دل پر مرے احساس نے جو حرف لکھا ہے
ہے تیرے سوا کون کہ جس نے وہ پڑھا ہے تصویر تری کثرتِ جلوہ سے ہے معدوم آئینۂ حیرت ہے کہ آغوش کشا ہے ہر آنکھ ہے رنگوں کی فراوانی سے خیرہ وحدت کا تری بھید کھلا تھا نہ کھلا ہے تو نے ہی تو ہر مرحلۂ شوق میں یارَبّ! اِس چشمِ تماشا کو نیا […]