میں شکستہ ہوا خدائے سخن زمین شق نہ ہوئی اور نہ آسماں کانپا وہ ماورائے گمانِ شکست ٹوٹ چکا وہ انتہائے سخن کا امیں خموش ہوا جو موقلم سے سحر میں گلال بھرتا تھا دھنک تراشنے والا سیاہ پوش ہوا وہ […]

عریانی

پھر ایک بار بتایا گیا ، وضاحت سے کہ میں ہوں جذبہِ ناکام ، اور کچھ بھی نہیں مرا یہ زعمِ خدائی ، کہ خود فریبی ہے خیالِ خامِ دلِ خام ، اور کچھ بھی نہیں عبث گمان کا قیدی ہوں، اور کیا ہوں میں کبھی بھی یکتاء و نایاب شخص تھا ہی نہیں میں […]

شکوہِ ترکِ آرزو نہ گلہ

ان کوئی بات ہی نہیں باقی بات باقی بھی ہو کیا کہیے جب یہاں کوئی بھی نہیں باقی محفلِ شب میں خاک اڑتی ہے چاند میں روشنی نہیں باقی شعر لفظوں کا جھمگٹا ٹھہرے فکر میں دل کشی نہیں باقی جس قدر فاصلے ابھر آئے اس قدر زندگی نہیں باقی اب جنوں مصلحت پرست ہوا […]

وحشتِ بے پناہ سے بڑھ کر

آرزو کیا ہے آہ سے بڑھ کر چشمِ صحرا نورد میں تم تھے خوابِ آب و گیاہ سے بڑھ کر میں ترے وار کارگر کرنے آ رہا ہوں سپاہ سے بڑھ کر آن پہنچا فریبِ منزل تک واہمہ ہائے راہ سے بڑھ کر میں تری خامشی کو سنتا تھا دیکھتا تھا نگاہ سے بڑھ کر […]

میوزیم

حیاتِ گزشتہ کے انمٹ خزانے اسی آب اور تاب سے جگمگاتے ہوئے آج تک بھی پرانے زمانے کی ہر اک کہانی کہے جا رہے ہیں اور ان کے سرہانے جو کاغذ کے پرزے ہین ان پہ لکھا ہے کہ یہ چیز کیا ہے، یہ کتنی پرانی ہے اور کن زمینوں سے ان کو برامد کیا […]

اک دور میں میں عشق کا منکر ضرور تھا

لیکن تمہاری ذات پہ ایمان تھا مجھے جب تک کوئی کمال کوئی بھی ہنر نہ تھا تب معرکہ حیات کا آسان تھا مجھے ائے موجہِ نسیمِ سحر ، میں چراغ ہوں تیرا تو التفات بھی طوفان تھا مجھے وہ تو شبِ فراق نے جاں مانگ لی مری ورنہ بڑا وصال کا ارمان تھا مجھے آخر […]