رنج و آلام کا مارا ہوں ، ستاتے کیوں ہو
اُن کی دہلیز پہ بیٹھا ہوں ، اُٹھاتے کیوں ہو اِن پہ سرکار کی یادوں کے دیے ہیں روشن ’’میری پلکوں پہ ستاروں کو سجاتے کیوں ہو‘‘ ٹھہرو آقا کو سُنا لُوں میں کہانی اپنی اُن کے دربانوں ! مواجہ سے ہٹاتے کیوں ہو قلبِ مضطر میں ہے یادوں کا بسیرا ، اُن کی پھر […]