امجد اسلام امجد کا یومِ پیدائش

آج نامور ڈرامہ نگار،کالم نگار اور شاعر امجد اسلام امجد کا یومِ پیدائش ہے۔

امجد اسلام امجد( پیدائش: 4 اگست 1944ء )
——
امجد اسلام امجد پاکستان سے تعلّق رکھنے والے اردو شاعر، ڈراما نگار اور نقاد ہیں۔ 1967ء میں پنجاب یونیورسٹی سے فرسٹ ڈویژن میں ایم اے (اردو) کیا۔ 1968ء تا 1975ء ایم اے او کالج لاہور کے شعبہ اردو میں استاد رہے۔ اگست 1975ء میں پنجاب آرٹ کونسل کے ڈپٹی ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔ 1975ء میں ٹی وی ڈراما (خواب جاگتے ہیں ) پر گریجویٹ ایوارڈ ملا۔ اس کے علاوہ مشہور ڈراموں میں وارث (ڈراما)، دن، فشار (ڈراما)، شامل ہیں۔
——
امجد اسلام امجد ہمہ جہت تخلیق کار از بلقیس ریاض
——
میرا تعلق امجد اسلام امجد کے ساتھ زمانہ طالب علمی سے ہے۔ خوش قسمتی سے وہ میرے کلاس فیلو رہ چکے ہیں۔ میں ان کو برسوں سے جانتی ہوں۔ جب میرا بیٹا رضا رومی امریکہ سے آیا تو میں نے ایک چھوٹی سی تقریب منعقد کی، امجد اور ان کی اہلیہ نے شرکت کی۔
——
یہ بھی پڑھیں : مجید امجد کا یوم پیدائش
——
جب وہ آئے تو ان کے ہاتھ میں ایک ضخیم کتاب تھی ’’امجد فہمی،، اور میرے ہاتھ میں تھما دی مجھے یوں لگا جیسے میرے ہاتھوں کے پیالوں میں سمندر تھما دیا ہو…کبھی میں ان کودیکھتی اور کبھی کتاب کو فنکشن کے اختتام میں کتاب میرے ہاتھ میں تھی…سید تقی عابدی نے ان کی شاعری، افسانے، سفرنامے اور پی ٹی وی پر چلنے والے ڈراموں کا بھی ذکر کیا۔ بقول سید تقی عابدی کہ امجد ایک ہمہ جہت تخلیق کار ہے۔ ان کی شاعری دوسری تخلیقات کے مقابل توانا اور نمایاں اور افضل ہے اس لیے امجد فہمی دور حاضر کی ضرورت اور اردو شعر و ادب کی ترقی کی ضامن ہے۔ اس وجہ سے یہاں صرف ان کی شاعری کا تجرباتی اور تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے تاکہ اس سیر گل گشت سے عامی اور عالم دونوں مستفید ہو سکیں، عمدہ شاعری ادب عالیہ ہے۔ ٹی لیس ایلیٹ کا کہنا ہے جس زبان میں ادب عالیہ موجود ہو وہ فنا نہیں ہو سکتی۔
سید تقی عابدی نے بات تو بڑے پتے کی کی۔ امجد کے لاکھوں کے حساب سے مداح ہیں۔ انہوں نے نہ شاعری میں عبور حاصل کیا بلکہ نثر نگاری میں بھی ایک مقام حاصل کیا۔ اتنے بہترین اور دلچسپ ڈرامے پی ٹی کے لیے لکھے۔ اس زمانے میں لوگ ڈرامے کے وقت اپنے گھروں میں بند ہو جاتے تھے۔ ڈرامے حقیقت کے قریب ہوتے تھے اور لوگ ان کودیکھ دیکھ کر محظوظ ہوتے تھے۔
کافی سال پہلے امجد اسلام امجد کا ڈرامہ وارث بے حد مقبول ہوا۔ ان کی شہرت کوچار چاند لگے۔ اس معاشرے میں ایک شخص کو اتنی عزت ملے اور وہ تحمل مزاج اور عاجز ہو تو بڑے کمال کی بات ہے ورنہ کسی کو شہرت بھی ملے تو نشے کی طرح وہ شہرت اس کے سرچڑھ جاتی ہے۔
امجد ہر فن مولا ہے۔ ڈراموں کے علاوہ کالم نگار بھی ہے۔ کئی تھیسیسز بھی لکھے گئے اور ایوارڈ بھی ان کو ملے۔
ایک انسان بیک وقت نثر نگار اور شاعر ہو تو یہ بھی بڑے کمال کی بات ہے۔
امجد اسلام امجد نے کئی سفر کئے اورسفرنامے بھی لکھے۔ امجد جدید سفر ناموں میں ایک خاص مقام رکھتے ہیں۔ دنیا کے ہر بڑے ملک کا سفر نامہ لکھا، امریکہ، یورپ، جاپان، چائنہ اور کئی سفر کئے اور لکھے ہیں۔
امجد بنیادی طور پر ایک اچھے لکھاری ہیں۔ سفر نامہ لکھتے وقت ایک خاص دلچسپی پیدا کرتے ہیں۔ قاری کو یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ بھی ان کے ساتھ سفر کر رہا ہے۔ ان کا بہت گہرا مشاہدہ ہوتا ہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : زائرِ کوئے جناں آہستہ چل
——
اتنی دلچسپی پیدا کرتے ہیں کہ پڑھنے والے کو ایک باؤ کا احساس دامن گیر رہتا ہے اور یہی بنیادی لوازمات ہیں جو کسی بھی سفر نامے کی تشکیل و تعمیر کیلئے ضروری تصورکئے جاتے ہیں۔
امجد اسلام امجد کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ ان کی شاعری ان کے افسانے، کالم، ڈرامے ادب کے شہ پارے ہیں۔ آج برصغیر کے ادبی افق پر سب سے چمکدار ستارہ ان کی ذات یے ان کی تخلیقی صلاحیتیں، ان کی عمر کے ساتھ پھیلتی ہیں۔ سمٹی نہیں…جہاں کئی ادیب عمر کے ایک خاص حصے میں اپنے خیالات دہراتے ہیں وہاں امجد نے ہر طرح سے جدت کو ہی ملحوظ رکھا اور زمانے کی دھوپ ان کے فن کو نکھارا اس طرح ادب کی اعلیٰ قدروں اور مزاج کو برقرار رکھا توانائی دی۔ ان کے ہاتھوں سے کئی ادیب مستفید ہوئے ان کی چھتر چھایہ سے آج بھی راحت محسوس کرتے ہیں جو ان کو Inspire بھی کرتا ہے۔ آگے بڑھنے کا حوصلہ اور سلیقہ بھی عطا کرتا ہے۔
LARGER THAN LIFE شخصیت کے بارے میں کیا کہا جائے۔ جس کی ذات اور جس کا فن ایک زمانے کو سمیٹے ہوئے ہے۔
ان کے فن کو چار چاند لگے ہیں وہ ان کی اہلیہ فردوس ہیں جن کا نرم اور گداز ہاتھ ان کے کندھوں پر ہے اور یہ ترقی کرتے چلے گئے ، للہ کی مہربانیوں سے۔ میری دعا ہے کہ امجدکا ستارہ افق کی بلندیوں میں چمکتا ہی رہے اور وہ مزید ترقی کرتے رہیں ’’آمین،،
——
منتخب کلام
——
نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ و آ لہ وسلم
——
شہرِ نبی کے سامنے آہستہ بولیے
دھیرے سے بات کیجیے آہستہ بولیے
اُن کی گلی میں دیکھ کر رکھیے ذرا قدم
خود کو بہت سنبھالیے آہستہ بولیے
ان سے کبھی نہ کیجیے اپنی صدا بلند
پیشِ نبی جو آیئے آہستہ بولیے
شہرِ نبی ہے شہرِ ادب کان دھر کے دیکھ
کہتے ہیں اس کے رستے آہستہ بولیے
ہر اک سے کیجیے گا یہاں مسکرا کے بات
جس سے بھی بات کیجیے آہستہ بولیے
آداب یہ ہی بزمِ شہِ دو جہاں کے ہیں
سر کو جھکا کے آئیے آہستہ بولیے
امجدؔ وہ جان لیتے ہیں سائل کے دل کی بات
پھر بھی جو دل مچل اُٹھے آہستہ بولیے
——
سوال یہ ہے کہ آپس میں ہم ملیں کیسے
ہمیشہ ساتھ تو چلتے ہیں دو کنارے بھی
——
وہ ترے نصیب کی بارشیں کسی اور چھت پہ برس گئیں
دل بے خبر مری بات سن اسے بھول جا اسے بھول جا
——
جہاں ہو پیار غلط فہمیاں بھی ہوتی ہیں
سو بات بات پہ یوں دل برا نہیں کرتے
——
کس قدر یادیں ابھر آئی ہیں تیرے نام سے
ایک پتھر پھینکنے سے پڑ گئے کتنے بھنور
——
اس کے لہجے میں برف تھی لیکن
چھو کے دیکھا تو ہاتھ جلنے لگے
——
جیسے ریل کی ہر کھڑکی کی اپنی اپنی دنیا ہے
کچھ منظر تو بن نہیں پاتے کچھ پیچھے رہ جاتے ہیں
——
گزریں جو میرے گھر سے تو رک جائیں ستارے
اس طرح مری رات کو چمکاؤ کسی دن
——
ہوائیں لاکھ چلیں لو سنبھلتی رہتی ہے
دیے کی روح میں کیا چیز جلتی رہتی ہے
کسے خبر کہ یہ اک دن کدھر کو لے جائے
لہو کی موج جو سر میں اچھلتی رہتی ہے
اگر کہوں تو تمہیں بھی نہ اعتبار آئے
جو آرزو مرے دل میں مچلتی رہتی ہے
مدار سے نہیں ہٹتا کوئی ستارا کیوں
یہ کس حصار میں ہر چیز چلتی رہتی ہے
وہ آدمی ہوں ستارے ہوں یا تمنائیں
سمے کی راہ میں ہر شے بدلتی رہتی ہے
یونہی ازل سے ہے امجدؔ زمین گردش میں
کبھی سحر تو کبھی رات ڈھلتی رہتی ہے
——
در کائنات جو وا کرے اسی آگہی کی تلاش ہے
مجھے روشنی کی تلاش تھی مجھے روشنی کی تلاش ہے
غم زندگی کے فشار میں تری آرزو کے غبار میں
اسی بے حسی کے حصار میں مجھے زندگی کی تلاش ہے
یہ جو سرسری سی نشاط ہے یہ تو چند لمحوں کی بات ہے
مری روح تک جو اتر سکے مجھے اس خوشی کی تلاش ہے
یہ جو آگ سی ہے دبی دبی نہیں دوستو مرے کام کی
وہ جو ایک آن میں پھونک دے اسی شعلگی کی تلاش ہے
یہ جو ساختہ سے ہیں قہقہے مرے دل کو لگتے ہیں بوجھ سے
وہ جو اپنے آپ میں مست ہوں مجھے اس ہنسی کی تلاش ہے
یہ جو میل جول کی بات ہے یہ جو مجلسی سی حیات ہے
مجھے اس سے کوئی غرض نہیں مجھے دوستی کی تلاش ہے
——
اوجھل سہی نگاہ سے، ڈوبا نہیں ہوں میں
اے رات ہوشیار، کہ تارا نہیں ہوں میں
گرمی مرے شعور کی دیتی ہے مجھ کو شکل
قسمت کے سرد آنکھ کا لکھا نہیں ہوں میں
خوابوں کی سبز دھند سی اب بھی ہے ہر طرف
لگتا ہے یوں کہ نیند سے جاگا نہیں ہوں میں
اس طرح پھیر پھیر کے باتیں نہ کیجیے
لہجے کا رخ سمجھتا ہوں، بچہ نہیں ہوں میں
میری تو بات بات کی شاہد ہے کائنات
دل سے گھڑا ہوا کوئی قصہ نہیں ہوں میں
درپیش صبح وشام ہے اب یہ ہی کشمکش
کیسے بنوں میں اس کا کہ اپنا نہیں ہوں میں
ممکن نہیں ہے مجھ سے یہ طرز منافقت
دنیا! ترے مزاج کا بندہ نہیں ہوں میں
دل کو گواہ کرکے لکھا جو بھی کچھ لکھا
کاغذ کا پیٹ بھرنے کو لکھتا نہیں ہوں میں
——
اس شہر کے باغوں میں وہ پھول نہیں کھلتے
——
جو بات نہیں کرتے
اُن بولتے رنگوں میں
میں نے تمھیں سوچا ہے!
جو دِل سے گُزرتے ہیں
اُن اجنبی رستوں میں
میں نے تمھیں دیکھا ہے!
کہنے کے لیے تُم سے
باتیں تو بہت سی ہیں
الفاظ نہیں ملتے!
جو میری نظر میں ہیں
اِس شہر کے باغوں میں
وہ پھول نہیں کِھلتے!
مَیں نے تمھیں جانا ہے
اظہار کے رشتوں سے
اِس طرح جُدا ہو کے!
جِس طرح کوئی بندہ
دھرتی پہ نظر ڈالے
اِک بار خُدا ہو کے!
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ