دونوں عالم کا ہیں منتہیٰ مصطفیٰ

وجہ تخلیقِ ارض و سما مصطفیٰ درد مندوں کے دکھ کی دوا مصطفیٰ بیوہ عورت کے سر کی ردا مصطفیٰ بادشہ تا جور کجکلاہ ملک تیرے در کے سب گدا مصطفیٰ دل کا آرام ہے آنکھ کا چین ہے شہرِ طیبہ کی ٹھنڈی ہوا مصطفیٰ مر نہ جائے فراقِ مدینہ میں وہ اپنے بیمار کو […]

جمالِ صورتِ محبوب کبریا لکھنا

قلم کے بس میں نہیں ذکرِ مصطفیٰ لکھنا تیرے حبیب کا لکھا تھا نام پہلے پہل مجھے سکھایا تھا جب تو نے اے خدا لکھنا جمالِ گنبد خضریٰ سے لے کے رعنائی میرے رسول کی پھر اے قلم ثنا لکھنا نبی کے شہر کی تقدیس کا خیال رہے فضائے طیبہ میں اشکوں سے تم دعا […]

تعبیر کے بغیر کسی خواب کے بغیر

کیسے مدینے جاؤں ان اسباب کے بغیر میرے بدن میں ہجر کا بازار گرم تھا تاریک دل کی دنیا تھی مہتاب کے بغیر شرطِ سلیقہ چاہیے اس کام کے لیے کیسے قبول نعت ہو آداب کے بغیر آلِ نبی کا عشق دھڑکتا ہے سینے میں کچھ بھی نہیں میں نسبتِ اصحاب کے بغیر دیکھی جو […]

خوش بختی پہ نازاں ہے یہ سرکار مدینہ

ہاتھ آیا ہے دل کو تیری الفت کا نگینہ لے جائے جو قسمت مجھے اک بار مدینہ پھر لوٹ کے گھر آؤں گا واپس میں نہ کبھی جب پیشِ مواجہ میں گنہگار کھڑا تھا پیشانی سے بہتا تھا ندامت کا پسینہ آباد ہے نظاروں کا اک شہر نظر میں موجود ہے دل میں تیری یادوں […]

رنج و ملال و درد کو پا مال کر دیا

ذکرِ رسولِ پاک نے خوش حال کر دیا آنکھوں کو دیکھیے میرے دل کو ٹٹولیے ہجرِ مدینہ نے جو میرا حال کر دیا تیرہ شبوں کو دولتِ اخلاص بخش دی نادار کو بھی صاحبِ اقبال کر دیا چوکھٹ کو چومنے کی اجازت عطا ہوئی مجھ پر کرم حضور نے امسال کر دیا محشر میں پہلے […]

یاد کر کے انہیں حظ اٹھانے لگے

’’ دن مدینے کے پھر یاد آنے لگے ‘‘ آ گئی یاد طیبہ کی یاد آ گئی دیدۂ لفظ آنسو بہانے لگے سسکیاں لے رہی تھی حیاتِ بشر آپ آئے سبھی غم ٹھکانے لگے باندھ لو تم بھی رختِ سفر باندھ لو قافلے پھر مدینے کو جانے لگے مل گیا دامنِ مصطفیٰ مل گیا ہاتھ […]

خورشید احمد جامی کا یومِ وفات

آج نئی غزل کے اہم شاعروں میں شمار ہونے والے شاعر خورشید احمد جامی کا یومِ وفات ہے ۔ (پیدائش: 15 مئی 1915ء – وفات: 8 مارچ 1970ء) —— عہد قدیم ہی سے سرزمین دکن علم و ہنر کا گہوارہ رہی ہے ۔تاریخ شاہد ہے یہاں ہزاروں برسوں سے یہ روایت چلی آرہی ہے کہ […]

یا محمد جوآپ کا نہ ہوا

یا محمد جو آپ کا نہ ہوا واقفِ ذاتِ کبریا نہ وہا درد بڑھتا رہا دوا نہ ہوا عشق دل کا جو آئینہ نہ ہوا ان کا احسان مان دشمن جاں ہاتھ مصروفِ بد دعا نہ ہوا کٹ گئے مرحلے سفر کے مگر طے عقیدت کا مرحلہ نہ ہوا عمر بھر نعتِ مصطفیٰ لکھی قرضِ […]

آپ کے روضے پہ آؤں یا نبی

داستانِ غم سناؤں یا نبی آپ کی صورت چراغِ زندگی آپ کی سیرت ہے چھاؤں یا نبی آپ کی یادوں سے رکھوں صرف کام زندگانی یوں بتاؤں یا نبی اشک چہرے پر لکھیں حرفِ دعا میں جو اپنے ہاتھ اٹھاؤں یا نبی در بدر کیوں آپ کے ہوتے ہوئے ٹھوکریں دنیا کی کھاؤں یا نبی […]

اگر مدینے کے ذروں سے دل لگی کرتے

ہم اپنے شہرِ تخیل میں روشنی کرتے ایک عمر بیت چلی دوسری اگر ملتی رقم حضورِ مکرم کے وصف ہی کرتے رہا ہے سر پہ ہمیشہ خڈا کا لطف و کرم حیات گزری ہے اپنی نبی نبی کرتے خوشا نصیب کہ گزری ہے اطمینان کے ساتھ نبی کے شہر کی گلیوں سے دوستی کرتے زمانے […]