کس قدر رتبہ ہے برتر والئی کونین کا
قبلۂ کونین ہے در والئی کونین کا سورہے ہیں بے خطر ہجرت کی شب مولا علی خوف کیا ہو جب ہے بستر والئی کونین کا امہاتِ کل علی خیر النسا، حسنینِ پاک ہے گھرانہ کتنا اطہر والئی کونین کا انکی نسلِ پاک میں ہے بچہ بچہ نور کا ہر نفس ہے یوں منور والئی کونین […]