خواب کی دہلیز پر پلکوں کا نم رہ جائے گا
دید کی تعبیر نا ملنے کا غم رہ جائے گا دولتِ دیدار مجھ کو بھی عطا فرمائیے میری آنکھوں کی بصارت کا بھرم رہ جائے گا ہم بدن اپنا مدینے سے اٹھا لے جائیں گے دل ہمارا آپ کی چوکھٹ پہ خم رہ جائے گا چھوڑ جائیں گی ہمیں اعمال کی خوش فہمیاں بر سرِ […]