اے کاش کبھی سارے جھمیلوں سے نمٹ کے
میں روؤں حضور! آپ کے قدموں سے لپٹ کے اِس عہد نے جو زخم دیئے ہیں مجھے آقا! میں عرض کروں، تو مرا دل لخت ہو پھٹ کے صحرائے جنوں میں، میں اکیلا ہی کھڑا ہوں آتی نہیں خود اپنی بھی آواز پلٹ کے دیں، سادہ تو دنیا کا ہر انداز ہے رنگیں اس طرح […]