خواب کی دہلیز پر پلکوں کا نم رہ جائے گا

دید کی تعبیر نا ملنے کا غم رہ جائے گا دولتِ دیدار مجھ کو بھی عطا فرمائیے میری آنکھوں کی بصارت کا بھرم رہ جائے گا ہم بدن اپنا مدینے سے اٹھا لے جائیں گے دل ہمارا آپ کی چوکھٹ پہ خم رہ جائے گا چھوڑ جائیں گی ہمیں اعمال کی خوش فہمیاں بر سرِ […]

ہونٹوں پہ سجایا ہے درودوں کا لبادہ

رکھتے ہیں مدینے میں حضوری کا ارادہ ہم جیسے گداؤں کے لئے کوئے جناں میں در سرورِ کونین کا رہتا ہے کشادہ وہ رفرف و براق نشیں صاحبِ عالم ہم مفلس و نادار غریب اور پیادہ کیا پیش کروں کچھ بھی نہیں آپ کے لائق توصیف کے کچھ حرف ہیں بے مایہ و سادہ ہم […]

قطارِ اشک مری ہر اُمنگ بھول گئی

کمال ضبط کا، پلکوں کا سنگ بھول گئی زمیں پہ عرصۂ معراج تھا بڑا مشکل حیات سانس بھی لینے کا ڈھنگ بھول گئی پیا ہے جب سے سماعت نے انگبینِ ثنا ہر ایک ساز ہر اک جلترنگ بھول گئی زمیں نے اوڑھ لیا رنگِ گنبدِ خضریٰ زمین اِس کے سوا سارے رنگ بھول گئی نظر […]

چادر اور چار دیواری از فہمیدہ ریاض

———- نظم نگار : فہمیدہ ریاض انتخاب کلام : ظفر معین بلے جعفری ———- بارہ ، تیرہ برس پہلے کی بات ہے جب صدیقہ بیگم کراچی آئیں۔ کئی ادیبوں اور شاعروں نے ان کے اعزاز میں ضیافتوں کااہتمام کیا۔ میں ان کے ساتھ ساتھ رہا، بلکہ انہوں نے اپنے تمام ادبی پروگراموں کو میری مشاورت […]

اول و آخر ، رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم

حُسنِ سراپا، عشقِ مجسِّم صلی اللہ علیہ وسلم مظہرِ نُورِ ذاتِ الٰہی ، سرِ علوم و رازِ خُدائی ہادیٔ برحق ، رہبرِ اعظم، صلی اللہ علیہ وسلم روئے منور ، سیرتِ اطہر، شافعِ محشر، ساقئی کوثر تم ہو جمالِ روحِ مکرّم صلی اللہ علیہ وسلم خلق تمہارا کامل واکمل ، ذات تمہاری اشرف و افضل […]

بارانِ کرم (کوئٹہ کی برفباری سے متاثر ہو کر)

بارانِ کرم (کوئٹہ کی برفباری سے متاثر ہو کر) ہنگامِ محشر (کوئٹہ میں برفباری کی تصویر کا دوسرا رُخ) از سید فخرالدین بَلّے گردوں سے برستے ہوئے یہ برف کے گالے تنتے ہوئے ہر سمت ہر اِک چیز پہ جالے دُھنکی ہوئی روئی کی طرح صاف شگفتہ شفاف، سبک، نازک و خود رفتہ و خستہ […]

سید فخرالدین بلے کا تخلیقی معجزہ , سات صدیوں بعد نیا قول ترانہ

من کنت مولا فھذا علی مولا سید فخرالدین بلے کا تخلیقی معجزہ سات صدیوں بعد نیا قول ترانہ تحریر:۔ علامہ سید ارتضی عاطف شیرازی ۔ (اٹلی) ———- بے شک ہم اقرار کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت امیر خسرو کے سات سو سال بعد سید فخرالدین بلے شاہ صاحب کا تخلیق کردہ قول ترانہ من […]

حریمِ قلب سنگِ در سے لف رکھا ہوا ہے

یہ دھیان اپنا مدینے کی طرف رکھا ہوا ہے روایت کے مطابق ان کا استقبال ہوگا کہ ہم نے دل نہیں سینے میں دف رکھا ہوا ہے نظر فرمائیں گے تو گوہرِ نایاب ہوگا درِ سرکار پر دل کا خذف رکھا ہوا ہے سرِ افلاک جس کی دھوم ہے وہ سبز گنبد زمیں کی گود […]

مشامِ جان میں مہکا خیالِ سیدِ عالم

بنا وجہِ قرارِ جاں وصالِ سیدِ عالم زمانہ جب تمنائے جناں میں سر بہ سجدہ تھا مرے ہونٹوں پہ رقصاں تھا سوالِ سیدِ عالم تمثل سے ورا ہیں گیسوئے اطہر سے ناخن تک نہ ممکن تھی نہ ممکن ہے مثالِ سیدِ عالم ہم ان کے عارض و لب کی ثنا میں کھوئے رہتے ہیں ہمیں […]

مہبطِ نور میں ہے نور سے ڈھالی جالی

دونوں عالم میں نہیں ایسی مثالی جالی ہم کہاں دیدِ شہِ کون و مکاں کے قابل ہم نے پلکوں کے کناروں پہ سجالی جالی جب سے دیکھا ہے کرم بار سنہری منظر دھڑکنیں ورد کئے جاتی ہیں جالی جالی قلبِ مغمُوم کو مسرُور کیا ٹھنڈک نے میں نے جب خواب میں سینے سے لگالی جالی […]