غنچہ و گل میں نہ ہرگز مشک اور عنبر میں ہے
جیسی خوشبو مصطفی کے گیسوئے اطہر میں ہے ہر گھڑی طیبہ کی یادوں میں مگن ہے دل مرا آرزو شہرِ مدینہ کی دلِ مضطر میں ہے کم نہ ہوں گی اب کسی تدبیر سے بے تابیاں اے طبیب ان کا مداوا دیدِ بام و در میں ہے مژدۂ اذنِ حرم سے دیں تسلی زیست کو […]