خودی کو آ گئی ہنسی امید کے سوال پر

اندھیرے تلملا اٹھے چراغ کی مجال پر یہ چاہتوں کا درد ہے یہ قربتوں کا حشر ہے جو دھوپ چھپ کے روئی آفتاب کے زوال پر یہ جان کر کہ چاند میرے گھر میں جگمگائے گا ستارے آج شام سے ہی آ گئے کمال پر نظر میں زندگی کی پھول معتبر نہ ہو سکے خزاں […]

مدحِ سرکارِ زمن جس کے خیالوں میں رہے

اُس کو حق ہے کہ وہ انسان اُجالوں میں رہے اس لیے کرتے ہیں سرکار عطا ، قبلِ سوال تاکہ سائل کہیں اُلجھا نہ سوالوں میں رہے التجاء آپ سے اِتنی ہے مِرے قاسمِ رزق آپ کے ہاتھ کی تاثیر نَوالوں میں رہے نعت گوئی میں ہے وہ عارفِ آدابِ ثناء جو سدا نعت کے […]

جو بشر مِصداقِ نَصِّ ثانئ اثنَین ہے

” عظمتِ جانشینِ سُلطانِ بحر و بَر سیّدنا صدیقِ اکبرؓ " جو بشر مِصداقِ نَصِّ ثانئ اثنَین ہے بِالیَقَیں وہ جانشینِ سَرورِ کونین ہے ہے مَیسر عالمِ برزخ میں بھی قُربِ نبی کیا محبت صادق و صدیقؓ کے مابین ہے انبیاؑء کے بعد ہے ، خیرُ البشر جس کا مقام وہ جبینِ اُصطِفا کی تاب […]