اُسوۂ سرکارِ دو عالم میں ڈھل جاؤں تمام

دین کی ترویج کی کوشش میں گزریں صبح و شام ذُرّیت میری ہو اصحابِؓ محمد پر نثار دین کی ترویج ہر بچّے کا ہو جائے شعار ساری دنیا میں مرے سرکار کا ڈنکا بجے کوئی ’’دین اللہ‘‘ کا باغی نہ دنیا میں رہے رنگ میں اللہ کے سب رنگ جائیں خاص و عام ساری دنیا […]

میرا خامہ جو یا نبی لکھے

روشنائی سے روشنی لکھے جو بھی اُن کا کلام دھرائے ہر زمانے میں آگہی لکھے جس کو مطلوب ہے کمالِ ہنر وہ ہر اِک بات کام کی لکھے یعنی با اہتمام شام و سحر صرف آقا کی بات ہی لکھے اُن پہ بھیجے سدا درود و سلام مدحِ مکی و ابطحی لکھے مہرِ روحانیت کی […]

شمیم پھیل رہی ہے اب اس صداقت کی

حسینؓ ابن علیؓ سے جو ہو گئی منسوب اب اس کی ذات جہاں میں بلند قامت ہے کہ جس کی ذات ہر اِک دور میں رہی محبوب ثبات و عزم کا مینارۂ بلند حسینؓ حصارِ وقت میں جو ہو نہیں سکا محدود وہ آفتاب جو ہر لمحہ تیرگی کے لیے رہِ حیات ہر اِک سمت […]

حمدِ رب کے نخل پر آیا ثمر اشعار کا

کُھل گیا قصرِ سخن میں ایک در اشعار کا ساری تخلیقات میں نورِ یقیں جلوہ فگن حمد کے اشعار میں سرمایۂ صد فکر و فن رزقِ فن دیتا ہے جو، اُس کی ثنا ہر لب پہ ہے خیر کی چاہت بھلائی کی دُعا ہر لب پہ ہے ہر سخن کا رُخ زمیں سے آسماں کی […]

دعا کو بھیک مل جائے اثر کی

ملے توفیق طیبہ کے سفر کی شعورِ پیرویِ مصطفی دے مرے اللہ ! سُن لے چشمِ تر کی وہی اُسوہ رہے پیہم نظر میں کہ جس پر ہے بِنا اُجلی سحر کی ضرورت ہے مری تاریکیوں کو ابو القاسم کی سیرت کے قمر کی گزرنا ہے جہانِ آب و گل سے الٰہی! خیر ہو میرے […]

عقل کیا منصبِ سرکار کی تحقیق کرے؟

جبکہ ایماں سے جدائی، اُسے زندیق کرے شہرِ طیبہ کا ہوں باشندہ، یہ دل کہتا ہے کاش تقدیر بھی اس خواب کی تصدیق کرے! میرے ہر شعر میں ہو مدحِ رسولِ اکرم ہر عمل میرا، مری بات کی توثیق کرے! فاصلے سارے عجم اور عرب کے مٹ جائیں اس قدر روح کو رَبّ مائلِ تشویق […]

بجائے اس کے کہ عبرتِ نشان ہو جائے

دعا کرو کہ یہ ملت جوان ہو جائے! جو دیں سے جوڑ دے دنیا کے سارے رشتوں کو اک ایسا ہم میں بھی صاحِب قِران ہو جائے یہیں پہ خلد کا منظر دکھائی دینے لگے نفاذِ دیں سے وہ امن و امان ہو جائے! میں حُبِّ سیِّدِ کونین کا جو ذکر کروں کشش پیام کی […]