گریباں ہاتھ میں ہوتا ، بس اتنا دل اُلٹ جاتا
گریباں ہاتھ میں ہوتا ، گلے میں آستیں ہوتی
معلیٰ
گریباں ہاتھ میں ہوتا ، گلے میں آستیں ہوتی
مجھے ہمراہ لیے جاتے ہیں موسیٰ دشتِ ایمن کو
یوسفؑ سے پارسا سے ہمیں یہ گماں نہ تھا
یہ چار ماتمی تو فقط گھر کے ہو گئے
کرنا پڑتا ہے وضو کر کے تیمم مجھ کو
سائلؔ بھی لوگ کہتے ہیں نواب بھی ہمیں بے آبرو بھی ہم ہوئے تو آبرو کے ساتھ
الہٰی خوب بدلا تو نے عنوانِ قلم میرا وفور معصیت سے کیا کہوں کیا تھا الم میرا مٹایا ہے تیری رحمت نے میرے دل سے غم میرا سُنا تھا نام تیرا ہی ہوا تھا جب جنم میرا وہی وردِ زباں جب بھی رہے جب نکلے دم میرا غرض دنیا سے ہے مجھ کو نہ مافیہا […]
آج معروف عالم دین احسان الہٰی ظہیر کا یوم وفات ہے (ولادت: 31 مئی 1945ء – وفات: 30 مارچ 1987ء) —— احسان الہٰی ظہیر بن حاجی ظہور الہی ظہیر 31 مئی 1941 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے ۔ ابتدائی تعلیم حفظِ قرآن سے لے کردرسِ نظامیہ اور عالم فاضل تک جامعہ اسلامیہ گوجرانوالہ اور جامعہ […]
شکوے کا کوئی حرف نہ منہ سے نکل گیا سچ بات کی تو شوخ کا تیور بدل گیا دامن جو تھاما ، جامے سے باہر نکل گیا میں نے تو ضبطِ عشق میں کچھ کوتہی نہ کی نہ جانے کیسے آنکھ سے آنسو نکل گیا پستی میں کچھ یہ ہستی ہے انسان کی بھلا مہماں […]
بوتل کو توڑ ڈالیے ، پیمانہ ہو گیا جب چار مل کے بیٹھ گئے بزمِ عیش ہے دو چار خُم لنڈھا دئیے ، میخانہ ہو گیا