اتنا بڑھا بشر، کہ ستارے ہیں گردِ راہ
اتنا گھٹا، کہ خاک پہ سایہ سا رہ گیا ہنگامہ ہائے کارگہِ روز و شب نہ پوچھ اتنا ہجوم تھا ، کہ میں تنہا سا رہ گیا
معلیٰ
اتنا گھٹا، کہ خاک پہ سایہ سا رہ گیا ہنگامہ ہائے کارگہِ روز و شب نہ پوچھ اتنا ہجوم تھا ، کہ میں تنہا سا رہ گیا
ہر سمت سے ہے کفر کی یلغار ، اغثنی در پیش ہے اک معرکہ خیبر سا ہمیں بھی اے شیرِ خدا ، حیدر کرار اغثنی حبس اتنا زیادہ ہے کہ گھٹنے لگیں سانسیں مشکل میں ہے آقا ترا بیمار اغثنی پھر شوق ہوا در پہ ترے آنے کو بیتاب پھر وقت ہوا راہ کی دیوار […]
اور ہر سانس مری محو ثنا ہو ، آمین نعت کا طائر خوش لہجہ جو نکلے لب سے گلشن طیبہ میں وہ نغمہ سرا ہو آمین راہ طیبہ کی ہو اور ذکر نبی کی خوشبو میں ہوں اور قافلۂ باد صبا ہو آمین جس طرف بھی رہ دنیا میں سفر ہو آقا سامنے آپ کا […]
مرے دل کو عشقِ شہِ دیں سے بھر دے سبھی راستے بند کر کے تو یارب! مجھے شہرِ سرکار کی رہگذر دے تمنا نہیں سونے چاندی کی مجھ کو مجھے علم و عرفاں کے تازہ ثمر دے مجھے مصطفیٰ کا ہو دیدار حاصل نگاہوں کو وہ لمحۂ معتبر دے مجھے شہرِ طیبہ میں مسکن عطا […]
ذکر ہے تیرا چھڑا رب عظیم سب ترے سب ہے ترا رب عظیم اے خدا میرے خدا رب عظیم وسعت کونین ہر ذرے میں ہے مرحبا صد مرحبا رب عظیم تو نظر آتا نہیں لیکن ہے تو آئینہ در آئینہ رب عظیم سطح دریا پر جو لکھتی ہے ہوا ہے تری حمد و ثنا رب […]
مرے حسین مجھے راستہ دکھاتے ہیں غموں کی دھوپ سے بچنے کے واسطے شبیر تمہاری یاد کو ہم سائباں بناتے ہیں وہ جن کا سارے زمانے میں بول بالا ہے مرے حسین کے در سے ہی فیض پاتے ہیں سنوارتے ہیں وہ دنیا بھی اور عقبیٰ بھی درِ حسین پہ جو اپنا سر جھکاتے ہیں […]
ہے جہانِ کرم شہِ نوّاب تیرے کوچے کا خطہ خطہ ہے رشکِ باغِ ارم شہِ نوّاب سر بہ خم تیرے آستانے پر سارے جاہ و حشم شہِ نوّاب یاد کر کے تجھے خود اپنی ذات بھول جاتے ہیں ہم شہِ نوّاب تم اگر سامنے رہو میرے کیا وجود و عدم شہِ نوّاب ابرِ باراں ہے […]
کعبۂ اہلِ صفا روضہ شہِ نواب کا منزلِ عشقِ نبی اب مجھ کو بھی ہوگی نصیب چْن لیا ہے میں نے بھی رستہ شہِ نوّاب کا چاہتے ہو دامنِ حیدر سے جو وابستگی تھام لو تم دامنِ زیبا شہِ نوّاب کا آ گئی یک لخت میرے گلشنِ دل میں بہار لب پہ میرے نام جب […]
عظمتوں کی علامت ہیں خواجہ حسن کون پوچھے جو خالی ملے عکس سے آئینے کی ضرورت ہیں خواجہ حسن سب سے پہلے تہی دامنوں کو بھریں صدر بزم عنایت ہیں خواجہ حسن اس لیے میں کوئی فکر کرتا نہیں رکھے دست حمایت ہیں خواجہ حسن مہربانی کرو تم بھی بہر خدا چاہتے ہم زیارت ہیں […]
ہر بلندی پر ملیں گے نقشِ پائے بوالعلی کس لیے میں غم کروں کس بات کی مجھ کو ہے فکر ہر گھڑی مجھ پر ہے وا باب عطائے بوالعلی چاند کی اٹکھیلیوں کو دیکھ کر ایسا لگا سیکھ لی ہے اس نے بھی طرز ادائے بوالعلیٰ آگئے جس کے قدم ، جاتا نہیں ہے لوٹ […]