کیا مرگ و نیستی ہے تو کیا بود و ہست ہیں

یہ فاصلے جنوں کے لیے ایک جست ہیں ہم پر کوئی بھی مان کوئی بھی یقین کیا ہم لوگ عشق پیشہ و وحشت پرست ہیں سر ہو چکیں تو علم ہوا ہم کو صاحبو یہ چوٹیاں بھی کرب کی قامت سے پست ہیں ہم کو ترے وجود سے کیا چاہیے کہ ہم اپنی فنا کے […]

میں کان ہاتھ سے ڈھانپے یونہی نہیں بیٹھا

کہ مجھ میں چیخ رہا ہے شکست خوردہ جنوں تمام عمر دکھایا نہ معجزہ کوئی تو آج خاک تماشہ دکھائے مردہ جنوں فنا ہوا ہے کہاں دست برد سے غم کی مقابلے پہ اترتا ہے دست بردہ جنوں سبھی لباس دلاسوں کے نوچ کر مجھ کر عجیب طنز سے ہنستا رہا فسردہ جنوں

کیا ہی ذوق افزا شفاعت ہے تمھاری واہ واہ

قرض لیتی ہے گنہ پرہیزگاری واہ واہ خامۂ قدرت کا حُسنِ دست کاری واہ واہ کیا ہی تصویر اپنے پیارے کی سنواری واہ واہ اشک شب بھر انتظارِ عَفوِ امّت میں بہیں میں فدا چاند اور یوں اختر شماری واہ واہ اُنگلیاں ہیں فیض پر ٹوٹے ہیں پیاسے جھوم کر ندّیاں پنجابِ رحمت کی ہیں […]

جنوں کے ساتھ ابھی تک ہیں سلسلے گویا

تمہارے لمس کے سورج نہیں ڈھلے گویا حریمِ حرف کوئی تان بخش دے اب تو ترے ریاض میں اب کٹ چکے گلے گویا بس اپنا آپ لپیٹا تھا زادِ رہ کہہ کر بدن مٹا کے تری راہ پر چلے گویا تری تلاش کے رستوں میں جذب ہو ہو کر سرک سرک کے سمیٹے ہیں فاصلے […]

زنانِ مصر

حسیں ہاتھوں سے خنجر نے انوکھا کھیل کھیلا ہے رگوں سے خون جاری ہے مگر آنکھوں میں ایسی بے کلی کروٹ بدلتی ہے کہ جیسے انگلیاں کٹنا تو اک معمول ٹھہرا ہو مگر معمول سے ہٹ کر وہ حسنِ بے مثل کیا تھا؟ فقط اک مختصر لمحہ؟ بھلا پلکیں جھپکنے میں وہ جیتا جاگتا منظر […]

حریمِ ناز

حریمِ ناز، تری خوبروئی کے صدقے وہ درد ڈھونڈ لیا ہے جو لادوا ٹھہرے وہ شورِ شورشِ جذبات جب فسانہ ہوا تو چپ ملی مجھے ایسی کہ مدعا ٹھہرے حریمِ ناز ، تری صاف دامنی کے لئے مٹا لیے ہیں خد و خال آج اپنے ہی حریمِ ناز ، تری تازگی سلامت ہو گھٹا لیے […]

کیا تغزل تھا اس تکلم میں

بولتا تھا کوئی ترنم میں بہہ گیا جامِ ضبط سے آخر اور میں جذب ہو گیا تم میں آسماں گر پڑا ہے دھرتی پر اور میں پِس گیا تصادم میں عادتاً کھِنچ گئے تھے لب میرے کچھ معانی نہ تھے تبسم میں احمقو ، ناخدا بدلنے سے فرق کیا آگیا تلاطم میں

تم نہ عریاں ہوئے غنیمت ہے

اس قدر روشنی کا کیا کرتا زندگی آخرش بسر کر دی اور اس زندگی کا کیا کرتا تنگ آیا ہوا ہو جو خود سے کوئی اس آدمی کا کیا کرتا جو مرے شعر سن کے آیا تھا وہ مری خامشی کا کیا کرتا منزلِ عشق مہرباں ہی سہی ذوقِ آوارگی کا کیا کرتا بے بسی […]

یہ یک رخی تو نہ تھی ، چو مکھی لڑائی تھی

میں ہارتا کبھی خود سے تو جیتتا تم کو عروج عشق کا پرچم تھا اور بقاء خوبی زوال مجھ کو مبارک ہو انتہا تم کو بہا ہی چاہتا ہوں وقت کے سمندر میں سلام وحشتِ کامل کو اور دعا تم کو

یا الٰہی! ہر جگہ تیری عطا کا ساتھ ہو

یاالٰہی! ہر جگہ تیری عطا کا ساتھ ہو جب پڑے مشکل شہِ مشکل کشا کا ساتھ ہو یاالٰہی! بھول جاؤں نزع کی تکلیف کو شادیِ دیدارِ حُسنِ مصطفیٰ کا ساتھ ہو یاالٰہی! گورِ تیرہ کی جب آئے سخت رات اُن کے پیارے منھ کی صبحِ جاں فزا کا ساتھ ہو یاالٰہی! جب پڑے محشر میں […]