اک تحفۂ نو سوئے حرم لے کے چلے ہیں
پہلو میں محبت کا صنم لے کے چلے ہیں صحرا میں کہاں پرتوِ اندازِ گلستاں خود اپنی نگاہوں کا بھرم لے کے چلے ہیں کیا حال ہے دل کا اسے اب کون بتائے محفل سے تری دیدۂ نم لے کے چلے ہیں کانٹوں کا گلہ کیا ہے کہ ہم راہِ طلب میں اک دشتِ بلا […]