جہاں دل میں رنج و الم دیکھتے ہیں

وہیں اُن کا لُطف و کرم دیکھتے ہیں غلاموں کی کرتے هیں وہ اشک شوئی کسی کی جو آنکھیں وہ نم دیکھتے ہیں اُنہی کی تو یادوں کی سرشاریاں ہیں کہ بے کار سب جام و جم دیکھتے ہیں دہن ، جس سے نکلے سدا اُن کی مدحت وہ ایسی زباں اور فَم دیکھتے ہیں […]

کرتا رہا ہوں خواب میں تدبیر خواب کی

’’رہنے دو میرے پاس یہ جاگیر خواب کی‘‘ سپنے میں اپنے حُسن کا جلوہ عطا کریں مل جائے اس طرح مجھے تعبیر خواب کی سپنے میں دید ہو گئی ، ساری فضا میں آج خوشبو رچی ہے خوب ہے تاثیر خواب کی میں کون ہوں جو آپ کی مدح و ثنا لکھوں چشمِ کرم ہے […]

خود ہی خدائے پاک ہے شیدا رسول کا

کیا لکھ سکے گا کوئی قصیدا رسول کا دل آئینہ ہے ، روح کو نسبت نبی سے ہے آںکھیں ہیں میری اور اُجالا رسول کا تخلیقِ دو جہاں ہے اسی کے طفیل میں یہ ساری کائنات ہے صدقہ رسول کا سب کے لیے ہو علم برابر ہوں سارے لوگ یہ درس دے رہا ہے مدینہ […]

سلام آپ پر اے محمد ہمارے

سلام آپ پر سب کی آنکھوں کے تارے سلام آپ پر ساری دنیا کے پیارے سلام آپ پر بیکسوں کے سہارے سلام آپ پر حق کے داعیٔ معظم سلام آپ پر اے نبیٔ مکرم – سنایا ہمیں آپ نے رب کا فرماں ہمارے لیے آپ لائے ہیں قرآں ہمیں بخش کر آپ نے نورِ ایماں […]

صوفی غلام مصطفیٰ تبسم کا یوم پیدائش

آج معروف معلم، شاعر، ادیب اور نقاد صوفی غلام مصطفیٰ تبسم کا یوم پیدائش ہے ۔ —— (پیدائش: 4 اگست، 1899ء- وفات: 7 فروری، 1978ء) —— وہ مجھ سے ہوئے ہم کلام اللہ اللہ کہاں میں کہاں یہ مقام اللہ اللہ —— معلم، شاعر، ادیب اور نقاد صوفی غلام مصطفیٰ تبسم 4 اگست 1899 کو […]

امجد اسلام امجد کا یومِ پیدائش

آج نامور ڈرامہ نگار،کالم نگار اور شاعر امجد اسلام امجد کا یومِ پیدائش ہے۔ (پیدائش: 4 اگست 1944ء – وفات: 2 فروری 2023ء) —— امجد اسلام امجد پاکستان سے تعلّق رکھنے والے اردو شاعر، ڈراما نگار اور نقاد ہیں۔ 1967ء میں پنجاب یونیورسٹی سے فرسٹ ڈویژن میں ایم اے (اردو) کیا۔ 1968ء تا 1975ء ایم […]

جو بھی سرکار کا غلام ہُوا

کُل زمانے کا وہ امام ہُوا تیرا آنا ہوا تو دُنیا میں ’’آدمیّت کا احترام ہُوا‘‘ نوعِ انسان نے سُکوں پایا رنج اور غم کا اختتام ہُوا دیکھ یثرب بھی ہو گیا طیبہ جب سے آقا ترا قیام ہُوا والدیں کے لئے، زمانے میں یوں ادب کا بھی التزام ہُوا سلسلہ دہر میں نبوت کا […]

جن کو نوازا آپ نے ، سُلطان ہو گئے

طلحہ ، بلال و بُوذر و سلمان ہو گئے بس آپ کی نگاہ کے پڑنے کی دیر تھی ’’جو پُر خطر تھے راستے آسان ہو گئے‘‘ سرکار کے وہ سایۂ شفقت میں آ گئے اک بار جو مدینے میں مہمان ہو گئے کانٹے جو آئے راہ میں ،تیرے قدوم سے ایسا ہوا کہ سُنبل و […]

مشک و عنبر چار سُو ، انوار بھی

خوبصورت ہیں در و دیوار بھی اُن کے قدموں میں ٹھکانہ مل گیا ’’بے گھری کے مٹ گئے آثار بھی‘‘ ارضِ بطحا ، مرحبا ، صد مرحبا ! پُھول بن جاتے ہیں اس جا خار بھی ارضِ بطحا ، ہے سبھی جنت نشاں رہگزر بھی ، کُوچہ و بازار بھی شاہِ والا کے مراتب دیکھ […]

جس کسی کی طرف وہ نظر کر گیا

اُن کا چہرہ ہر اک دل میں گھر کر گیا آیا جو بھی نگاہوں میں تیری شہا! ’’تیری آنکھوں کا جلوہ اثر کر گیا‘‘ آنے والا اگرچہ نِرا خام تھا تیرا دستِ کرم با ہُنر کر گیا تیرے چہرے کا جلوہ مرے دلرُبا! میرے روشن سبھی بام و در کر گیا سنگ ریزوں کو تونے […]