بستی بستی قریہ قریہ آنا جانا اچھا ہے

کوچہ کوچہ نعت نبی کے شعر سنانا اچھا ہے کام جو گھر گھر جھاڑو پوچھا کرنے کا مل جائے ہمیں شہر مدینہ کو جانے کا یہ بھی بہانہ اچھا ہے خانہ کعبہ میں جیسے بھی گزریں اپنے شام و سحر ان کی گلی میں ان کے در پر ہوش میں آنا اچھا ہے ویسے تو […]

سب سے اولیٰ و اعلیٰ ہمارا نبی

سب سے بالا و والا ہمارا نبی اپنے مولیٰ کا پیارا ہمارا نبی دونوں عالم کا دولھا ہمارا نبی بزم آخر کا شمع فروزاں ہوا نور اوّل کا جلوہ ہمارا نبی سارے اچھوں میں اچھا سمجھے جسے ہے اس اچھے سے اچھا ہمارا نبی انبیا سے کروں عرض کیوں مالکو ! کیا نبی ہے تمھارا […]

وجۂِ ارض و سماوات کی بات ہے

کیا ہے قرآں؟ فقط نعت کی بات ہے پڑھ کے دیکھو کبھی سیرتِ مصطفیٰ ہر طرف بس کمالات کی بات ہے آپ کے ہی کرم کا ہے ہر سُو بیاں آپ کی ہی عنایات کی بات ہے سب سے پہلے بنایا گیا ان کا نور مستند یہ روایات کی بات ہے ذکرِ میلاد ہے در […]

رخ حیات کی تصویر ہیں مری غزلیں

حدیث قلب کی تفسیر ہیں مری غزلیں خلاف صنف غزل جو زبان کھولتے ہیں انہیں کے واسطے شمشیر ہیں مری غزلیں عیاں ہوں ان سے اگر رنج و غم تو کیا حیرت مسافران رہ میر ہیں ہیں مری غزلیں تو انکو لفظوں کی بازی گری سمجھتا ہے مرے لئے مری جاگیر ہیں ہیں مری غزلیں […]

جو زلف یار لہرائی بہت ہے

یہ دل اسکا تمنائی بہت ہے مرا دامن نہیں خالی کہ اس میں متاع درد تنہائی بہت ہے تری خاموش آنکھیں کہہ رہی ہیں غضب ہے ان میں گویائی بہت ہے میں جھوٹے شہر کا باسی ہوں لیکن مری باتوں میں سچائی بہت ہے یہ صحرائے محبت ہے مسافر یہاں پر آبلہ پائی بہت ہے […]

میں اہل زر بھی نہیں، اہل سلطنت بھی نہیں

سو میرا کوئی خبر گیر خیریت بھی نہیں زمین کیوں مجھے چشم حسد سے دیکھتی ہے اگرچہ میں کوئی شخص فلک صفت بھی نہیں کسی نے پھر مرے جذبوں کا آج خون کیا بڑا عجیب ہوں میں، طالب دیت بھی نہیں اے سادہ لوح تو یاں کامیاب نئیں ہوگا ترے وجود میں تھوڑی منافقت بھی […]

تمہاری تصویر ہم مسلسل ہی تک رہے ہیں

ہماری آنکھوں سے اشک بے حد ٹپک رہے ہیں ہم اشتباہا عجیب بستی میں آ گئے ہیں کہ لوگ اک دوسرے کے عیبوں کو ڈھک رہے ہیں ہمارے آنگن میں سنگ باری ہوئی شجر پر تو ہم نے جانا کہ پھل درختوں کے پک رہے ہیں خود ان میں جلتے رہیں گے پل پل کہ […]

نگاہ چشم قاتل کو نشانہ چاہئے تھا

نشانہ بھی کوئی مجھ سا دوانہ چاہئے تھا گھنے جنگل میں اے برق تپاں کچھ تو بتا دے جلانے کو مرا ہی آشیانہ چاہئے تھا حقائق تھے پرانے ان سے پردہ کیا اٹھاتا کہ اہل شہر کو تازہ فسانہ چاہئے تھا تمہاری زلف کی چھاؤں تلے ہم کیوں نہ آتے بلا کی دھوپ میں اک […]

بشر رسول کا جو نعت خوان ہو جائے

زمین بخت بشر آسمان ہو جائے مری نگاہ میں وہ بخت کا سکندر ہے جسے نبی کا بہم آستان ہو جائے بیاں ہو ڈھنگ سے گر اسوۂ رسول امیں تو شش جہات میں امن و امان ہو جائے سفینہ زیست کا ہرگز نہ ڈگمگائے گا نبی کا عشق اگر بادبان ہو جائے رسول جسکی طرف […]

قطرے سے کہاں ممکن توصیف سمندر کی

ہو کیسے رقم مجھ سے اب نعت پیمبر کی ہے چشم عطا مجھ پر یہ خالق اکبر کی جاری میرے ہونٹوں پر نعت شہہ قنبر کی اک دم سے مہک اٹھی، پرنور ہوئی محفل جب بات چلی تیرے گیسوئے معنبر کی خوشبوئے شہہ والا آنے لگی کاغذ سے لکھی جو سر کاغذ مدحت علی اکبر […]