ڈاکٹر نذیر قیصر کا یوم پیدائش

آج ماہر اقبالیات ڈاکٹر نذیر قیصر کا یوم پیدائش ہے (پیدائش: 30 اکتوبر، 1922ء- وفات: 24 فروری، 2013ء) —— ڈاکٹر نذیر قیصر کی علمی و ادبی خدمات —— ڈاکٹر نذیر قیصر کی شخصیت کئی پہلوؤں سے اُجاگر ہے۔ آپ بیک وقت ماہر فلسفہ‘ ماہر تعلیم اور ماہر نفسیات تھے جن کی فکر کا ہر پہلو […]

ثمینہ راجا کا یوم وفات

آج معروف شاعرہ ثمینہ راجا کا یوم وفات ہے ثمینہ راجا پاکستان کی نامور شاعرہ ، ایڈیٹر ، مترجم اور ماہرہ تعلیم تھیں ۔وہ رحیم یار خان میں 11 ستمبر 1961ء کو پیدا ہوئیں۔ بارہ تیرہ برس کی عمر سے شعر گوئی کا آغاز ہوا اور جلد ہی ان کا کلام پاک و ہند کے […]

یہ فضلِ خاص ہے رب العلا کا

مجھے منگتا بنایا مصطفیٰ کا ملا ہے اس لیے بھی دورِ آخر نہ ہو منسوخ فرماں مصطفیٰ کا مرے سرکار ہی ختم الرسل ہیں کوئی ناسخ نہیں قولِ خدا کا بنایا ہی نہیں میرے خدا نے کوئی ثانی شہِ ہر دو سرا کا مرا سینہ بھی ہو جائے منور بنے جو نقش تیرے نقشِ پا […]

لوحِ الفت پر بہ حرفِ معتبر لکھتا رہوں

یعنی مدحِ مصطفی میں عمر بھر لکھتا رہوں خم کیے نوکِ قلم شام و سحر با چشمِ نم شہرِ طیبہ کو امیدوں کا نگر لکھتا رہوں بھول جاؤں زندگی کے اور سارے کام میں اسمِ پاکِ مصطفیٰ شام و سحر لکھتا رہوں سرورِ کونین کا سینے میں رکھتا ہو جو عشق دشمنِ جانی کو اپنا […]

وردِ زباں ہے جب سے رسولِ خدا کا نام

کرنے لگا ہے سارا جہاں میرا احترام اللہ رے یہ شہرِ پیمبر کا احترام ہوتی نہیں یہاں پہ ہوائیں بھی تیز گام مصروف ہوں میں ذکرِ رسالت مآب میں رحمت خدائے پاک کی ہے مجھ سے ہمکلام مجھ کو نوازتی ہیں سدا ان کی رحمتیں بنتا ہے ان کے لطف سے میرا ہر ایک کام […]

بے شمار اس پہ انعامِ رحماں ہوا

جو شہِ مرسلیں کا ثناخواں ہوا جب بھی آیا خیالِ درِ مصطفیٰ حجرۂ فکر جنت بداماں ہوا ذرہ ذرہ نبی کے درِ پاک کا نازشِ اوجِ برجیس و کیواں ہوا جس گھڑی ان کی چشمِ عنایت ہوئی مرحلہ جو تھا مشکل وہ آساں ہوا اس کی الفت مرے دل میں ہے جلوہ گر جو سرِ […]

جو نگاہِ شہِ امم ہو جائے

ایک ادنیٰ بھی محترم ہو جائے مصطفیٰ کہہ دیں جو غلام اپنا خدشۂ حشر کالعدم ہو جائے نقشِ پا ان کے مہرباں ہوں اگر کوئے دل غیرت ارم ہو جائے آرزو ہے فقط یہی آقا میرا دل آپ کا حرم ہو جائے چاہتا ہوں کہ میری مٹی بھی خاکِ شہرِ نبی میں ضم ہو جائے […]

اس لیے بے مثل ہے شہکار ہے

وہ غلامِ سیدِ ابرار ہے اے ہوا ! لے سانس آہستہ یہاں یہ دیارِ احمدِ مختار ہے نعت گوئی کا ہوا جب سے کرم دل ہے روشن ، بخت بھی بیدار ہے صورتِ مہتاب چرخِ فکر پر ضوفشاں یادِ شہِ ابرار ہے خسروی بھی ہے جہاں کاسہ بکف وہ مرے سرکار کا دربار ہے سنتِ […]

وقفِ نعتِ شہِ مرسلاں کیجیے

زیست کو اپنی یوں کامراں کیجیے یاد ان کی محافظ ہے اپنی تو پھر کس لیے خوفِ تیغ و سناں کیجیے سوئے طیبہ چلے جب کوئی کارواں خود کو گردِ رہِ کارواں کیجیے لیجیے اور کچھ مت دوا کے لیے ذکر کو ان کے آرامِ جاں کیجیے چاہیے جو رضا ربِ کونین کی "مدحتِ شاہِ […]

بچھی ہے مسندِ عز و وقار ان کے لیے

سروں کو خم ہیں کیے تاجدار ان کے لیے سجی ہے ان کے لیے محفل نجوم و قمر ہے آسمان کو حاصل قرار ان کے لیے درود پڑھتی ہیں سر سبز وادیاں ان پر رواں دواں ہیں سبھی آبشار ان کے لیے اثاثہ نکہت طیبہ کا بھر کے دامن میں ہوئیں ہوائیں غریب الدیار ان […]