شہرِ بطحا کی یاد آتی ہے
مجھ کو ہر پل بڑا رُلاتی ہے کاش! مِل جائے اِذن طیبہ کا آرزُو ہے کہ بڑھتی جاتی ہے اِس طرف بھی کرم کی ایک نظر غَم کی دُنیا مجھے ستاتی ہے عیب کاری میں مُبتلا ہے جاں ہائے! راحت کہیں نہ پاتی ہے قبر وحشت کی جا ہے کیا ہو گا فکر جاں لیوا […]