امرتا پریتم کا یومِ وفات

آج پنجابی زبان کی نامور شاعرہ۔ مسلمہ ادیبہ اور افسانہ نگار امرتا پریتم کا یومِ وفات ہے۔ امرتا پریتم گوجرانوالہ میں پیدا ہوئیں۔ ان کی سو سے زائد کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں شاعری کے علاوہ کہانیوں کے مجموعے، ناول اور تنقیدی مضامین کے انتخابات بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ہندوستان اور […]

پھول سے نازک راہ کے پتھر صلِ علیٰ

شہر شہِ کونین کے منظر صلِ علیٰ گنبد خضرا سوچو کتنا ہوگا حسیں چومنے آئیں ماہ و اختر صلِ علیٰ جس کو پسینہ سرورِ دیں کا کہتے ہیں رحمت کا وہ بھی ہے سمندر صلِ علیٰ پھول بیانی سے آقا کی گھبرائیں نیزے بھالے تیر اور خنجر صلِ علیٰ باغِ خلافت کا پہلا گل ہیں […]

جو ہے میرے مصطفیٰ کا راستہ

ہے وہی قربِ خدا کا راستہ مصطفیٰ کے نام میں ہے وہ اثر روک دیتا ہے بلا کا راستہ مصطفیٰ کی یاد ٹھنڈی چھاؤں ہے کیوں تکوں بادِ صبا کا راستہ جو دکھایا ہے نبی کی آل نے ہے وہی صبر و رضا کا راستہ گلشن سرکار سے ہے منسلک گلشن خیر النسا کا راستہ […]

زمانہ بھیک جس سے مانگتا ہے

وہ سرکارِ دو عالم کا گدا ہے کسی کا ہو نہیں سکتا وہ ہرگز نبی کے نام پر جو بک چکا ہے جو دل سے سرورِ عالم کو چاہے خدائے پاک اس کو چاہتا ہے جہاں روضہ ہے میرے مصطفیٰ کا وہیں سے جنتوں کا راستہ ہے بھلا ڈوبے گی کیسے میری کشتی کرم سرکار […]

ہوں جب سے نعتِ آقا کے اثر میں

مرا بھی نام ہے اہلِ ہنر میں انہی کی نعت پڑھتے ہیں زمانے انہی کا تذکرہ ہے بحر و بر میں یہ ذراتِ مدینہ کا ہے صدقہ جو اتنا نور ہے شمس و قمر میں تصور میں گلِ طیبہ ہے میرے کھلے ہیں پھول صحرائے نظر میں سوائے صدقۂ کوئے شہِ دیں رکھا ہی کیا […]

رحمتوں کا سلسلہ اچھا لگا

یعنی ذکرِ مصطفیٰ اچھا لگا ہے جہاں روضہ مرے سرکار کا اس گلی کا راستہ اچھا لگا آپ کی رحمت کا ہے سایہ بہت کب مجھے ظلِ ہما اچھا لگا اور بھی در ہیں زمانے میں مگر ہم کو ان سے مانگنا اچھا لگا رحمتِ عالم کے دستِ لطف سے جو ملا ، جتنا ملا […]

جب سے کوئے سرورِ دیں کی شناسائی ملی

مجھ سے بے مایہ کو خلقت میں پزیرائی ملی ہو گئے جس دم تبسم ریز میرے مصطفیٰ کھل اٹھا رنگِ چمن پھولوں کو رعنائی ملی دم بہ دم رہتا ہے میرے لب پہ نامِ مصطفیٰ اس لیے ہر ایک مشکل مجھ سے گھبرائی ملی لب ملے ہیں چومنے کو نقشِ پائے مصطفیٰ ذکر کرنے کو […]

گنجِ رحمت لٹانے حضور آگئے

دشت میں گل کھلانے حضور آگئے جس پہ چلنے سے حاصل ہو رب کی رضا راستہ وہ دکھانے حضور آ گئے بجھ چکے تھے صداقت کے سارے دیے پھر لگے جگمگانے ، حضور آ گئے عبد و معبود کے بیچ حائل تھے جو سارے پردے ہٹانے حضور آ گئے اے مرے دل پریشاں ہے کیوں […]

جو نامِ سرورِ دیں رٹ رہے ہیں

فلک پر تذکرے ان کے چھڑے ہیں نبی کا ذکر میں کرتا ہوں جس دم فرشتے بھی مرے لب چومتے ہیں نبی کے شہر میں خارِ مغیلاں گلوں کو آئینہ دکھلا رہے ہیں چلے اس سے بھی آگے سرور دیں جہاں جبریل بھی ٹھہرے ہوئے ہیں جنہیں دنیا کہے شاہانِ عالم وہ کوئے سرورِ دیں […]

تمناؤں کو اجلا کر لیا ہے

مدینے کا ارادہ کر لیا ہے رقم کرنی ہے مجھ کو نعتِ آقا ورق یوں دل کا سادہ کر لیا ہے ملی ہے جب سے یادِ شہرِ طیبہ ہر اک شے سے کنارہ کر لیا ہے ترے روئے منور کی ضیا سے قمر نے استفادہ کر لیا ہے جو راہِ مصطفیٰ کی خاک پائی اسے […]