امداد امام اثر کا یوم پیدائش

آج اردو کے نامور شاعر شمس العلماء امداد امام اثر کا یوم پیدائش ہے ۔

امداد امام اثر(پیدائش: 17 اگست 1849ء – وفات: 17 اکتوبر 1934ء)
——
امداد امام نام اور اثر تخلص کرتے تھے۔ 17اگست 1849 کوبہار کے ضلع پٹنہ کے آرہ کے ضلع سالارپوکےایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔امداد اثر کے والد کا نام سید وحید الدین خان تھا۔ ابتدائی تعلیم گاؤں میں ہی سید محمد محسن بنارسی سے حاصل کی۔ امداد اثر اردو، فارسی، عربی اور انگریزی کے جید عالم تھے۔ وہ شیعہ مسلک اور عقیدے سے تعلق رکھتے تھے۔ دو شادیاں کیں۔ پہلی شادی خاندانی پسند سے عنفوان جوانی میں ہوئی۔ ان کی اہلیہ جستس شرف الدیں کی بڑی ہمشیرہ سے ہوئی تھی۔ان سے ان کے دو صاحب دارد ہیں جن کا نام علی امام اور حسن امام تھا۔ علی امام کو انگریز حکومت نے ” سر” کے اعزاز اور خطاب بھی دیا۔ 1909 میں ساٹھ {60} سال کی عمر نے دوسرا نکاح کیا۔ اپنی شادی کی وجہ وہ اپنی کتاب ” کاشف الحقاق” میں یوں بیان کرتے ہیں” ۔۔” میرا سن شادی بیاہ کا نہ تھا مگر کیا کرتا یہ کرارسپرا کے امام باڑے اور نیورا کی مسجدیں ویران ہوگئیں۔ علی امام، حسن امام کرستان ہوگئے ۔ کلمہ توحید پڑھنے والا میری نسل میں نہ رہا۔ مجبوراََ شادی کرکے دوبارہ نسل جاری کرنی پڑی "۔۔ ان کے دو لڑکے اس شادی سے ان کے چار لڑکے سید حسین امام ، سید کاظم امام، سید عابد امام، سید صادق امام تھا۔ حسین اور کاظم اثر صاحب کی حیات میں اللہ کو پیارے ہوگئے تھے۔ ان کی دو صاحب زادیوں کا انتقال ان کی زندگی میں ہوگیا تھا۔ 17 اکتوبر 1934ء میں انتقال ہوا۔
——
یہ بھی پڑھیں : امداد امام اثر کا یوم وفات
——
امداد امام اثر کم و پیش حالیؔ اور شبلیؔ کے زمانے کے ایک نقاد ہیں جو براہ راست تو سر سید کی تحریک کے زیراثر تشکیل پائے ہوئے تنقیدی نظریات سے متاثر نہیں ہوئے لیکن بعض خیالات کے اظہار میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ ان ہی خیالات کو دہرا رہے ہیں جن کو حالیؔ اس سے قبل پیش کر چکے ہیں۔ امداد امام اثر نے تکنیکی اعتبار سے اردو کی تحقیق و انتقادات میں جدید پن، اور ایک نئی تنوریت { روشن خیالی} کو متعارف کروایا۔ انھوں نے حالی اور شبلی کے کچھ تبصراتی تنقیدی رویوں کو خیر باد کہہ کر معروضی اور ایک نئے تجزیاتی مزاج سے آگاہ کیا۔ اور مروجہ ادبی نظریات کو بڑے مہذب انداز میں مسترد کیا۔
شبلی اور حالی کے بعد اردو تنقید میں نئے معنوی مفاہیم اور رویوں کے مباحث نے ان کی تنقید کو منفرد انداز اور اسلوب بخشا۔ ان کے ادبی اور تنقیدی مزاج پر سر سید احمد خان، شبلی نعمانی اور الطاف حسین حالی کے عکس نظر آتے ہیں۔ ان کو سر سید کی فکریات سے تھوڑا سا اختلاف بھی تھا۔ امداد امام اثرکو اردو تنقید کی زبوں حالی کا احساس تھا کیونکہ اردو کا قریبی حوالہ عربی یا فارسی ہے اور ان دونوں زبانوں میں ادبی تنقید کی صنف کی کوئی مستحکم روایت موجود نہیں تھی۔ ان کی تنقیدی تحریریں اردو میں انقلابی نوعیت کی ہیں۔ انہوں نے روایتی ادب سے اپنی بے چینی کا اظہار کیا۔ اثر اخلاقیات کو شاعری میں بہتر تصور کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں شاعری کو اخلاق آموزی کا ایک بہتریں ذریعہ ہونا چاہے لیکن وہ شاعری میں الفاظ کی تہہ داری کے قائل تھے۔
امداد امام اثر اردو، فارسی اور عربی کے علاوہ انگریزی سے بھی واقف تھے۔ انہوں نے انگریزی کا مطالعہ براہ راست کیا تھا لہذا ان کی تحریروں میں ٹھہراؤ اور توازن نظر آتا ہے۔ لیکن انہیں شبلی اور حالی سے معنی پر لفظ کی فوقیت پر اختلاف ہے۔
امداد امام اثر کی نقدیات میں کچھ کمزوریاں بھی تھی۔ ان پر یہ اعتراض بھی کیا جاتا ہے ان کی تنقیدی کا فکری ڈھانچہ تاثراتی نوعیت کا ہے مجھے اس سے غیر کامل طور پر اختلاف ہے۔ وہ سرسید احمد کی فکری آزادی اور روشن خیالی سے متاثر تھے۔ جو اردو تنقید میں سرسید کے زیر اثر آئے تھے۔ انہوں نے اردو شاعری پر تنقیدی زاویہ نظر سے اس وقت ایک کتاب لکھی جب تنقید کا رجحان عام نہیں ہوا تھا۔ انہوں نے اردو شاعری کی تمام اصناف سخن کے لئے چند اصول وضع کیے اور پھر ان کی روشنی میں اردو شاعری کے کلام کو دیکھا اس لئے اردو تنقید میں ایک نیا مناجاتی اور ساختیاتی خاکہ دریافت ہوتا ہے۔ اور اردو تنقید کو ایک نیا
اعتماد عطا کیا۔ امداد امام اثر کا ادبی تنقیدی نظریات اردو انتقادات کا اجتہاد نطر آتا ہے کہ اردو فارسی ادب کے اس یر تنقیدی ماحول کے باوجود انہوں نے اردو کو :’ کاشف الحقائق” جیسی معرکہ آرا تنقیدی کتاب لکھی جو عملی تنقید کا ایک نمونہ ہے۔جس پر مجھے رچرڈسن کے انتقادی نظریات کا گہرا اثر محسوس ہوتا ہے۔
شعر میں وہ اخلاقیات کے ساتھ ‘ معنی’ کو بھی کلیدی اہمیت دیتے ہیں۔ اثر کے نزدیک "خوش خیالی” کی ترکیب میں "خوش کی صفت” جمالیاتی کم اور اخلاقی زیادہ ہے۔ انہوں نے شاعری پر بحث کرتے ہوئے شاعری کی دو/2 اقسام خارجی (Objective) اور لجالم ذہن/ موضوعی (Subjective) کو اردو نقد سے روشناس کروایا اور ان تصورات کی واضح تشریح اور تعریفات پیش کیں۔ انہوں نے احساس دلوایا کہ شاعری پرسیاسی اور معاشرتی بحرانوں سے لے کر ماحولیات، موسم، چرند پرند اور زراعت کے اثرات مرتب ہوتے ہیں ان کو بھی امداد امام اثر نے اپنی انتقادی تحریروں میں جگہ دی۔ ”
——
یہ بھی پڑھیں : شجر جو ہوتا تو ہوتی یہ آرزو میری
——
امداد امام اثرنے اردو تنقید و تحقیق میں ” ماحولیاتی تنقید” (Ecological Criticism) کا عندیہ دیا۔ ” جس میں صرف شاعری کا متنی تجزیہ نہیں ہوتا اور نہ ہی تاثراتی رسائی کے تحت شاعری کا تجزیہ اورمطالعہ کیا جاتا ہے بلکہ معروض کے مظہرات کواور اس کے علت و معمول کے رشتوں سے شاعری کی معنویت میں معنیات تلاش کی جاتی ہے۔ "لہذا ان کو اردو تنقید کا پہلا ‘”ماحولیاتی نقاد” کہا جاسکتا ہے۔
امداد امام اثر کے تنقیدی شعور کے پس منظر میں ابن قتیہ،ابن رشیق، عبد القاہر جرجانی، ابو ہلال عسکری،جاحظ، کولرج اور رچرڈسن وغیرہ کے اثرات محسوس کیے جاسکتے ہیں۔ ان کی تنقید کوعملی تنقید کا نمونہ قرار دیا جاتا ہے۔ جن میں تنقیدی اصولوں کا تناسب کم ہے لیکن یہ ان معنوں میں علمی نقد نہیں ہے۔ جن معنوں میں عہد حاضر میں عملی تنقید لکھی جاتی ہیں۔ یہ ایک انتقادی مکتب فکر ہے۔ لہذا ان کو اس دبستان سے منسلک کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ ان کی کتاب ” کاشف الحقائق ” کو ‘ تنقیدی اجتہاد’ کا نمونہ بھی قرار دیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کتاب میں اردو شاعری کا مطالعہ اور تجزیہ ہندوستانی اور فارس کے پس منظر میں کیا گیا ہے۔
امداد امام اثر فن تنقید اور اس کی اہمیت سے واقف ہیں۔ انہوں نے "کاشف الحقائق” ہی میں ایک جگہ اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ "وہ فن جسے انگریزی میں ‘کریٹی سیزم’ کہتے ہیں فارسی اور اردو میں مروج نہیں ہے، یہ وہ فن ہے جو سخن سنجوں کی کیفیت کلام سے بحث کرتا ہے۔”
عملی تنقید میں اثر صاحب ان اصولوں کو ضرور پیش نظر رکھتے ہوئے خلاقانہ رسائی کے تحت نئی فکری دریافتیں کی ہیں۔اور کچھ اصول واضح کئے ہیں اور ترتیب دئیے ہیں ۔ چنانچہ بعض جگہ وہ اس کا اظہار بھی کرتے چلتے ہیں۔ دردؔ کے بارے میں لکھتے ہیں "خواجہ صاحب کی غزل سرائی تمام تر اس صنفِ شاعری کے تقاضوں کے مطابق پائی جاتی ہے”یا ذوقؔ کے بارے میں لکھتے ہوئے اس خیال کا اظہار کرتے ہیں "کوئی شک نہیں کہ ذوقؔ ایک ممتاز شاعر گزرے ہیں لیکن ان کی غزل سرائی غزل کے تقاضوں کے مطابق پورے طور پر نہ تھی
——
یہ بھی پڑھیں : خاص ہے مجھ کو تعلق شبر و شبیر سے
——
اردو میں امداد امام اثر کے ناقدیں میں وہاب اشرفی،ابولکلام قاسمی، شمس الرحمان فاروقی، احمد سہیل،اختر قادری، عبادت بریلوی، اورسید تنویر حسین وغیرہ کے نام اہم ہیں جن میں امداد امام اثر کے تنقیدی مزاج اور اس کی متنی ماہیت پرکئی سوالات ہی نہیں اٹھائے گئے ہیں بلکہ ان تحریروں کی مختلف فکری جہات سے بحث کی گئی ہے۔ امداد امام اثر کی کتابوں کی فہرست یہ ہے :
1۔ کاشف الحقائق
2۔ مرأۃالحکما ۔ { 62 فلسفیوں کے افکار و نظریات کے کارناموں کا تذکرہ، اور راضہ الحکما اور احوال زندگی}
3۔ فسانۂ ہمت{ فلکیات ونجوم، فلسفی، تاریخ اور جغرافیہ پر بحثیں}
4۔ کتاب الاثمار
5۔ کیمیاے زراعت
6۔ فوائد دارین{ یہ مذھبی کتاب ہے جس میں رد عیسائیت کوموضوع بنایا گیا ہے}
7۔ مصباح الظلم { شیعہ عقیدے کے پس منظر میں مذہب امامیہ اور آل محمد { ص} سے متعلق کئی امور پر لکھا گیا تھا}
8۔ کتاب الجواب{ معروف بہ مناظر المصائب، مذہب امامیہ کے پس منظر میں بعص سوالات کے جواب نیا خاندان پیغمبر کو جن مصائب کا سامنا کرنا پڑا ،ان واقعات کا بیانیہ ہے}
9۔ معیار الحق
10۔ ہدیۂ قیصریہ
——
یہ بھی پڑھیں : بجز تیرے کوئی میرا سہارا ہی نہیں تھا
——
11۔ رسالہ طاعون
12۔ نذر آل محمد
——
منتخب کلام
——
جنگل جنگل صحرا صحرا مارے مارے پھرتے ہیں
آہو وحشی جان کے ہم کو ساتھ ہمارے پھرتے ہیں
——
کیوں کر ہمیں قرار کا پہلو ملے اثرؔ
ہم ہاتھ میں پڑے ہیں دلِ بے قرار کے
——
اے آسماں نہ جان کہ مدفوں ہوئے ہیں ہم
تیرے ستم کے ڈر سے زمیں میں سما گئے
——
تمہارے عاشقوں میں بے قراری کیا ہی پھیلی ہے
جدھر دیکھو جگر تھامے ہوئے دو چار بیٹھے ہیں
——
افسوس عمر کٹ گئی رنج و ملال میں
دیکھا نہ خواب میں بھی جو کچھ تھا خیال میں
——
حسینوں کی جفائیں بھی تلون سے نہیں خالی
ستم کے بعد کرتے ہیں کرم ایسا بھی ہوتا ہے
——
محفل میں اس پہ رات جو تو مہرباں نہ تھا
ایسا سبک تھا غیر کہ کچھ بھی گراں نہ تھا
وصل بتاں میں خوف فراق بتاں نہ تھا
گویا کہ اپنے سر پہ کبھی آسماں نہ تھا
پیش رقیب پرسش دل تم نے خوب کی
دشمن تھا پردہ دار نہ تھا راز داں نہ تھا
عبرت دلا چکی تھی ہماری ستم کشی
مطلق شب وصال عدو شادماں نہ تھا
بگڑے ہوئے رقیب سے وہ آئے میرے گھر
اس حسن اتفاق کا کوئی گماں نہ تھا
سرگرم نالہ کیوں رہی بلبل بہار میں
کیا ہم نہ تھے اسیر کہ ذوق فغاں نہ تھا
سرشار بے خودی تھے اثرؔ بزم یار میں
کیا جانیں ہم رقیب کہاں تھا کہاں نہ تھا
——
حسن کی جنس خریدار لیے پھرتی ہے
ساتھ بازار کا بازار لیے پھرتی ہے
در بدر حسرت دل دار لیے پھرتی ہے
سر ہر کوچہ و بازار لیے پھرتی ہے
عدم آباد میں آنے کا سبب ہے ظاہر
جستجوئے کمر یار لیے پھرتی ہے
دل سوزاں سے نہیں کوئی نشان ظلمت
مشعل آہ شب تار لیے پھرتی ہے
آتے ہی فصل خزاں بلبل شیدا بہکی
ہر طرف گل کی جگہ خار لیے پھرتی ہے
دیر و مسجد میں تمنائے زیارت کس کی
تم کو اے کافر و دیں دار لیے پھرتی ہے
دشت میں قیس کو کیا آئے نظر جب لیلیٰ
ساتھ میں گرد کی دیوار لیے پھرتی ہے
دور ساغر میں نہیں کف سر بادہ ساقی
دخت رز شیخ کی دستار لیے پھرتی ہے
خون فرہاد سے بے چین ہے روح شیریں
بے ستوں سے بھی گراں بار لیے پھرتی ہے
گل سے کیوں کہہ نہیں دیتی ہے پیام بلبل
اپنے سر باد صبا بار لیے پھرتی ہے
مانتا ہی نہیں لیلیٰ کہ کرے کیا لیلیٰ
ساتھ میں قیس کو ناچار لیے پھرتی ہے
صدمہ پہنچا کسی گل کو کہ چمن میں بلبل
خوں میں ڈوبی ہوئی منقار لیے پھرتی ہے
کشتۂ ناز کی تربت نہ ملے گی بلبل
پھول منقار میں بے کار لیے پھرتی ہے
طائر دل کو ہوائے خم زلف صیاد
صورت مرغ گرفتار لیے پھرتی ہے
جنبش پا سے ہے گلیوں میں قیامت برپا
ساتھ محشر تری رفتار لیے پھرتی ہے
کوہ کن خود تو سبک دوش ہوا، پر شیریں
سر پہ الزام کا کہسار لیے پھرتی ہے
دشت غربت میں نہیں پھرتا ہوں خود آوارہ
گردش چرخ ستم گار لیے پھرتی ہے
ساتھ دنیا کا نہیں طالب دنیا دیتے
اپنے کتوں کو یہ مردار لیے پھرتی ہے
حسرت دید اثرؔ حضرت آتشؔ کی طرح
پیش روزن پس دیوار لیے پھرتی ہے
——
یوں ہی الجھی رہنے دو کیوں آفت سر پر لاتے ہو
دل کی الجھن بڑھتی ہے جب زلفوں کو سلجھاتے ہو
چھپ چھپ کر تم رات کو صاحب غیروں کے گھر جاتے ہو
کیسی ہے یہ بات کہو تو کیوں کر منہ دکھلاتے ہو
سنتے ہو کب بات کسی کی اپنی ہٹ پر رہتے ہو
حضرت دل تم اپنے کئے پر آخر کو پچھتاتے ہو
مدت پر تو آئے ہو ہم دیکھ لیں تم کو جی بھر کے
آئے ہو تو ٹھہرو صاحب روز یہاں کیا آتے ہو
کیسا آنا کیسا جانا میرے گھر کیا آؤ گے
غیروں کے گھر جانے سے تم فرصت کس دن پاتے ہو
آنکھیں جھپکی جاتی ہیں متوالی کی سی صورت ہے
جاگے کس کی صحبت میں جو نیند کے اتنے ماتے ہو
دل سے اثرؔ کیا کہتے ہو ہے جان کا سودا عشق بتاں
تم بھی تو دیوانے ہو دیوانے کو سمجھاتے ہو
——
شعری انتخاب از دیوانِ اثر ، ترتیب و تدوین : سرور الہدیٰ
شائع شدہ 2013 ، متفرق صفحات
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ