نعت لکھتا ہوں تو لگ جاتے ہیں اعرابِ نور

میم لکھتے ہی امڈ آتے ہیں سیلابِ نور آنکھ لگتے ہی تری دید عطا ہوجائے کاش ایسا بھی عطا ہو مجھے اک خوابِ نور وہ ہوں صدیق و عمر یاہوں غنی و حیدر سروں کے تاج ہیں ، تیرے سبھی اصحابِ نور وقتِ رخصت بھی مواجہ پہ نگاہیں ہیں جمی دل میں بجتی ہے مرے […]

دار و مدارِ حاضری تیری رضا سے ہے

حرف و بیانِ شوق بھی تیری عطا سے ہے آنکھوں سے چُومتا ہُوں ترا گنبدِ جمیل اِس کا جمال و نور ترے نقشِ پا سے ہے صدیوں کے فاصلے میں بھی ہے یوں ہی سر بلند نسبت تمھاری نعت کی تو خودخُدا سے ہے شُکرِ خُدا کہ ہُوں رہِ حسّاں پہ گامزن آغازِ نطق میرا […]

لوحِ دل پر نقش ہے نقشِ کفِ پا آپ کا

اس لیے محشر میں ہے ہم کو سہارا آپ کا حکم پا کر آپ کاسورج پھرا، الٹے قدم چاند دو ٹکڑے ہوا پاکر اشارہ آپ کا چھٹ گئے سب غم کے بادل مٹ گئے رنج و الم نامِ نامی جیسے ہی میں نے پکارا آپ کا انگلیوں کی اوٹ سے دیکھا جسے حسان نے نور […]

نثار کرنے کو ہوش و قرار آیا ہوں

درِ نبی در پہ بہت دل فگار آیا ہوں حروفِ عرض لبِ شوق پر سجائے ہوئے ترے دیار میں زار و قطار آیا ہوں بوجہِ عصیاں ہوں آشفتہ ، نادم و نالاں میں لے کے دامنِ دل تار تار آیا ہوں متاعِ حرف و سخن نعت سے نہ ہو قاصر دیارِ پاک میں اب اشک […]

باعثِ ردِ بلائے دو جہاں میرے نبی

آپ ہی ہیں دافعِ ہر اک زیاں میرے نبی پردۂ قربت میں رب نے کیا دیا کتنا دیا صرف رب ہے اور اس کے راز داں میرے نبی آپ کی آمد پہ طیبہ میں نرالی دھوم تھی دف پہ گاتی تھیں ترانے بچیاں میرے نبی انگلیوں کی اوٹ سے حسان نے دیکھا اسے آپ کا […]

مرے دل میں بہت مدت سے ارمانِ مدینہ ہے

سجے ہیں اشک آنکھوں میں کہ جیسے آبگینہ ہے گھرا ہوں گردشِ طوفانِ عصیاں میں،مرے آقا ہے بحرِ بیکراں طغیانی ہے میرا سفینہ ہے غبارِ راہِ طیبہ ہے عقیدت کا حسیں محور جبینِ شوق کی منزل درِ شاہِ مدینہ ہے عقیدت کے سوا افکار کا حاصل نہیں کچھ بھی ختن کے مشک سے بھی بڑھ […]

لوحِ دل پر جو تنزیلِ مدحت ہوئی نطق مدحِ محمد کا خو گر ہوا

حرف در حرف کرنیں چمکنے لگیں مدح لکھی تو دیواں معطر ہوا نور سے رب نے اپنے بنایا جنہیں، وجہِ تخلیقِ کونین کہیئے انہیں وہ ہیں ممدوحِ رب یعنی خیر الورٰی وجہِ حسنِ جہاںان کا پیکر ہوا گرمی و تابِ محشر میں چاروں طرف نفسی نفسی کا عالم تھا، سایہ نہ تھا پھر وہ پردہ […]

ہجومِ عاشقاں میں آپ کے در پر میں حاضر ہوں

گناہوں پر پشیماں ہوں بہ چشمِ تر میں حاضر ہوں حجر،برگ و ثمر،شمس و قمرجھک کر سلامی دیں صلوۃ و السلام اے شاہِ خشک و تر میں حاضر ہوں یہ دل امراض عصیاں سے قریبِ مرگ پہنچا ہے بچا لو اور جِلا دو شاہِ بحر و بر میں حاضر ہوں نہیں کچھ مقصدِ عالم تمہی […]

برائے مدح کہوں نوّرَ اَلقمر آقا

سلام پڑھتے ہیں تم پر شجر، حجر آقا تمھارے دستِ کرم سے رواں ہوئے چشمے جدھر اشارہ ہوا جھک گیا قمر آقا عدن کے باغ کی نکہت ہو یا کہ مشکِ ختن ترے پسینے سے پاتے ہیں سب اثر آقا میں اس امید پہ محفل سجائے رکھتا ہوں کبھی تو آپ بھی آئیں گے میرے […]

نظر میں سرورِ دیں کا جمال رکھتا ہوں

انہی کے ذکر سے راتیں اجال رکھتا ہوں محبتوں کے حوالوں میں ذکرِ حسنِ نبی میں سب سے پہلے ہی بے قیل و قال رکھتا ہوں سخن کی راہ میں تکریمِ ان کی لازم ہے میانِ شعر ادب کا خیال رکھتا ہوں مرا یہ نام و نسب ہے انہی کی نسبت سے نہ کوئی خوبی […]