گُلاب موسم ہے اور نکہت کا سلسلہ ہے
دیارِ خوشبو کا سارا منظر ہی دلکشا ہے مَیں اُس سخی کے حضور میں ہُوں، پہ سوچتا ہُوں جو ساتھ لایا تھا حرفِ مطلب وہ کیا ہُوا ہے جو بے طلب ہی عطا ہے وہ تیرے در کو زیبا جو بے نیازِ سوال ہے وہ ترا گدا ہے مَیں رہ گُزارِ کرم میں مثلِ غُبار […]