نفرتوں کا وسیع دریا ہو

ہاتھ شل ہو چکے ہیں چپوّ سے ایک دم ہو گیا ہوں پتھر کا آپ کی گفتگو کے جادو سے دن نکلتا ہے دیکھ کر چہرہ شب بندھی ہے تمھارے گیسو سے پھر مجھے کاٹنے لگا بستر اُٹھ گیا تھا کوئی جو پہلو سے اُس نے ٹانکا تھا پھول کالر میں میں مُعطّرہوں اُس کی […]

ذرّہ ذرّہ مصطفی ﷺ سے چاہتا ہے روشنی

جانتے سب ہیں کہ بس ان کی عطا ہے روشنی ان ﷺ کی تنویرِ رسالت نے بتایا خلق کو دینِ حق کے ساتھ پیمانِ وفا ہے روشنی نورِ احمد ﷺ نے یہ قلب و ذہن پر روشن کیا کیسے ملتی ہے ہدایت اور کیا ہے روشنی مہر و ماہ و انجم و برق و شرار […]

ہم کو دامن اُن کو گنجِ شائگاں بخشا گیا

یوں فقیروں کو وہ دستِ مہرباں بخشا گیا آدمی کو اُن کے صدقے نعمتِ عظمیٰ ملی دینِ برحق کا شعورِ جاوداں بخشا گیا جس نے اُن کی پیروی کا ہر قدم رکھا خیال وہ تو محشر میں بِلا ریب و گماں بخشا گیا چلچلاتی دھوپ، دشتِ بے کراں، انساں فگار ایسے لمحے رحمتوں کا سائباں […]

ذہن و دل ہوتے ہیں روشن آپ ﷺ ہی کے نام سے

پھیلتی جاتی ہیں کرنیں آپ ﷺ کے پیغام سے اُسوۂ ختم الرسل ﷺ سے عشق ہو تو کیوں نہ ہو ایک صبحِ نو ہویدا زندگی کی شام سے مندمل ہوتے ہیں دل کے زخم اُن ﷺ کی یاد میں روح بھی تسکین پاتی ہے اُنہی ﷺ کے نام سے ہے دریچے ذہن و دل کے […]

لکھوں اِس طور سے اُن ﷺ کا قصیدہ

بنا لوں میں شُنیدہ کو بھی دیدہ عمل ہو اُن ﷺ کی سیرت کے مطابق ہے جن ﷺ کو چاہنا میرا عقیدہ اُنہی ﷺ کا نام مثلِ مہر چمکا ہوا روشن دو عالم کا جریدہ عمل سے لکھ سکوں اے کاش میں بھی صحابہؓ کی طرح اُن کا قصیدہ عزیزؔ احسن یقینا بعدِ رَبّ ہیں […]

مدح کب تک شہِ کونین ! شنیدہ لکھوں

کاش وہ وقت بھی آئے کہ میں دیدہ لکھوں دولتِ درد عطا ہو مرے آقا ! مجھ کو آپ () کی نعت میں با قلبِ تپیدہ لکھوں کاش وہ چشمِ کرم میری طرف بھی ہو جائے! میں بھی حسَّانؓ کے لہجے میں قصیدہ لکھوں چادرِ زیست پہ عصیاں کے اگر داغ نہ ہوں یا نبی […]

نعت کہنے کا سلیقہ میں کہاں سے لاؤں

حرف و الفاظِ جمیلہ میں کہاں سے لاؤں آنکھ اٹھتی ہی نہیں گنبدِ خضری کی طرف شان میں اسکی قصیدہ میں کہاں سے لاؤں لمس سرکار کی زلفوں کا ہواؤں کو ملا ایسا پاکیزہ نصیبہ کہاں سے لاؤں جب کہ سایہ بھی نہیں آپ کا موجود آقا مثلِ اوصافِ حمیدہ میں کہاں سے لاؤں دم […]

فروزاں فروزاں ضیائے مدینہ، ہے سب حسنِ عالم فدائے مدینہ

اس آفت زدہ شہرِ یثرب میں آقا، تمہی بن کے رحمت ہو آئے مدینہ ترا شہرِ خوباں دعاؤں کا محور، دل و جاں ہوئے ہیں معطر،منور لبوں پر سجی بس یہی التجا ہے ، رہے میرے دل میں ولائے مدینہ حسیں سبز گنبد پہ نظریں جمائے زباں پر سلاموں کے گجرے سجائے میں مسحور و […]