یہ پیغامِ حبیبِ کبریا ہے

فقط اللہ کو سجدہ روا ہے تُو واحد ہے ، احد ہے ، تُو صمد ہے ترے جیسا نہ کوئی دوسرا ہے نہیں اس میں ذرا سا بھی کوئی شک کہ راہِ مصطفےٰ ، راہِ خدا ہے نہیں اوجھل جہاں میں کچھ بھی تجھ سے تجھے ہر شے کے بارے میں پتا ہے !عطا کر […]

کس منہ سے شکر کیجیے پروردگار کا

عاصی بھی ہوں تو شافع روزِ شمار کا گیسو کا ذکر ہے تو کبھی روئے یار کا یہ مشغلہ ہے اب مرا لیل و نہار کا چلنے لگی نسیمِ سحر خلد میں ادھر دامن اِدھر بلا جو شہِ ذی وقار کا دامن پکڑ کے رحمتِ حق کا مچل گیا اللہ رے حوصلہ دل عصیاں شعار […]

اے الٰہُ العالمیں ! تجھ سا کوئی بھی نہیں

تُو شہِ رگ سے قریں ، تجھ سا کوئی بھی نہیں تُو ہی داتا بالیقیں ، تجھ سا کوئی بھی نہیں سب ترے زیرِ نگیں ، تجھ سا کوئی بھی نہیں تُو ہی رکھتا ہے مری ہر ضرورت کا خیال مالکِ عرشِ بریں ، تجھ سا کوئی بھی نہیں مثل ہو تیری کوئی ، تجھ […]

تصورات کے جنگل سے راستہ نکلے

کبھی مدار سے باہر بھی بھیڑیا نکلے ترا بھلا ہو کہ تیری وضاحتوں کے سبب مری شکست کے پہلو ہزارہا نکلے تھی ایک عمر میں خواہش کہ کھل سکے کوئی پر اب کے خوف ہے لاحق کہ کون کیا نکلے کبھی زمین پہ جم کر کھڑے بھی ہو پائیں چبھا ہوا ہے جو کانٹا جنون […]

رافت وعالم کی چادر ہیں رسولِ عربی

حسنِ اخلاق کے پیکر ہیں رسولِ عربی خاص خطے کے نہیں، خاص قبیلے کے نہیں دونوں عالم کے پیمبر ہیں رسولِ عربی شاہِ کونین، مگر پیٹ پر پتھر باندھے ایسے رتبے کے تونگر ہیں رسولِ عربی کشتیِ عمر میری کیوں نہ ہو محتاجِ کرم بحرِ رحمت کے شناور ہیں رسولِ عربی ذاتِ اقدس سے شبِ […]

ظلمت کدے میں نور کا دھارا رسول ہیں

میری امید، میرا سہارا رسول ہیں حسنِ سلوک، مہر و مروّت کو دیکھ کر اغیار کو بھی دل سے گوارا رسول ہیں بہرِ تلاشِ منزل عرفان وآگہی ہر گام راہ بر ہیں، اشارا رسول ہیں اکثر ہوا ہے ایسا تصوّر کی چھاوؔں میں میری نظر ہے اور نظارہ رسول ہیں قرآن کا ہے آئینہ اخلاق […]

یہی عرفان ہستی ہے یہی معراج انساں کی

محمد مصطفیٰ کے عشق میں جاں جس نے قرباں کی شعارِ مصطفیٰ بنیاد ہو گر اپنے ایماں کی بدل سکتے ہیں قسمت آج بھی اپنے گلستاں کی زباں سے ہم نبی کے عشق کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر شمعِ عمل ہم نے کہاں اور کب فروزاں کی مسلماں کے لیے ہے مشعل راہ عمل […]

نوحہ گر

چھٹ گئیں محفلیں اور گھر رہ گئے ہم تری دُھن میں محوِ سفر رہ گئے ایک دہلیز چومی تھی جھک کے کبھی اور پھر عمر بھر دربدر رہ گئے رقص کرتے ہوئے ہم دھواں ہو گئے دم بخود ذوقِ اہلِ نظر رہ گئے رقص کیا تھا کہ وحشت کی پرواز تھی کہ پروں کے تلے […]

سارے لایعنی قصے تھے جو لگتے تھے با معنی

میرا ہونا کیا معنی تھا اور نہ ہونا کیا معنی میں نے ساری عمر لگا کر یہ لاینحل شعر کہے کون بھلا مطلب تک پہنچا کون بھلا سمجھا معنی تیری برف سماعت پر میرے حرفوں کی آگ بجھی تیرے فہم کی دیواروں سے پھوڑ کے سر ہارا معنی جیسا ادق جتنا مشکل تھا ، تھا […]

اس سے پہلے کہ لہو چشمِ وفا سے پھوٹے

کوچہِ خواب سے میں کیوں نہ کنارہ کر لوں تم وہ بے حس کہ مزاقاً مری تذلیل کرو میں وہ لاچار کہ ہر بار گوارا کر لوں روح کہتی ہے کہ یہ منزلِ مقصود نہیں جسم کہتا ہے بہرحال گزارا کر لوں