اک تحفۂ نو سوئے حرم لے کے چلے ہیں

پہلو میں محبت کا صنم لے کے چلے ہیں صحرا میں کہاں پرتوِ اندازِ گلستاں خود اپنی نگاہوں کا بھرم لے کے چلے ہیں کیا حال ہے دل کا اسے اب کون بتائے محفل سے تری دیدۂ نم لے کے چلے ہیں کانٹوں کا گلہ کیا ہے کہ ہم راہِ طلب میں اک دشتِ بلا […]

شہر میں اسلحہ بلوائی لیے بیٹھے ہیں

اور ہم شکوۂ تنہائی لیے بیٹھے ہیں مرگ تو گھات میں ہے اور ادب کے معمار فن کی تکمیل یہ سوادائی لیے بیٹھے ہیں اتھلے پانی سے برآمد ہوئی لاشیں اور ہم فکرِ اقبال کی گہرائی لیے بیٹھے ہیں غالبؔ و میرؔ نے کس کس سے محبت کی تھی غم یہ تحقیق کے شیدائی لیے […]

بلائے جاں تھی جو بزمِ تماشا چھوڑ دی میں نے

خوشا اے زندگی خوابوں کی دنیا چھوڑ دی میں نے جو رہتیں بھی تو میرے شوق کی گلکاریاں کب تک چلو اچھا ہوا تزئینِ صحرا چھوڑ دی میں نے نہ ہو جب حال ہی اپنا تو مستقبل کی پروا کیا غمِ امروز چھوڑا ، فکرِ فردا چھوڑ دی میں نے مرض وہ ہے کہ صدیاں […]

ٹھہر جاتا ہے آنکھوں میں کوئی منظر جیسے

سراپا ہو تصور میں کوئی جلوہ گر جیسے مشغولِ غفلت اور پھر شوقِ خلوت بھی دیوانہ ہی ہو بیاباں میں دربدر جیسے جذبات میں تلاطم اور نہ آتشِ شوق چھا ہی گئی ہو کوئی دِل پہ کہر جیسے گرہن سا گرہن لگ رہا ہے اے ماہِ کامل طلوع سی ہو رہی ہو مرگِ سحر جیسے […]