سودائے عشقِ شاہِ مدینہ جو سر میں ہے
ہر خاص و عام جانبِ طیبہ سفر میں ہے دنیائے آب و گل میں وہ آئے تھے صبح دم کیف و سرور و نور یونہی تو سحر میں ہے رطب اللساں ہے خالقِ کونین مرحبا وہ حسنِ خلق اف مرے پیغامبر میں ہے ام الکتاب آپ کی ہے معدنِ حِکَم اک حکمتِ خفی کہ جلی […]