تری ایک ترچھی نگاہ نے مرے دل سے پردہ اٹھا دیا

جو کرشمہ پیش نظر نہ تھا مجھے ایک پل میں دکھا دیا تری شان کا میں نشان ہوں مجھے عشق نے یہ پتہ دیا کھلی آنکھ سے تجھے دیکھنا مرے دل نے مجھ کو بتا دیا مجھے اپنے دل پہ نظر نہ تھی کبھی اس صدا کی خبر نہ تھی جرس الست بربکم جو سنا […]

کھلا بھید خیر الوریٰ کہتے کہتے

ہوا میں فنا مصطفیٰ کہتے کہتے مرے منہ سے آنے لگی بوئے نافہ تری زلف کو مُشک سا کہتے کہتے گئے آدم و شیث و موسیٰ و عیسیٰ تجھے خاتم النبیاء کہتے کہتے شعائیں ہوئیں میری باتوں سے پیدا ترے منہ کو شمس الضحیٰ کہتے کہتے زیادہ ہوئی عقلِ کل کی بصیرت تری شان میں […]

معراج نامہ

اللہ اللہ بایں اوج مقامِ محمود یعنی وہ راکبِ براق چلا سوئے ودود وہ ملائک جو ازل ہی سے رہے وقفِ سجود پئے تعظیم کھڑے ہو گئے سب پڑھ کے درود اسکی توصیف و ستائش میں قلم بہنے لگا خالق کون و مکاں(ج) صلِّ علی کہنے لگا — حکم باری ہوا ہم آج بلاتے ہیں […]

آبلے ، مٹی ،پسینہ ،جیسے ویرانوں کا بوجھ

آسماں سے بھی فزوں، مزدور کے شانوں کا بوجھ ناتواں قلب و نظر پر اتنے کا شانوں کا بوجھ بتکدوں کا ،میکدوں کا اور پری خانوں کا بوجھ حاملِ بارِ گِراں ہے اک اجیرِ ناتواں لیکن آجر کیلئے ،مٹھی میں دو دانوں کا بوجھ آج کے گل آج ہی کی نکہتوں کے ہیں امین کل […]

ترے جمال کو ہم لاجواب کہتے ہیں

ہمِیں نہیں یہ مہ و آفتاب کہتے ہیں کہاں وہ چہرہ انور کہاں یہ مہرمنیر ہم آفتاب کو ذروں کا خواب کہتے ہیں ترے جمال کے اوراق میری ترتیلیں ترے جمال کو ام الکتاب کہتے ہیں دل و زبان میں پیوست ہو گئی ایسی تری کتاب کو اپنی کتاب کہتے ہیں مرے خلاف تھی رائے […]

نہ پوچھو کاہنوں سے خواب کی تعبیر کے پہلو

تراشو پہلوئے تدبیر سے تقدیر کے پہلو ادھوری داستاں کی اب یہی تکمیل کرتے ہیں تری تصویر کے آگے مری تصویر کے پہلو تری عصیاں طلب رحمت ، مرے رحمت طلب عصیاں ترےغفران کے پہلو ، مری تقصیر کے پہلو ضیاء کوئی جہاں میں ہمکنارِ شادمانی ہے لیے بیٹھا ہے کوئی آہ ِبے تاثیر کے […]

یہ جبیں لا مکاں سے ملتی ہے

یہ جبیں لامکاں سے ملتی ہے جب ترے آستاں سے ملتی ہے ایک نامہرباں سے اپنی نظر جیسے اک مہرباں سے ملتی ہے نوجوانوں سے پوچھتے ہیں پیر نوجوانی کہاں سے ملتی ہے میکدے بند ہیں ضیاؔ جب سے شہر میں ہر دکاں سے ملتی ہے

دھواں قلب و نظر میں چشم گوہر بار سے پہلے

اندھیرا ہے گلی میں ، رونق بازار سے پہلے سبھی چپ ہیں تماشائے عروج آثار سے پہلے یہ کیسی ابتلا ہے، خندقیں ہیں دار سے پہلے عراق ایران کی یلغار ہے امن و اخوت پر الہی روک دے تلوار کو تلوار سے پہلے گلوں میں چاند میں سورج میں کلیوں میں ستاروں میں تجھے میں […]

کوئی ہے مومن کوئی ہے ترسا خدا کی باتیں خدا ہی جانے

عجب طرح کا ہے یہ تماشہ خدا کی باتیں خدا ہی جانے کوئی جو سمجھے تو کیسے سمجھے بہت بڑے ہیں غضب کے دھوکے کہیں ہے بندہ کہیں ہے مولیٰ خدا کی باتیں خدا ہی جانے کہیں انا الحق وہ آپ بولا فقیر بن کر یہ بھید کھولا کہیں بنا ہے وہ آپ بھولا خدا […]

ہر سمت میں ہے تو جلوہ نما اے نور محمد صلی اللہ

آفاق کو تو نے گھیر لیا اے نور محمد صلی اللہ دکھلا کے چمک بالائے فلک آدم کو کیا مسجود ملک موسیٰ کو بنایا انی انا اے نور محمد صلی اللہ تو سب میں نہاں سب تجھ سے عیاں ہے تیرے لئے یہ کون و مکاں باہر ہے بیاں سے تیری ثنا اے نور محمد […]