دیدۂ شوقِ ہمیشہ سے ہی نم رکھا ہے

یاد طیبہ میں دعاؤں کو بہم رکھا ہے وہ جگہ رشک گہِ خلد و سماوات ہوئی جس جگہ آپ نے اک بار قدم رکھا ہے مضطرب قلب عجب لطف سے سرشار ہوا یوں لگا دل پہ مرے دستِ کرم رکھا ہے حرف و الفاظ ہوئے محوِ طوافِ قرطاس جب سے مدحت میں تری وقف قلم […]

ہے میری زیست کا حاصل محبت آپ سے آقا

مرے حرف و سخن میں ہے حلاوت آپ سے آقا یہ جو دستِ عطا سے پنج آبی نہریں جاری ہیں ورائے عقل پائی ہے عنایت آپ سے آقا سبھی عشاق ہیں تیار اپنی جان دینے کو ہے ساری عشق و مستی کی حرارت آپ سے آقا ظہورِ نور سے ہیں آپ کے، دونوں جہاں روشن […]

ادنیٰ ہوں میں، عظیم سیادت حسینؓ کی

کیسے بیاں ہو رفعت و عظمت حسینؓ کی صحنِ نبی میں گزرا ہے بچپن حسینؓ کا پشتِ نبی پہ کھیلنا عادت حسینؓ کی فردوس بھی اُسی کی ہے ایماں بھی اُس کی دین رکھی ہے جس نے دل میں محبت حسینؓ کی افضل ہیں بعدِ انبیاء اصحابِ اہلِ بیت اور اُن میں ہے نمایاں فضلیت […]

سنگِ اسود میں بسی ہے خوشبوئے بوسہ تری

اے مہِ کوہِ صفا کیا شان ہے بالا تری لمسِ لب ہائے مبارک سے بڑھی شانِ حجر رشکِ سنگِ خلد ہے وہ بن کے بوسہ گہ تری اس دیارِ رنگ و نکہت میں کھڑا ہوں دم بخود ہے جہاں جائے ولادت اے شہِ والا تری ماورائے فہم ہیں اس شہر کی رعنائیاں خوشبوئے نقشِ کفِ […]

مرکزِ علم و فکر و حقیقت

زیبِ مقامِ کشف و کرامت حاملِ مسندِ عزت و عظمت گوشہ نشیں، در حجرئہ اُلفت ارفع و اعلیٰ فہم و فراست واقفِ رازِ حسنِ بلاغت عالمِ و عاملِ علمِ شریعت زیبائے مسندِ درسِ ہدایت از دمِ اول تا دمِ آخر شیوئہ اطہر، زُہد و عبادت صالح و مصلح قانع و صابر صاحبِ تقویٰ، گنجِ لیاقت […]

تُو مالک تُو مولا تُو رَبِِّ کریم

تُو رحمان و داتا، غفور و رحیم عبادت کے لائق تری ذاتِ پاک ازل سے ابد تک ہے تُو ہی قدیم ترا شکر اے خالقِ بحر و بر دِکھایا ہمیں جادئہ مستقیم کیا تُو نے محبوبؐ ہم کو عطا یہ احسان تیرا ہے کتنا عظیم بچا لے خدایا ہمیں آگ سے عطا کر دے فردوس […]

رحمتِ حق کا خزانہ مل گیا

آپ کا عشقِ یگانہ مل گیا در بدر ہونے کا مجھ کو ڈر نہیں مل گیا مجھ کو ٹھکانہ مل گیا ہم غریبوں ، بے نواؤں کے لئے شاہِ دیں کا آستانہ مل گیا رفعتیں اس کا مقدر ہو گئیں جس کو حرفِ عاجزانہ مل گیا اک زمانہ ہو گیا اُنؓ کا غلام آپ کا […]

تیرے گواہ ہیں سبھی، شام و سحر، شجر حجر

تیرے ہی ذکر میں مگن، برگ ہوں، پھول یا ثمر حمد کو تیری چاہیے ایک حیاتِ جاوداں اور مری حیات ہے لمحوں کی طرح مختصر دشت تحیّر آج بھی پھیلا ہوا ہے ہر طرف اے مرے ربّ تری طرف ہو بھی تو کس طرح سفر؟ تو ہے محیطِ کل تو میں ذَرَّۂ بے عیار ہوں […]