مرے اعمال کی اُلٹی وہ سزا دیتے ہیں
میں جو مرتا ہوں تو پھر مجھ کو جلا دیتے ہیں یہ ستارے ، یہ غبارے ، یہ شرارے ، یہ حباب اور ہی ہستیِ فانی کا پتا دیتے ہیں
معلیٰ
میں جو مرتا ہوں تو پھر مجھ کو جلا دیتے ہیں یہ ستارے ، یہ غبارے ، یہ شرارے ، یہ حباب اور ہی ہستیِ فانی کا پتا دیتے ہیں
ہوتا ہے پھر بھی کوئی کشیدہ اگر تو ہو
موت سے بڑھ کے ہے جذبات کی تحقیر مجھے
اُٹھا نہ اک قدم بھی مگر رہنما کے ساتھ
یا بجلیاں رہیں گی یا آشیاں رہے گا
چراغِ صبح نہیں آفتابِ شام ہوں
کوئی تعمیر در و بام سے آگے نہ بڑھی
کھلنے کو پھول لاکھ کھلے ہیں بہار میں
جو پتے زرد ہو جائیں وہ پیڑوں پر نہیں رہتے تو کیوں بے دخل کرتا ہے مکانوں سے مکینوں کو وہ دہشت گرد بن جاتے ہیں جن کے گھر نہیں رہتے اسے جس دھوپ میں جبری مشقت کھینچ لائی ہے گھروں سے سائے بھی اس دھوپ میں باہر نہیں رہتے جھکا دے گا تری گردن […]
آج معروف صوفی شاعر درشن سنگھ دُگل کا یومِ وفات ہے (پیدائش: 14 ستمبر 1921ء – وفات: 30 مئی 1989ء) —— معروف صوفی شاعر ، مصنف اور ادیب درشن سنگھ دُگل 14 ستمبر 1921 کو سید کسراں ضلع راولپنڈی پنجاب میں پیدا ہوئے ۔ بی اے آنرز پنجاب یونیورسٹی لاہور سے کیا ۔ ڈپٹی سیکرٹری […]