دیدۂ شوقِ ہمیشہ سے ہی نم رکھا ہے
یاد طیبہ میں دعاؤں کو بہم رکھا ہے وہ جگہ رشک گہِ خلد و سماوات ہوئی جس جگہ آپ نے اک بار قدم رکھا ہے مضطرب قلب عجب لطف سے سرشار ہوا یوں لگا دل پہ مرے دستِ کرم رکھا ہے حرف و الفاظ ہوئے محوِ طوافِ قرطاس جب سے مدحت میں تری وقف قلم […]