خواب ترے جو دل کی پگڈنڈی سے ہٹ جاتے

شاید پلکوں پر اُمڈے یہ بادل چھٹ جاتے میں کچّا رستہ وہ پکّی سڑکوں کا عادی مجھ پر چلتا کیسے پاؤں دھول سے اَٹ جاتے تم نے سوچا ہی کب اپنی انا سے آگے کچھ ورنہ بیچ کے فاصلے گھٹتے گھٹتے گھٹ جاتے صبح سویرے تیرے رستے میں جا بیٹھتے ہم شام سمے تیرے پیچھے […]

کیا پتہ اب منتظر آنکھوں میں بینائی نہ ہو

کیا خبر ہم دستکیں دیں اور شنوائی نہ ہو کیا پتہ بارانِ رحمت کا گذر محلوں سے ہو کیا خبر کچّے مکانوں پر گھٹا چھائی نہ ہو کیا پتہ جل جائیں سورج کی تمازت سے بدن کیا خبر انجام اِس جذبے کا رسوائی نہ ہو کیا پتہ اپنوں میں کوئی رنگ میرا ناں ملے کیا […]

شاخ پر بیٹھا اِک پرندہ تھا

میں جسے اپنا خواب سمجھا تھا دو گھڑی کو وہ پاس ٹھہرا تھا کون جانے وہ شخص کیسا تھا دیکھ آنگن میں تیرے چمکا ہے میری قسمت کا جو ستارہ تھا آج اُس نے بھی خود کشی کر لی جس کو مرنے سے خوف آتا تھا گھُل گئی ساری تلخی لہجے کی چائے کا ذائقہ […]

کسی نے پیڑ ہی کچھ اسطرح اُگائے تھے

وہاں پہ دھوپ دھری ہے جہاں پہ سائے تھے پھر اُس کے بعد نَدی میں اُتر گیا تھا چاند بس ایک بار ستارے سے جھلملائے تھے نجانے گھاس کناروں کی کیوں نہیں چمکی دیئے جلا کے تو ہم نے بہت بہائے تھے لہولہان ہیں جن سے تمام شہر کے لوگ کوئی بتائے یہ پتھر کہاں […]

مِری نظر تھا اندھیروں میں ڈھل گیا مجھ سے

وہ میرا آپ تھا اِک دن بدل گیا مجھ سے وہ میرے جسم میں تھا موجزن لہو کی طرح اب ایسا لگتا ہے جیسے نکل گیا مجھ سے میں جانتا تھا ترا پیار مار ڈالے گا سو اپنے آپ پہ اِک تیر چل گیا مجھ سے وہ ایک خواب تھا رنگین مچھلیوں جیسا نگاہ برف […]

غزل کے روپ میں نعتوں کا آئینہ دیکھو

اِس آئینے میں ذرا تابشِ وِلا دیکھو یہ شاعری جو نہیں بے جہت کسی رخ سے اِسی کو اب جرسِ کارواں بنا دیکھو تڑپ رہا ہے یہ دل یادِ شہرِ طیبہ میں زُجاجِ شعر میں احساس برملا دیکھو دلوں میں طِیبِ محبت بسی ہے اُس در کی عقیدتوں کا صحیفہ کھلا ہوا دیکھو ہے اِتِّبَاع […]

پیکرِ حُسن، محبت کا علم دار حسین

حق کی آواز ، صدا قت کا طرف دار حسین بادشاہ سب ہی شہیدوں کا وہ کہلاتا ہے اور جنت میں جوانوں کا ہے سردار حسین لاج کربل میں شجاعت کی رکھے ابنِ علی اور اسلام کی اونچی رکھے دستار حسین نام لیوا ہیں ترے ابن علی ، ابنِ بتول دور تجھ سے نہیں ہوسکتے […]

جس کی تصویر ہے اِس دلِ پاک میں

اشک بن کر رہا چشمِ نمناک میں نظم میں خواب تیرا ، غزل میں خیال اِک دیا بام پر ، اِک دیا طاق میں خود کو پرواز سے باز رکھنا پڑا تھے شکاری مسلسل مِری تاک میں کس تپش سے جلا آشیانِ وجود ہوگا کوئی شرارہ بجھی راکھ میں شعر کے فن میں کیا مرتضیٰ […]