جن کے پاس دولت ہے وہ کر لیتے ہیں تعبیریں
غریبوں کے مقدر میں ہمیشہ خواب رہتے ہیں اگر گستاخ ہیں بچے تو اسلمؔ حق بجانب ہیں جہاں فاقوں پہ فاقے ہوں کہاں آداب رہتے ہیں
معلیٰ
غریبوں کے مقدر میں ہمیشہ خواب رہتے ہیں اگر گستاخ ہیں بچے تو اسلمؔ حق بجانب ہیں جہاں فاقوں پہ فاقے ہوں کہاں آداب رہتے ہیں
مجھے مانگا ہوا پیرہن اچھا نہیں لگتا
آنا جانا ہے تو پھر دیوار میں در رہنے دو
کھلونے ہاتھ میں لے کر کوئی بچہ نہیں نکلا
تعمیر اس کی بارِ دگر ہونی چاہیے
سہارے آدمی سے استقامت چھین لیتے ہیں
میں جب بھی بات کرتا ہوں وہ مجھ کو ٹوک دیتا ہے مرا بیٹا ہی مجھ کو معتبر ہونے نہیں دیتا
اندھیرے تلملا اٹھے چراغ کی مجال پر یہ چاہتوں کا درد ہے یہ قربتوں کا حشر ہے جو دھوپ چھپ کے روئی آفتاب کے زوال پر یہ جان کر کہ چاند میرے گھر میں جگمگائے گا ستارے آج شام سے ہی آ گئے کمال پر نظر میں زندگی کی پھول معتبر نہ ہو سکے خزاں […]
اُس کو حق ہے کہ وہ انسان اُجالوں میں رہے اس لیے کرتے ہیں سرکار عطا ، قبلِ سوال تاکہ سائل کہیں اُلجھا نہ سوالوں میں رہے التجاء آپ سے اِتنی ہے مِرے قاسمِ رزق آپ کے ہاتھ کی تاثیر نَوالوں میں رہے نعت گوئی میں ہے وہ عارفِ آدابِ ثناء جو سدا نعت کے […]
” عظمتِ جانشینِ سُلطانِ بحر و بَر سیّدنا صدیقِ اکبرؓ " جو بشر مِصداقِ نَصِّ ثانئ اثنَین ہے بِالیَقَیں وہ جانشینِ سَرورِ کونین ہے ہے مَیسر عالمِ برزخ میں بھی قُربِ نبی کیا محبت صادق و صدیقؓ کے مابین ہے انبیاؑء کے بعد ہے ، خیرُ البشر جس کا مقام وہ جبینِ اُصطِفا کی تاب […]