یوں شان خدا نے ہے بڑھائی ترے در کی
جبریل بھی کرتا ہے گدائی ترے در کی سُنتے ہیں بہت تختِ سلیمان کی شہرت ہے عرش کے ہم پایہ چٹائی ترے در کی ملتی ہے اسی در سے ہی عرفان کی دولت رہ خوب ہمیں رب نے دکھائی ترے در کی وہ روضۂ انوار، وہ گنبد کے نظارے تصویر ہے آنکھوں میں سجائی ترے […]