تمہیؐ سرور تمہیؐ ہو برگزیدہ یارسول اللہؐ

تمہیؐ ہو سب سے پہلے آفریدہ یارسول اللہؐ قرارِ قلب و جاں ،میرا بھروسہ آپؐ ہی تو ہیں مرا مسلک ، یقیں ، ایماں ، عقیدہ یارسول اللہؐ نہیں اوقات میری حیطہء الفاظ میں لاؤں ترےؐ اخلاق ، اوصافِ حمیدہ یارسول اللہؐ کھڑا ہے دست بستہ سنگِ در پر اشکباری کو تراؐ مغموم تیرؐا غم […]

بے چین ہوں مدت سے مجھے چین عطا ہو

بس ایک جھلک سیدِ کونین عطا ہو اے بحرِ عطا بحرِ کرم بحرِ عنایت دو بوند مجھے صدقہء حسنینؓ عطا ہو اک بار ہو پھر پیشِ نظر گنبدِ خضریٰ اک بار زیارت شہِ حرمین عطا ہو دُھل جائے سیاہی مرے اس قلبِ سیہ کی اشکوں کا سمندر مجھے فی العین عطا ہو گھیرا ہے اندھیروں […]

حق ادا نعت کا اے راحتِ جاں کیسے ہو

کیسے ممکن ہے یہ اے جانِ جہاں کیسے ہو نطق ہے عاجز و لاچار زباں لرزیدہ یا نبی آپ کی توصیف بیاں کیسے ہو جب تلک دل پہ نہ اُتریں تری یادوں کے قمر ظلمتِ شب پہ اُجالوں کا گماں کیسے ہو جن کے زخموں پہ لگا اُن کا لعابِ شیریں اُن کے زخموں کا […]

جن و انساں اور قدسی آپ کے مشتاق ہیں

آپ ہیں مطلوبِ عالم، راحتِ عشاق ہیں ہو نہیں سکتے رقم اوصافِ حسنہ بالیقیں آپ ہیں خیر الوریٰ، گنجینہء اخلاق ہیں آپ ہیں کونین میں سب سے حسیں یا سیدی آیتِ ’’فی احسنِ تقویم‘‘ کے مصداق ہیں خالقِ ارض و سماء وصافِ اکبر آپ کا آپ کے نغمہ سرا قرآن کے اوراق ہیں جز نہیں […]

جبینِ شوق بلاوے کے انتظار میں ہے

مری حضوری ترے دستِ اختیار میں ہے کروڑوں چاند ستارے ملا کے ہو نہ سکے جو رنگ و نور مدینے کے ریگزار میں ہے ہمارا جسم ہے ریگِ عجم سے آلودہ ہماری رُوح مگر آپ کے دیار میں ہے جسے تلاش ہے مدت سے تیری چوکھٹ کی وہ ایک سجدہ مری چشمِ اشکبار میں ہے […]

اب شبِ غم اگر نہیں نہ سہی

دامنِ برگ تر نہیں نہ سہی زندہ دارانِ شب کو میری طرح انتظارِ سحر نہیں نہ سہی دشت پیما کے آس پاس اگر کوئی دیوار و در نہیں نہ سہی عام ہے جستجوئے جہلِ خرد شہر میں دیدہ ور نہیں نہ سہی ہر نفس ایک تازیانہ ہے آہ میں کچھ اثر نہیں نہ سہی موت […]

اے جود و عطا ریز

اے مشک و عطر بیز تو جانِ گلستان اے غنچہء نوخیز اک نظرِ کرم سے صحرا ہوئے زرخیز دو بوند ادھر بھی اے ابرِ کرم بیز اقوال ہیں تیرے کونین میں ضوریز کوثر کا عطا ہو پیمانہء لبریز طیبہ میں پہنچ کر دھڑکن بھی ہوئی تیز مدحت تری ارفع اشفاقؔ نوآمیز

ملی ہے محبت حضور آپ کی

بڑی ہے عنایت حضور آپ کی سبھی کے لبوں پر ہے نام آپ کا سبھی کو ہے چاہت حضور آپ کی وہی ہے معزز ہمارے لیے جو کرتا ہے عزت حضور آپ کی دُعا جب بھی مانگی ہے معبود سے تو مانگی ہے قربت حضور آپ کی خدا کے سوا کوئی سمجھا نہیں ہے مخفی […]

یا نبی صلِ علیٰ وردِ زباں ہو جائے

وقفِ مدحت مرا اندازِ بیاں ہو جائے حشر کے روز کڑی دھوپ میں میرے آقا آپ کا قرب مری جائے اماں ہو جائے تھام لوں آپ کی چوکھٹ کو بصد عجز و نیاز آنکھ میں اشک ہوں دل گریہ کناں ہو جائے جسم و جاں ایسے فدا ہوں ترے سنگِ در پر جسم ہو خاک […]