میں نے سپردِ خاک کیے آخری کنول
پھر دفن ہو گیا ہوں دفینے کے ساتھ ہی شرمندگی میں شکل عیاں ہو گئی مری سب رنگ بہہ گئے ہیں پسینے کے ساتھ ہی ساحل پہ کون ہے کہ سنے گا بھلا مجھے ڈوبے گی یہ صدا بھی سفینے کے ساتھ ہی دگنا ہے میرا کرب غمِ آگہی کہ میں مر کر بھی دیکھتا […]